<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 00:56:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 00:56:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیکٹ چیک : کینیڈا نے امیگریشن بند نہیں کی، کم تارکینِ وطن قبول کیے جارہے ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30426634/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دو ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایک خبر گرم رہی ہے کہ کینیڈا کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے امیگریشن روک دی ہے یعنی تارکینِ وطن کو قبول کرنا ہی بند کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے 24 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ تارکینِ وطن کی تعداد کم کرنے کی پالیسی تیار کی جارہی ہے تاکہ ڈیموگرافک توازن برقرار رہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اس بیان کو غلط رنگ دے دیا گیا۔ اس حوالے سے صرف ایکس پر دو ہفتوں میں 9 ہزار سے زیادہ پوسٹیں سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا کی طرف سے توضیح کی گئی ہے کہ تارکینِ وطن کو قبول کرنے پر مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔ سوال تارکینِ وطن کی تعداد کو معقولیت کی حدود میں رکھنے کا ہے۔ اس حوالے سے پالیسی تھوڑی سی تبدیل کی گئی ہے تاکہ کینیڈا میں تارکینِ وطن کی تعداد اِتنی زیادہ نہ ہوجائے کہ اُسے مینیج کرنا مشکل ہوجائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا نامی محکمے نے بتایا ہے کہ ابتدا میں طے ہوا تھا کہ تارکینِ وطن میں سے مستقل رہائش کے حقدار افراد کی تعداد پانچ لاکھ تک ہونی چاہیے مگر اب 2025 کے لیے یہ تعداد 3 لاکھ 95 ہزار اور 2026 کے لیے 3 لاکھ 80 ہزار متعین کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30342872"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا کی حکومت کا موقف ہے کہ عارضی تارکینِ وطن کی تعداد کو ملک کی مجموعی آبادی کے 5 فیصد کے مساوی رکھنے پر زور دیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے امیگریشن پالیسی میں چند ایک تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ یاد رہے کہ کینیڈا میں رہائشی کرائے بہت بڑھ گئے ہیں اور اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ بڑے اور درمیانے حجم کے شہروں میں رہائش کا مسئلہ سنگین شکل اختیار کرگیا ہے۔ کینیڈین حکومت اس حوالے سے پالیسیاں تبدیل کر رہی ہے تاکہ روزگار کا منظر نامہ بھی زیادہ متاثر نہ ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دو ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایک خبر گرم رہی ہے کہ کینیڈا کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے امیگریشن روک دی ہے یعنی تارکینِ وطن کو قبول کرنا ہی بند کردیا ہے۔</strong></p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے 24 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ تارکینِ وطن کی تعداد کم کرنے کی پالیسی تیار کی جارہی ہے تاکہ ڈیموگرافک توازن برقرار رہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اس بیان کو غلط رنگ دے دیا گیا۔ اس حوالے سے صرف ایکس پر دو ہفتوں میں 9 ہزار سے زیادہ پوسٹیں سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>کینیڈا کی طرف سے توضیح کی گئی ہے کہ تارکینِ وطن کو قبول کرنے پر مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔ سوال تارکینِ وطن کی تعداد کو معقولیت کی حدود میں رکھنے کا ہے۔ اس حوالے سے پالیسی تھوڑی سی تبدیل کی گئی ہے تاکہ کینیڈا میں تارکینِ وطن کی تعداد اِتنی زیادہ نہ ہوجائے کہ اُسے مینیج کرنا مشکل ہوجائے۔</p>
<p>امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا نامی محکمے نے بتایا ہے کہ ابتدا میں طے ہوا تھا کہ تارکینِ وطن میں سے مستقل رہائش کے حقدار افراد کی تعداد پانچ لاکھ تک ہونی چاہیے مگر اب 2025 کے لیے یہ تعداد 3 لاکھ 95 ہزار اور 2026 کے لیے 3 لاکھ 80 ہزار متعین کی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30342872"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کینیڈا کی حکومت کا موقف ہے کہ عارضی تارکینِ وطن کی تعداد کو ملک کی مجموعی آبادی کے 5 فیصد کے مساوی رکھنے پر زور دیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے امیگریشن پالیسی میں چند ایک تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ یاد رہے کہ کینیڈا میں رہائشی کرائے بہت بڑھ گئے ہیں اور اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ بڑے اور درمیانے حجم کے شہروں میں رہائش کا مسئلہ سنگین شکل اختیار کرگیا ہے۔ کینیڈین حکومت اس حوالے سے پالیسیاں تبدیل کر رہی ہے تاکہ روزگار کا منظر نامہ بھی زیادہ متاثر نہ ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30426634</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Dec 2024 08:46:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/12/05083646a14dfe2.webp?r=084616" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/12/05083646a14dfe2.webp?r=084616"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
