<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:37:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:37:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں ’ایکس‘ کے بعد نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’بلیو اسکائی‘ بھی بند؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30424005/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوشل میڈیا پورٹل ایکس کے متبادل کے طور پر اپنائے جانے والے پلیٹ فارم بلیو اسکائی کو بھی پاکستان میں بند کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ صارفین نے بتایا ہے کہ بلیو اسکائی وی پی این کے بغیر نہیں چل پارہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو ایک سوشل میڈیا صارف سید زاہد عباس نے ایکس پر لکھا ’مبارک ہو پاکستانیو! وطن عزیر میں  بلیو اسکائی کو بھی فتح کرلیا گیا ہے۔ وی پی این کے بغیر اڑان نہیں بھری جارہی۔ اب کوئی رہ تو نہیں گیا فتح کرنے والا؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/11/202048043ad18df.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے اب بلیو اسکائی پر بھی پابندی لگادی ہے۔ ملک میں سیکیورٹی کے اتنے مسائل ہیں مگر صرف سوشل میڈیا ایپس بند کی جارہی ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/11/202048209f57824.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی دیگر صارفین نے بھی بلیو اسکائی کے وی پی این کے بغیر نہ چلنے کی اطلاع دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/11/20204912ceb453a.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان میں کئی ماہ سے ایکس تک رسائی میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وی پی این کے بغیر سوشل نیٹ ورکنگ کی اس ویب سائٹ تک پہنچنا ممکن نہیں ہو پارہا۔ حکومتی بیانات میں ایکس کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ عدالتی کارروائی کے باوجود حکومت نے ایکس کو بحال نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30421362"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت میں وزارتِ داخلہ کی طرف سے جمع کرائے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایکس پر قومی و ریاستی اداروں کے خلاف منافرت آمیز مواد اپ لوڈ کیا جاتا رہا ہے۔ وزارتِ داخلہ کا موقف رہا ہے کہ قومی سلامتی یقینی بنائے رکھنے کے لیے ایکس پر پابندی کے سوا چارہ نہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے غیر قانونی وی پی اینز کے خلاف بھی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن پاشا کہتے ہیں پی ٹی اے نے وی این پیز کی رجسٹریشن کے لیے 30 نومبر تک کا وقت دیا ہے۔ اس کے بعد غیر رجسٹرڈ وی پی این بند کردیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30373769"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیو اسکائی بھی ایکس جیسا دکھائی دیتا ہے۔ نوٹیفکیشن، سرچ اور دیگر آپشن ویسے ہیں۔ بلیو اسکائی پر بھی صارف ایکس کی طرح پوسٹ کرسکتے ہیں اور ان پر فالوئرز کی طرف سے لائیک، کمنٹس اور شیئرنگ کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیو اسکائی کو بھی سابق ٹوئٹر کے بانی جیک ڈارسی ہی نے 2019 ہی میں تیار کیا تھا۔ صارفین بلیو اسکائی استعمال کرتے ہوئے اپنا ڈیٹا اپنے ہی سرورز پر محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اپنے قواعد لوگوں کرنے کا آپشن اِسے منفرد بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیو اسکائی کو ابتدا میں زیادہ مقبولیت نہیں ملی تھی۔ ابتدا میں اِسے ’انوائٹ اونلی‘ پلیٹ فارم کے طور پر چلایا گیا۔ فروری 2024 میں اِسے عام صارفین کے لیے کھول دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30409254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاں جہاں ایکس پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں وہاں وہاں بلیو اسکائی کی مقبولیت بڑھی ہے۔ برازیل میں بھی ایکس پر پابندی کے دوران بلیو اسکائی کے صارفین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیو اسکائی کی مقبولیت بڑھانے میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کی دوستی نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ بالی وڈ اسٹارز سمیت دنیا بھر میں بہت سی مشہور شخصیات اب ایکس سے الگ ہوچکی ہیں۔ پاکستان میں بھی ایکس پر بندش نے بلیو اسکائی کو مقبولیت دلائی ہے۔ اب حکومت نے بلیو اسکائی کو بھی اس قابل نہیں چھوڑا کہ وی پی این کے بغیر چلایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30423603"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بلیو اسکائی کا کہنا ہے کہ نومبر کے وسط تک اس کے صارفین کی تعداد ڈیڑھ کروڑ ہوچکی تھی جبکہ اکتوبر کے آخر تک یہ تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس کو بند کیے جانے سے بلیو اسکائی کی مقبولیت بڑھی ہے اور ساتھ ہی چند دوسرے سوشل میڈیا پورٹلز کے صارفین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومتیں مخالفین کو کنٹرول کرنے کے لیے سوشل میڈیا ایپس کے خلاف بھی کارروائیاں کر رہی ہیں جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوشل میڈیا پورٹل ایکس کے متبادل کے طور پر اپنائے جانے والے پلیٹ فارم بلیو اسکائی کو بھی پاکستان میں بند کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ صارفین نے بتایا ہے کہ بلیو اسکائی وی پی این کے بغیر نہیں چل پارہا۔</strong></p>
