<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:12:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:12:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین میں دنیا کا سب سے بڑا سونے کا ذخیرہ دریافت، کئی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30425547/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کا سب سے بڑا سونے کا ذخیرہ چین میں دریافت ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسطی چین کے صوبہ ہنان میں دنیا کا سب سے بڑا سونے کا ذخیرہ دریافت ہوا ہے۔ اس میں تقریباً ایک ہزار میٹرک ٹن اعلیٰ معیار کے گولڈ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ اس دریافت کی تصدیق صوبہ ہنان کے جیولوجیکل بیورو نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق سونے کے اس ذخائر کی مالیت تقریباً 83 ارب امریکی ڈالرز سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ سونے کی اس بڑی دریافت نے جنوبی افریقہ میں ایک کان میں پائے جانے والے 930 میٹرک ٹن کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کان میں 2 کلومیٹر کی گہرائی میں تقریباً 300 میٹرک ٹن سونا ہونے کا معلوم ہوا ہے جبکہ یہاں زیادہ گہرائی میں مزید ذخائر ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30420750"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ دریافت چین کی سونے کی صنعت کے لیے ایک بڑا سودا ہے اور اس سے چین کی معیشت کو فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائننگ ٹیکنالوجی کے مطابق چینی سونے کے ذخائر کی دریافت سے قبل دنیا میں سونے کے سب سے بڑے ذخائر جنوبی افریقا، انڈونیشیا، روس، چلی، امریکا اور دیگر ممالک میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کا سب سے بڑا سونے کا ذخیرہ چین میں دریافت ہوا ہے۔</strong></p>
<p>وسطی چین کے صوبہ ہنان میں دنیا کا سب سے بڑا سونے کا ذخیرہ دریافت ہوا ہے۔ اس میں تقریباً ایک ہزار میٹرک ٹن اعلیٰ معیار کے گولڈ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ اس دریافت کی تصدیق صوبہ ہنان کے جیولوجیکل بیورو نے کی۔</p>
<p>چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق سونے کے اس ذخائر کی مالیت تقریباً 83 ارب امریکی ڈالرز سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ سونے کی اس بڑی دریافت نے جنوبی افریقہ میں ایک کان میں پائے جانے والے 930 میٹرک ٹن کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p>مقامی میڈیا کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کان میں 2 کلومیٹر کی گہرائی میں تقریباً 300 میٹرک ٹن سونا ہونے کا معلوم ہوا ہے جبکہ یہاں زیادہ گہرائی میں مزید ذخائر ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30420750"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ دریافت چین کی سونے کی صنعت کے لیے ایک بڑا سودا ہے اور اس سے چین کی معیشت کو فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>مائننگ ٹیکنالوجی کے مطابق چینی سونے کے ذخائر کی دریافت سے قبل دنیا میں سونے کے سب سے بڑے ذخائر جنوبی افریقا، انڈونیشیا، روس، چلی، امریکا اور دیگر ممالک میں موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30425547</guid>
      <pubDate>Fri, 29 Nov 2024 11:39:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/291139216a219dc.png?r=113957" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/291139216a219dc.png?r=113957"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
