<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 00:32:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 00:32:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا واقعی گھر میں رکھا وائی فائی راؤٹر جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30425750/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیٹ کا استعمال آج کل ہر کوئی کرتا ہے جس کے لیے صارفین اپنے گھروں میں وائی فائی راؤٹرز انسٹال کرتے ہیں اور دن رات جب دل چاہے انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر کیا 24 گھنٹے وائی فائی راؤٹرز کا چلتے رہنا اسے خطرناک بنا سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ وائی فائی راؤٹر شدید گرم ہونے سے ان کے گھر میں آگ لگ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کیونا ہنٹلی نامی خاتون نے ٹک ٹاک ایپ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے اپنے گھر کے نقصان کو دکھایا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ آگ ان کے بیڈ روم میں لگی جہاں راؤٹر موجود تھا۔ انہیں کئی روز سے وائی فائی راؤٹر کے ساتھ مسائل کا سامنا تھا اور ایک ٹیکنیشن ٹھیک کرنے کی کوشش کرنے کے لیے کئی بار ان کے گھر جا چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں نیا راؤٹر خریدنے کے بعد خاتون کو تاحال انٹرنیٹ کی پریشانی کا سامنا رہا اور انہیں دوبارہ مدد کے لیے فون کرنا پڑا۔ اپنی ویڈیو میں وہ آگ سے ہونے والے نقصان کو دکھاتی ہے جس نے پوا گھر راکھ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386971"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر کی مالک خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے پورا گھر تہس نہس ہوگیا، ان کا خاندان اب عارضی رہائش اور ضروری اشیاء کی تلاش میں ہے۔ ہمارے گھر کا یہ حال ہوگا ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/11/3012241113c4c3e.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون نے اس بات پر زور دیتے ہوئے شبہ ظاہر کیا کہ گھر میں آگ وائی فائی راؤٹر کی وجہ سے لگی، حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔اس بات کا پتہ لگایا جارہا ہے کہ آیا راؤٹر میں خرابی تھی یا پھر آگ کی وجہ کوئی اور چیز بنی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیٹ کا استعمال آج کل ہر کوئی کرتا ہے جس کے لیے صارفین اپنے گھروں میں وائی فائی راؤٹرز انسٹال کرتے ہیں اور دن رات جب دل چاہے انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔</strong></p>
<p>مگر کیا 24 گھنٹے وائی فائی راؤٹرز کا چلتے رہنا اسے خطرناک بنا سکتا ہے؟</p>
<p>امریکی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ وائی فائی راؤٹر شدید گرم ہونے سے ان کے گھر میں آگ لگ گئی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق کیونا ہنٹلی نامی خاتون نے ٹک ٹاک ایپ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے اپنے گھر کے نقصان کو دکھایا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ آگ ان کے بیڈ روم میں لگی جہاں راؤٹر موجود تھا۔ انہیں کئی روز سے وائی فائی راؤٹر کے ساتھ مسائل کا سامنا تھا اور ایک ٹیکنیشن ٹھیک کرنے کی کوشش کرنے کے لیے کئی بار ان کے گھر جا چکا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں نیا راؤٹر خریدنے کے بعد خاتون کو تاحال انٹرنیٹ کی پریشانی کا سامنا رہا اور انہیں دوبارہ مدد کے لیے فون کرنا پڑا۔ اپنی ویڈیو میں وہ آگ سے ہونے والے نقصان کو دکھاتی ہے جس نے پوا گھر راکھ کر دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386971"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گھر کی مالک خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے پورا گھر تہس نہس ہوگیا، ان کا خاندان اب عارضی رہائش اور ضروری اشیاء کی تلاش میں ہے۔ ہمارے گھر کا یہ حال ہوگا ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/11/3012241113c4c3e.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>خاتون نے اس بات پر زور دیتے ہوئے شبہ ظاہر کیا کہ گھر میں آگ وائی فائی راؤٹر کی وجہ سے لگی، حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔اس بات کا پتہ لگایا جارہا ہے کہ آیا راؤٹر میں خرابی تھی یا پھر آگ کی وجہ کوئی اور چیز بنی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30425750</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Nov 2024 12:28:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/3012205425ab5a7.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/3012205425ab5a7.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
