<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:45:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:45:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ناقص تفتیش کی وجہ سے تکنیکی بنیاد پر شک کا فائدہ ملزمان کو دینا پڑتا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30426526/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ جج کو ناقص تفتیش کی وجہ سے تکنیکی بنیاد پر شک کا فائدہ ملزمان کو دینا پڑتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں میڈیکو لیگل قانون، اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت  پر قومی مکالمے کے عنوان سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ دنیا میں چیزیں تبدیل ہو گئی ہیں لیکن ہم ابھی وہیں کھڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پوری  دنیا میں فرانزک کے لوگ پولیس ڈیپارٹمنٹ سے الگ سے ہیں۔ فرانزک ڈیپارٹمنٹ کو پولیس سے بالکل الگ کرنا پڑے گا۔ قتل کے ایک کیس میں لیڈی ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایک انجری بھی نہیں لکھی۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ آپ ایک الگ سے قانون بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30426518"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اسلام آباد کی آبادی شاید 4.5 ملین ہے 72 ججز ہیں اور 54 ہزار کیسز زیر التوا ہیں۔ پنجاب فرانزک ایجنسی اس وقت ایک بہترین مثال ہے۔ اس کی بہترین مثال  گجرانوالہ موٹر وے ریپ کیس تھا، جس کے ذریعے ملزم کو پکڑا گیا۔ اسلام آباد میں 22 سال سے فرانزک لیبارٹری التوا کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پوری دنیا تفتیش کے حوالے سے کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم آج بھی پرانی پوزیشن پر کھڑے ہیں۔ ہمارے ملک میں تفتیشی کو آج بھی جائے وقوعہ لکھنا نہیں آتا۔ جب کیس درست تیار نہیں ہوتا تو شک کا فائدہ تکنیکی بنیادوں پر ملزمان کو ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے فرانزک کا عملہ ہمیشہ پولیس سے الگ ہوتا ہے، مگر ہمارے ابھی تک ایسا نہیں ہوسکا۔ 22 سال سے اسلام آباد فرانزک اتھارٹی بنی ہوئی ہے مگر جو کرنے کا کام تھا وہ نہیں کیا۔ جج کو تکنیکی بنیاد پر شک کا فائدہ ملزمان کو دینا پڑتا ہے، مگر متاثرہ خاتون یا مرد کو نقصان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز مختلف وجوہات کی بنا پر ضربات (انجریز) نہیں لکھتے۔ اسلام آباد میں دو اسپتال ہیں ڈاکٹرز کی تعداد کم ہے۔ ڈاکٹرز کی تعداد کم ہونے کا کہہ کر میڈیکل سرٹیفکیٹ درست نہیں بنایا جاتا۔ پنجاب فرانزک لیب کا ڈیٹا اسلام آباد فرانزک لیب سے کہیں بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30426488"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پنجاب فرانزک نے زینب کیس اور موٹروے زیادتی کیس کو ثابت کرنے میں اہم کردارادا کیا۔ اسلام آباد کے دونوں اسپتالوں میں شدید ترین رش ہے،  اسلام آباد میں مزید اسپتال چاہئیں۔ میڈیکو لیگل سے متعلق ڈاکٹرز الگ ہونے چاہییں۔ ڈاکٹرز کی عدالتی مقدمات کے تناظر میں تربیت ہونی چاہیئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ جج کو ناقص تفتیش کی وجہ سے تکنیکی بنیاد پر شک کا فائدہ ملزمان کو دینا پڑتا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان میں میڈیکو لیگل قانون، اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت  پر قومی مکالمے کے عنوان سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ دنیا میں چیزیں تبدیل ہو گئی ہیں لیکن ہم ابھی وہیں کھڑے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پوری  دنیا میں فرانزک کے لوگ پولیس ڈیپارٹمنٹ سے الگ سے ہیں۔ فرانزک ڈیپارٹمنٹ کو پولیس سے بالکل الگ کرنا پڑے گا۔ قتل کے ایک کیس میں لیڈی ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایک انجری بھی نہیں لکھی۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ آپ ایک الگ سے قانون بنائیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30426518"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اسلام آباد کی آبادی شاید 4.5 ملین ہے 72 ججز ہیں اور 54 ہزار کیسز زیر التوا ہیں۔ پنجاب فرانزک ایجنسی اس وقت ایک بہترین مثال ہے۔ اس کی بہترین مثال  گجرانوالہ موٹر وے ریپ کیس تھا، جس کے ذریعے ملزم کو پکڑا گیا۔ اسلام آباد میں 22 سال سے فرانزک لیبارٹری التوا کا شکار ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پوری دنیا تفتیش کے حوالے سے کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم آج بھی پرانی پوزیشن پر کھڑے ہیں۔ ہمارے ملک میں تفتیشی کو آج بھی جائے وقوعہ لکھنا نہیں آتا۔ جب کیس درست تیار نہیں ہوتا تو شک کا فائدہ تکنیکی بنیادوں پر ملزمان کو ہوتا ہے۔</p>
<p>تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے فرانزک کا عملہ ہمیشہ پولیس سے الگ ہوتا ہے، مگر ہمارے ابھی تک ایسا نہیں ہوسکا۔ 22 سال سے اسلام آباد فرانزک اتھارٹی بنی ہوئی ہے مگر جو کرنے کا کام تھا وہ نہیں کیا۔ جج کو تکنیکی بنیاد پر شک کا فائدہ ملزمان کو دینا پڑتا ہے، مگر متاثرہ خاتون یا مرد کو نقصان ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز مختلف وجوہات کی بنا پر ضربات (انجریز) نہیں لکھتے۔ اسلام آباد میں دو اسپتال ہیں ڈاکٹرز کی تعداد کم ہے۔ ڈاکٹرز کی تعداد کم ہونے کا کہہ کر میڈیکل سرٹیفکیٹ درست نہیں بنایا جاتا۔ پنجاب فرانزک لیب کا ڈیٹا اسلام آباد فرانزک لیب سے کہیں بہتر ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30426488"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ پنجاب فرانزک نے زینب کیس اور موٹروے زیادتی کیس کو ثابت کرنے میں اہم کردارادا کیا۔ اسلام آباد کے دونوں اسپتالوں میں شدید ترین رش ہے،  اسلام آباد میں مزید اسپتال چاہئیں۔ میڈیکو لیگل سے متعلق ڈاکٹرز الگ ہونے چاہییں۔ ڈاکٹرز کی عدالتی مقدمات کے تناظر میں تربیت ہونی چاہیئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30426526</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Dec 2024 16:26:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف نوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/12/041623193fd7405.webp?r=162430" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/12/041623193fd7405.webp?r=162430"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
