<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:05:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:05:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر مل گئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30425480/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر موصول ہوگئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے یہ رقم موسمی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے نپٹنے کے لیے قرضے کی شکل میں بھیجی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک بیان میں کہا کہ اس رقم کی وصولی سے زرِمبادلہ کے ذخائر میں معتدبہ اضافہ ہوگا۔ یہ رقم کلائمیٹ چینج اینڈ ڈزاسٹر ریزیلینس انہینسمنٹ پروگرام (سی ڈی آر ای پی) کے تحت ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک نے 28 اکتوبر 2024 کو اس قرضے کی منظوری دی تھی۔ سی ڈی آر ای پی سے پاکستان میں موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نپٹنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30419523"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک نے اس پروگرام کے نفاذ کے لیے مزید 10 لاکھ ڈالر کی بھی منظوری دی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا شمار اُن ملکوں میں ہوتا ہے جو ماحول کی گراوٹ کے نتیجے میں پیدا ہونے انتہائی نوعیت کی موسمی تبدیلیوں کے نشانے پر ہیں۔ اس کے نتیجے میں سالانہ 2 ارب ڈالر تک کا نقصان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک نے ماہِ رواں کے اوائل میں کہا تھا کہ 2024 میں اُس کے پاس پاکستان کے لیے 7 منصوبے ہیں جبکہ آئندہ برس 16 منصوبے رکھے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر موصول ہوگئے ہیں۔</strong></p>
<p>ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے یہ رقم موسمی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے نپٹنے کے لیے قرضے کی شکل میں بھیجی گئی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک بیان میں کہا کہ اس رقم کی وصولی سے زرِمبادلہ کے ذخائر میں معتدبہ اضافہ ہوگا۔ یہ رقم کلائمیٹ چینج اینڈ ڈزاسٹر ریزیلینس انہینسمنٹ پروگرام (سی ڈی آر ای پی) کے تحت ملی ہے۔</p>
<p>ایشیائی ترقیاتی بینک نے 28 اکتوبر 2024 کو اس قرضے کی منظوری دی تھی۔ سی ڈی آر ای پی سے پاکستان میں موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نپٹنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30419523"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایشیائی ترقیاتی بینک نے اس پروگرام کے نفاذ کے لیے مزید 10 لاکھ ڈالر کی بھی منظوری دی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا شمار اُن ملکوں میں ہوتا ہے جو ماحول کی گراوٹ کے نتیجے میں پیدا ہونے انتہائی نوعیت کی موسمی تبدیلیوں کے نشانے پر ہیں۔ اس کے نتیجے میں سالانہ 2 ارب ڈالر تک کا نقصان ہوتا ہے۔</p>
<p>ایشیائی ترقیاتی بینک نے ماہِ رواں کے اوائل میں کہا تھا کہ 2024 میں اُس کے پاس پاکستان کے لیے 7 منصوبے ہیں جبکہ آئندہ برس 16 منصوبے رکھے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30425480</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Nov 2024 23:24:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/282321063160ade.webp?r=232410" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/282321063160ade.webp?r=232410"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
