<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 02:44:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 02:44:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>18 سال سے کم عمر لڑکی سے ازدواجی تعلق پر 10 سال قید</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30422937/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ممبئی ہائی کورٹ نے 18 سال سے کم عمر لڑکی سے ازدواجی تعلق کو بھی زنا قرار دے دیا ہے۔ یہ رولنگ ایک ایسے کیس میں دی گئی جس میں لڑکی نے اپنے شوہر کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اُس کی شادی اُس کی مرضی کے خلاف کردی گئی اور ازدواجی تعلق بھی اُس کی مرضی کے بغیر استوار کیا گیا۔ اب وہ اُمید سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بینچ کے جسٹس جی اے سینپ نے اپنی رولنگ میں کہا کہ بھارت کے قانون کے کی رُو سے 18 سال سے کم عمر کی کسی بھی لڑکی سے اُس کی مرضی کے بغیر ازدواجی تعلق زنا ہے پھر چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں شادی کی عمر کے حوالے سے ایک زمانے سے تنازع رہا ہے۔ کئی بھارتی ریاستوں میں شادیاں خاصی چھوٹی عمر میں کردی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/129362"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجستھان اور گجرات میں تو بچوں کی شادی کا رواج بھی پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتی رہی ہیں اور اُن سے مکمل طور پر اب تک نپٹا نہیں جاسکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی سرکار چاہتی ہے کہ یونیفارم سِول کوڈ نافذ کیا جائے یعنی شادی اور طلاق سمیت تمام معاملات میں قوانین سب کے لیے برابر ہوں۔ مذہبی اقلیتوں کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں ملک کے یکساں قانون کو ماننے کے پابند نہیں کیونکہ ہر مذہب میں شادی بیاہ اور طلاق کے حوالے سے اپنا نظام موجود ہے۔ مودی سرکار بضد ہے کہ کوئی بھی مذہبی اقلیت اپنے مذہبی قوانین کے نفاذ پر اصرار نہ کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ممبئی ہائی کورٹ نے 18 سال سے کم عمر لڑکی سے ازدواجی تعلق کو بھی زنا قرار دے دیا ہے۔ یہ رولنگ ایک ایسے کیس میں دی گئی جس میں لڑکی نے اپنے شوہر کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔</strong></p>
<p>لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اُس کی شادی اُس کی مرضی کے خلاف کردی گئی اور ازدواجی تعلق بھی اُس کی مرضی کے بغیر استوار کیا گیا۔ اب وہ اُمید سے ہے۔</p>
<p>ممبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بینچ کے جسٹس جی اے سینپ نے اپنی رولنگ میں کہا کہ بھارت کے قانون کے کی رُو سے 18 سال سے کم عمر کی کسی بھی لڑکی سے اُس کی مرضی کے بغیر ازدواجی تعلق زنا ہے پھر چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ۔</p>
<p>بھارت میں شادی کی عمر کے حوالے سے ایک زمانے سے تنازع رہا ہے۔ کئی بھارتی ریاستوں میں شادیاں خاصی چھوٹی عمر میں کردی جاتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/129362"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>راجستھان اور گجرات میں تو بچوں کی شادی کا رواج بھی پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتی رہی ہیں اور اُن سے مکمل طور پر اب تک نپٹا نہیں جاسکا ہے۔</p>
<p>مودی سرکار چاہتی ہے کہ یونیفارم سِول کوڈ نافذ کیا جائے یعنی شادی اور طلاق سمیت تمام معاملات میں قوانین سب کے لیے برابر ہوں۔ مذہبی اقلیتوں کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں ملک کے یکساں قانون کو ماننے کے پابند نہیں کیونکہ ہر مذہب میں شادی بیاہ اور طلاق کے حوالے سے اپنا نظام موجود ہے۔ مودی سرکار بضد ہے کہ کوئی بھی مذہبی اقلیت اپنے مذہبی قوانین کے نفاذ پر اصرار نہ کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30422937</guid>
      <pubDate>Fri, 15 Nov 2024 18:16:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/15180225c22aba0.webp?r=180727" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/15180225c22aba0.webp?r=180727"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
