<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:46:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:46:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک نے بیوٹی فلٹرز پر پابندی عائد کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30425860/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شارٹ ویڈیوز کی معروف ترین ویب سائٹ ٹک ٹاک نے بیوٹی فلٹرز کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ ادارے نے اعلان کیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر صارفین اب فلٹرز استعمال کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک سے استفادہ کرنے والے اپنی ویڈیوز اور تصویروں کو زیادہ خوبصورت دکھانے کے لیے بیوٹی فلٹرز استعمال کرتے ہیں۔ یہ خبر اُن کے لیے خاصی مایوس کن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک پر ہر عمر کے لوگوں کے لیے الگ اور خاص بیوٹی فلٹرز دستیاب ہیں  اور ان کے استعمال کے باعث ایپ کو تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے اپنی ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے لیے بیوٹی فلٹرز خوب استعمال کرتے رہے ہیں۔ چہرہ بدل دینے والے ایفیکٹس انسان کو کچھ کا کچھ بناکر پیش کردیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30425512"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک کو خصوصی طور پر کم عمر بچوں کے لیے متنازع اور مصنوعی طریقے سے خوبصورتی بڑھانے کے فلٹرز کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک کے ترجمان نے بتایا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں 18 سال سے کم عمر صارفین چہرے کو بدلنے والے ایفیکٹس استعمال نہیں کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام بچوں اور ٹین ایجرز کی ذہنی صحت کو محفوظ رکھنا ہے۔ بیوٹی فلٹرز عام طور پر جلد کی ساخت کو ہموار اور ٓنکھوں کو بڑا یا ناک کو پتلا دکھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شارٹ ویڈیوز کی معروف ترین ویب سائٹ ٹک ٹاک نے بیوٹی فلٹرز کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ ادارے نے اعلان کیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر صارفین اب فلٹرز استعمال کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔</strong></p>
<p>ٹک ٹاک سے استفادہ کرنے والے اپنی ویڈیوز اور تصویروں کو زیادہ خوبصورت دکھانے کے لیے بیوٹی فلٹرز استعمال کرتے ہیں۔ یہ خبر اُن کے لیے خاصی مایوس کن ہے۔</p>
<p>ٹک ٹاک پر ہر عمر کے لوگوں کے لیے الگ اور خاص بیوٹی فلٹرز دستیاب ہیں  اور ان کے استعمال کے باعث ایپ کو تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑا ہے۔</p>
<p>بچے اپنی ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے لیے بیوٹی فلٹرز خوب استعمال کرتے رہے ہیں۔ چہرہ بدل دینے والے ایفیکٹس انسان کو کچھ کا کچھ بناکر پیش کردیتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30425512"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ٹک ٹاک کو خصوصی طور پر کم عمر بچوں کے لیے متنازع اور مصنوعی طریقے سے خوبصورتی بڑھانے کے فلٹرز کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>ٹک ٹاک کے ترجمان نے بتایا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں 18 سال سے کم عمر صارفین چہرے کو بدلنے والے ایفیکٹس استعمال نہیں کرسکیں گے۔</p>
<p>یہ اقدام بچوں اور ٹین ایجرز کی ذہنی صحت کو محفوظ رکھنا ہے۔ بیوٹی فلٹرز عام طور پر جلد کی ساخت کو ہموار اور ٓنکھوں کو بڑا یا ناک کو پتلا دکھاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30425860</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Nov 2024 23:57:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/302355406be8cad.webp?r=235757" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/302355406be8cad.webp?r=235757"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
