<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:52:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:52:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2016 کے بعد پہلی بار حلب پر صدر بشارالاسد کے مخالفین کا قبضہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30425843/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شام میں جاری لڑائی پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اور اس کے اتحادیوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر حلب کے بیشتر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2016 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حلب پر سرکاری فوج کا کنٹرول ختم ہوچلا ہے۔ جھڑپیں جاری ہیں اور روسی لڑاکا طیاروں نے حلب کے کئی علاقوں پر حملے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے محققین جنگ سے تباہ حال شام کے متعدد علاقوں میں تعینات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو شامل میں القاعدہ کی سابق شاخ سے تعلق رکھنے والوں پر مشتمل ایک جہادی اتحاد تحریرالشام اور اس کے حلیف دھڑوں نے حلب کے بیشتر اور اہم ترین علاقو پر قبضہ کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/37151"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات ملی ہیں کہ حلب کے گورنر، پولیس کی لیڈرشپ اور سیکیورٹی برانچز شہر کے وسط سے نکل گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر میں تعینات سرکاری فوج اور کمک نکل بھاگی ہے۔ ایک صحافی نے بتایا کہ سرکاری فورسز چپ چاپ نکل گئیں، زیادہ خون خرابہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے نے شامی فوج کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتھارٹیز نے حلف کا ایئر پورٹ بند کردیا ہے۔ شہر کی طرف آنے والے تمام راستے بند کردیے گئے ہیں۔ لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شام میں جاری لڑائی پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اور اس کے اتحادیوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر حلب کے بیشتر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>2016 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حلب پر سرکاری فوج کا کنٹرول ختم ہوچلا ہے۔ جھڑپیں جاری ہیں اور روسی لڑاکا طیاروں نے حلب کے کئی علاقوں پر حملے کیے ہیں۔</p>
<p>دی سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے محققین جنگ سے تباہ حال شام کے متعدد علاقوں میں تعینات ہیں۔</p>
<p>ہفتے کو شامل میں القاعدہ کی سابق شاخ سے تعلق رکھنے والوں پر مشتمل ایک جہادی اتحاد تحریرالشام اور اس کے حلیف دھڑوں نے حلب کے بیشتر اور اہم ترین علاقو پر قبضہ کرلیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/37151"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اطلاعات ملی ہیں کہ حلب کے گورنر، پولیس کی لیڈرشپ اور سیکیورٹی برانچز شہر کے وسط سے نکل گئے ہیں۔</p>
<p>شہر میں تعینات سرکاری فوج اور کمک نکل بھاگی ہے۔ ایک صحافی نے بتایا کہ سرکاری فورسز چپ چاپ نکل گئیں، زیادہ خون خرابہ نہیں ہوا۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے نے شامی فوج کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتھارٹیز نے حلف کا ایئر پورٹ بند کردیا ہے۔ شہر کی طرف آنے والے تمام راستے بند کردیے گئے ہیں۔ لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30425843</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Nov 2024 22:36:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/302227488155430.webp?r=223009" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/302227488155430.webp?r=223009"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
