<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 20:11:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 20:11:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: اسپتال میں خوفناک آتشزدگی سے 10 نومولود جاں بحق، واقعہ کیسے پیش آیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30423013/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست اتر پردیش کے اسپتال میں خوفناک آتشزدگی سے 10 نوزائیدہ بچے ہلاک ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق جھانسی شہر کے مہالکشمی بائی میڈیکل کالج میں آگ بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ (این آئی سی یو) میں لگی تھی۔ ضلعی مجسٹریٹ نے 10 نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="واقعہ-کیسے-پیش-آیا" href="#واقعہ-کیسے-پیش-آیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;واقعہ کیسے پیش آیا؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جھانسی کے چیف میڈیکل سپرنٹینڈنٹ سچن موہر نے واقعے سے متعلق بتایا کہ حادثہ آکسیجن کنسنٹریٹر کے باعث پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ این آئی سی یو وارڈ میں 54 بچے موجود تھے۔ آکسیجن کنسنٹریٹر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جسے بجھانے کے لیے عملہ مصروف رہا۔ تاہم کمرے میں آکسیجن کی وافر مقدار تھی، اس لیے آگ تیزی سے پھیلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ہم نے تمام بچوں کو بچانے کی بہت کوشش کی اکثر بچوں کو باحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ تاہم 10 بچوں کی نہ بچا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30422950"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر جھانسی کے ضلعی مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ جمعے کی رات شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمشنر اور ڈی آئی جی کی نگرانی میں ایک انکوائری کمیٹی وزیر اعلیٰ کو رپورٹ درج کرائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہاں موجود ایک عینی شاہد نے بتایا کہ میں اندر بچے کے لیے فیڈ دینے گیا تو ایک نرس دوڑتی ہوئی میری طرف آئی اور ان کی ٹانگ پر آگ لگی ہوئی تھی۔ ہم نے 20 بچوں کو باحفاظت نکالا اور نرسوں کے حوالے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں کہ کچھ بچے آکسیجن پر تھے اور کچھ ہی حالت تشویشناک تھی۔ ہم نے بچے اٹھائے اور ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کیے تاکہ انھیں بچایا جاسکے۔ آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی گئی ہے مگر مشینیں اوور ہیٹ ہوچکی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست اتر پردیش کے اسپتال میں خوفناک آتشزدگی سے 10 نوزائیدہ بچے ہلاک ہوگئے۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق جھانسی شہر کے مہالکشمی بائی میڈیکل کالج میں آگ بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ (این آئی سی یو) میں لگی تھی۔ ضلعی مجسٹریٹ نے 10 نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔</p>
<h1><a id="واقعہ-کیسے-پیش-آیا" href="#واقعہ-کیسے-پیش-آیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>واقعہ کیسے پیش آیا؟</h1>
<p>جھانسی کے چیف میڈیکل سپرنٹینڈنٹ سچن موہر نے واقعے سے متعلق بتایا کہ حادثہ آکسیجن کنسنٹریٹر کے باعث پیش آیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ این آئی سی یو وارڈ میں 54 بچے موجود تھے۔ آکسیجن کنسنٹریٹر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جسے بجھانے کے لیے عملہ مصروف رہا۔ تاہم کمرے میں آکسیجن کی وافر مقدار تھی، اس لیے آگ تیزی سے پھیلی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ہم نے تمام بچوں کو بچانے کی بہت کوشش کی اکثر بچوں کو باحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ تاہم 10 بچوں کی نہ بچا سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30422950"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ادھر جھانسی کے ضلعی مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ جمعے کی رات شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی تھی۔</p>
<p>کمشنر اور ڈی آئی جی کی نگرانی میں ایک انکوائری کمیٹی وزیر اعلیٰ کو رپورٹ درج کرائے گی۔</p>
<p>وہاں موجود ایک عینی شاہد نے بتایا کہ میں اندر بچے کے لیے فیڈ دینے گیا تو ایک نرس دوڑتی ہوئی میری طرف آئی اور ان کی ٹانگ پر آگ لگی ہوئی تھی۔ ہم نے 20 بچوں کو باحفاظت نکالا اور نرسوں کے حوالے کیا۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ کچھ بچے آکسیجن پر تھے اور کچھ ہی حالت تشویشناک تھی۔ ہم نے بچے اٹھائے اور ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کیے تاکہ انھیں بچایا جاسکے۔ آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی گئی ہے مگر مشینیں اوور ہیٹ ہوچکی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30423013</guid>
      <pubDate>Sat, 16 Nov 2024 16:24:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/16091036e2e17af.png?r=091243" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/16091036e2e17af.png?r=091243"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ: بھارتی میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
