<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:08:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:08:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی احتجاج میں دہشتگردی کا بڑا خطرہ، نیکٹا کی وارننگ جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30424572/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پی ٹی آئی کے احٹجاج کے موقع پر فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کے منصوبے کا انکشاف ہوا ہے، مختلف سکیورٹی ذرائع نے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی تصدیق کی ہے، نیکٹا نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے افغانستان  سے پاکستان میں داخل ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیکٹا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ  19 اور20 نومبر کی درمیانی  شب فتنہ خوارج کے دہشت گردوں کے  پاک افغان بارڈر پار کرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30424523/"&gt;پی ٹی آئی احتجاج میں ایک روز باقی: محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے دو بار رابطہ، وزارت داخلہ کی تردید&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیکٹا نے بتایا کہ فتنہ الخوارج کے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کی مختلف بڑے شہروں میں موجودگی کی اطلاعات ہیں، حکام نے فتنہ الخوارج کے خطرے کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایات کی ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30424373"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیکٹا نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30424385/"&gt;24 نومبر کو پی ٹی آئی کا احتجاج&lt;/a&gt; کے دن بھی  دہشت گردی کا واقعہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30424496/"&gt;بشریٰ بی بی کا احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ، علی امین گنڈاپور لیڈ کریں گے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فتنہ الخوارج بڑےشہروں میں کارروائیاں کرسکتےہیں، نیکٹا نے صوبائی حکومتوں کو فوری سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزارت داخلہ خیبرپختونخوا نے  بھی تھریٹ الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خارجی دہشت گردوں کی عوامی اجتماع پر حملے کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق خارجی عوامی اجتماع پر خودکش دھماکا کرسکتے ہیں،  پی ٹی آئی کے اجتماع پر حملے کا مقصدعوام میں افراتفری پیدا کرنا ہے، خودکش حملہ آوروں کے حوالے سے مزید معلومات نہیں ملی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پی ٹی آئی کے احٹجاج کے موقع پر فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کے منصوبے کا انکشاف ہوا ہے، مختلف سکیورٹی ذرائع نے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی تصدیق کی ہے، نیکٹا نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے افغانستان  سے پاکستان میں داخل ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔</strong></p>
<p>نیکٹا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ  19 اور20 نومبر کی درمیانی  شب فتنہ خوارج کے دہشت گردوں کے  پاک افغان بارڈر پار کرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30424523/">پی ٹی آئی احتجاج میں ایک روز باقی: محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے دو بار رابطہ، وزارت داخلہ کی تردید</a></strong></p>
<p>نیکٹا نے بتایا کہ فتنہ الخوارج کے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کی مختلف بڑے شہروں میں موجودگی کی اطلاعات ہیں، حکام نے فتنہ الخوارج کے خطرے کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایات کی ہے ۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30424373"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نیکٹا نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ <a href="https://www.aaj.tv/news/30424385/">24 نومبر کو پی ٹی آئی کا احتجاج</a> کے دن بھی  دہشت گردی کا واقعہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30424496/">بشریٰ بی بی کا احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ، علی امین گنڈاپور لیڈ کریں گے</a></strong></p>
<p>فتنہ الخوارج بڑےشہروں میں کارروائیاں کرسکتےہیں، نیکٹا نے صوبائی حکومتوں کو فوری سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وزارت داخلہ خیبرپختونخوا نے  بھی تھریٹ الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خارجی دہشت گردوں کی عوامی اجتماع پر حملے کا منصوبہ ہے۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق خارجی عوامی اجتماع پر خودکش دھماکا کرسکتے ہیں،  پی ٹی آئی کے اجتماع پر حملے کا مقصدعوام میں افراتفری پیدا کرنا ہے، خودکش حملہ آوروں کے حوالے سے مزید معلومات نہیں ملی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30424572</guid>
      <pubDate>Sat, 23 Nov 2024 20:06:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/2316325875126aa.webp?r=174126" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/2316325875126aa.webp?r=174126"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/b4IbQIC-R-M/maxresdefault.jpg?r=174126" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/b4IbQIC-R-M/mqdefault.jpg?r=174126"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=b4IbQIC-R-M"/>
        <media:title>Fitna al-Khawarij terror plan, instructions to tighten security - Breaking News - Aaj News
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