<p>منگل کو ایک سوشل میڈیا صارف سید زاہد عباس نے ایکس پر لکھا ’مبارک ہو پاکستانیو! وطن عزیر میں  بلیو اسکائی کو بھی فتح کرلیا گیا ہے۔ وی پی این کے بغیر اڑان نہیں بھری جارہی۔ اب کوئی رہ تو نہیں گیا فتح کرنے والا؟‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/11/202048043ad18df.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے اب بلیو اسکائی پر بھی پابندی لگادی ہے۔ ملک میں سیکیورٹی کے اتنے مسائل ہیں مگر صرف سوشل میڈیا ایپس بند کی جارہی ہیں۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/11/202048209f57824.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>کئی دیگر صارفین نے بھی بلیو اسکائی کے وی پی این کے بغیر نہ چلنے کی اطلاع دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/11/20204912ceb453a.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ پاکستان میں کئی ماہ سے ایکس تک رسائی میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وی پی این کے بغیر سوشل نیٹ ورکنگ کی اس ویب سائٹ تک پہنچنا ممکن نہیں ہو پارہا۔ حکومتی بیانات میں ایکس کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ عدالتی کارروائی کے باوجود حکومت نے ایکس کو بحال نہیں کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30421362"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت میں وزارتِ داخلہ کی طرف سے جمع کرائے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایکس پر قومی و ریاستی اداروں کے خلاف منافرت آمیز مواد اپ لوڈ کیا جاتا رہا ہے۔ وزارتِ داخلہ کا موقف رہا ہے کہ قومی سلامتی یقینی بنائے رکھنے کے لیے ایکس پر پابندی کے سوا چارہ نہ تھا۔</p>
<p>پی ٹی اے نے غیر قانونی وی پی اینز کے خلاف بھی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن پاشا کہتے ہیں پی ٹی اے نے وی این پیز کی رجسٹریشن کے لیے 30 نومبر تک کا وقت دیا ہے۔ اس کے بعد غیر رجسٹرڈ وی پی این بند کردیے جائیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30373769"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بلیو اسکائی بھی ایکس جیسا دکھائی دیتا ہے۔ نوٹیفکیشن، سرچ اور دیگر آپشن ویسے ہیں۔ بلیو اسکائی پر بھی صارف ایکس کی طرح پوسٹ کرسکتے ہیں اور ان پر فالوئرز کی طرف سے لائیک، کمنٹس اور شیئرنگ کی جاسکتی ہے۔</p>
<p>بلیو اسکائی کو بھی سابق ٹوئٹر کے بانی جیک ڈارسی ہی نے 2019 ہی میں تیار کیا تھا۔ صارفین بلیو اسکائی استعمال کرتے ہوئے اپنا ڈیٹا اپنے ہی سرورز پر محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اپنے قواعد لوگوں کرنے کا آپشن اِسے منفرد بناتا ہے۔</p>
<p>بلیو اسکائی کو ابتدا میں زیادہ مقبولیت نہیں ملی تھی۔ ابتدا میں اِسے ’انوائٹ اونلی‘ پلیٹ فارم کے طور پر چلایا گیا۔ فروری 2024 میں اِسے عام صارفین کے لیے کھول دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30409254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاں جہاں ایکس پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں وہاں وہاں بلیو اسکائی کی مقبولیت بڑھی ہے۔ برازیل میں بھی ایکس پر پابندی کے دوران بلیو اسکائی کے صارفین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔</p>
<p>بلیو اسکائی کی مقبولیت بڑھانے میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کی دوستی نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ بالی وڈ اسٹارز سمیت دنیا بھر میں بہت سی مشہور شخصیات اب ایکس سے الگ ہوچکی ہیں۔ پاکستان میں بھی ایکس پر بندش نے بلیو اسکائی کو مقبولیت دلائی ہے۔ اب حکومت نے بلیو اسکائی کو بھی اس قابل نہیں چھوڑا کہ وی پی این کے بغیر چلایا جاسکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30423603"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بلیو اسکائی کا کہنا ہے کہ نومبر کے وسط تک اس کے صارفین کی تعداد ڈیڑھ کروڑ ہوچکی تھی جبکہ اکتوبر کے آخر تک یہ تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ تھی۔</p>
<p>ایکس کو بند کیے جانے سے بلیو اسکائی کی مقبولیت بڑھی ہے اور ساتھ ہی چند دوسرے سوشل میڈیا پورٹلز کے صارفین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومتیں مخالفین کو کنٹرول کرنے کے لیے سوشل میڈیا ایپس کے خلاف بھی کارروائیاں کر رہی ہیں جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30424005</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Nov 2024 20:49:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/2020252452363fe.webp?r=203712" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/2020252452363fe.webp?r=203712"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
