<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:29:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:29:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل کے فضائی حملے میں ایران کی خفیہ نیوکلئیر تنصیب تباہ، رپورٹ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30423117/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا ایران چپکے چپکے ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے؟ یہ سوال امریکا اور یورپ میں بہت سے قائدین اور حکام کے ذہنوں میں کُلبلاتا رہا ہے۔ ایران کا موقف رہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف ردِ جارحیت کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کا ہونا بنیادی شرط ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور یورپ یہ جاننے کے لیے بے تاب رہے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بناچکا ہے یا نہیں اور اگر نہیں بنائے ہیں تو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت کے کس حد تک نزدیک پہنچ کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کا موقف رہا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے اُس کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب پھر یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی راہ پر کہاں تک جاچکا ہے۔ گزشتہ ماہ اسرائیل نے ایران پر جوابی حملے میں کئی اہم عسکری اور تحقیقی تنصیبات کو تباہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30410378"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب کہا جارہا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق تحقیقی مرکز بھی اسرائیلی حملوں کی زد میں آیا تھا۔ اس تحقیقی مرکز کو ایرانی حکومت نے گزشتہ برس ہی فعال کیا تھا اور وہاں غیر معمولی نوعیت کی سرگرمیاں جاری تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی طیاروں نے جس تحقیقی مرکز کو نقصان پہنچایا ہے وہ کبھی ایٹمی ہتھیار بنانے کے ایرانی پروگرام کا حصہ تھا۔ 2003 میں یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ ایران کے وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا مگر امریکا اور اسرائیل یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیا ایران چپکے چپکے ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے؟ یہ سوال امریکا اور یورپ میں بہت سے قائدین اور حکام کے ذہنوں میں کُلبلاتا رہا ہے۔ ایران کا موقف رہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف ردِ جارحیت کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کا ہونا بنیادی شرط ہے۔</strong></p>
<p>امریکا اور یورپ یہ جاننے کے لیے بے تاب رہے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بناچکا ہے یا نہیں اور اگر نہیں بنائے ہیں تو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت کے کس حد تک نزدیک پہنچ کا ہے۔</p>
<p>اسرائیل کا موقف رہا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے اُس کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگا۔</p>
<p>اب پھر یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی راہ پر کہاں تک جاچکا ہے۔ گزشتہ ماہ اسرائیل نے ایران پر جوابی حملے میں کئی اہم عسکری اور تحقیقی تنصیبات کو تباہ کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30410378"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اب کہا جارہا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق تحقیقی مرکز بھی اسرائیلی حملوں کی زد میں آیا تھا۔ اس تحقیقی مرکز کو ایرانی حکومت نے گزشتہ برس ہی فعال کیا تھا اور وہاں غیر معمولی نوعیت کی سرگرمیاں جاری تھیں۔</p>
<p>اسرائیلی طیاروں نے جس تحقیقی مرکز کو نقصان پہنچایا ہے وہ کبھی ایٹمی ہتھیار بنانے کے ایرانی پروگرام کا حصہ تھا۔ 2003 میں یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ ایران کے وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا مگر امریکا اور اسرائیل یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30423117</guid>
      <pubDate>Sat, 16 Nov 2024 19:36:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/16180412de97551.webp?r=180625" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/16180412de97551.webp?r=180625"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
