<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:25:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:25:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیچیدگیوں کی وجہ سے مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں وقت درکار ہے، وزیر مذہبی امور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30427157/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے مذہبی امور چوہدری سالک حسین کا مدارس رجسٹریشن سے متعلق کہنا ہے کہ  قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے، مدارس کی رجسٹریشن کے مطالبہ کی وجہ سے تمام عمل دوبارہ شروع ہوا تو پہلے سے کی گئی تمام محنت ضائع ہو جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوہدری سالک حسین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مدارس کی رجسٹریشن ایک دیرینہ ضرورت ہے جس کے لئے مختلف ادوار میں مدارس کی انتظامیہ، جید علماءکرام اور سیاسی رہنماﺅں سے مشاورت ہوتی رہی ہے، حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے مطالبات مانتے ہوئے پارلیمان سے بل منظور کروایا اور اپنی کمٹمنٹ پوری کی، چند قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے، اس کا ہر گز مقصد نہیں کہ اس کو بنیاد بنا کر مدارس رجسٹریشن کا پورا عمل ہی رول بیک کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ مدارس بھی تعلیمی ادارے ہیں جو صرف وزارت تعلیم کے تحت ہی آتے ہیں، مدارس انتظامیہ کو رجسٹریشن کے لئے قانونی پیچیدگیوں اور طویل عمل کا سامنا تھا، سالہا سال کی عرق ریزی کے بعد ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم، وزارت تعلیم کے تحت ون ونڈو نظام مرتب کیا گیا، ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم کے تحت 18 ہزار مدارس رجسٹرڈ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوہدری سالک حسین نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے مطالبہ کی وجہ سے تمام عمل دوبارہ شروع ہوا تو پہلے سے کی گئی تمام محنت ضائع ہو جائے گی، مدارس تعلیمی ادارے ہیں نہ کہ صنعتی ادارے،  اس مطالبے کو ماننے کا مطلب یہ ہوگا کہ آئندہ کوئی بھی کسی پیشہ کو کسی بھی وجہ سے کسی دوسری وزارت کے تحت کرنے کا مطالبہ کر دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30427124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ ملک کا نظام مروجہ اصولوں اور ضوابط کے ماتحت ہوتا ہے نہ کہ خواہشات پر مبنی، وزارت تعلیم اور ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم رجسٹریشن کے عمل کو مدارس کے لئے آسان اور سہل بنا چکے ہیں، ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم میں مدارس کی رجسٹریشن کا انتہائی آسان ون ونڈو آپریشن موجود ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے مذہبی امور چوہدری سالک حسین کا مدارس رجسٹریشن سے متعلق کہنا ہے کہ  قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے، مدارس کی رجسٹریشن کے مطالبہ کی وجہ سے تمام عمل دوبارہ شروع ہوا تو پہلے سے کی گئی تمام محنت ضائع ہو جائے گی۔</strong></p>
<p>چوہدری سالک حسین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مدارس کی رجسٹریشن ایک دیرینہ ضرورت ہے جس کے لئے مختلف ادوار میں مدارس کی انتظامیہ، جید علماءکرام اور سیاسی رہنماﺅں سے مشاورت ہوتی رہی ہے، حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے مطالبات مانتے ہوئے پارلیمان سے بل منظور کروایا اور اپنی کمٹمنٹ پوری کی، چند قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے، اس کا ہر گز مقصد نہیں کہ اس کو بنیاد بنا کر مدارس رجسٹریشن کا پورا عمل ہی رول بیک کر دیا جائے۔</p>
<p>وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ مدارس بھی تعلیمی ادارے ہیں جو صرف وزارت تعلیم کے تحت ہی آتے ہیں، مدارس انتظامیہ کو رجسٹریشن کے لئے قانونی پیچیدگیوں اور طویل عمل کا سامنا تھا، سالہا سال کی عرق ریزی کے بعد ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم، وزارت تعلیم کے تحت ون ونڈو نظام مرتب کیا گیا، ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم کے تحت 18 ہزار مدارس رجسٹرڈ ہیں۔</p>
<p>چوہدری سالک حسین نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے مطالبہ کی وجہ سے تمام عمل دوبارہ شروع ہوا تو پہلے سے کی گئی تمام محنت ضائع ہو جائے گی، مدارس تعلیمی ادارے ہیں نہ کہ صنعتی ادارے،  اس مطالبے کو ماننے کا مطلب یہ ہوگا کہ آئندہ کوئی بھی کسی پیشہ کو کسی بھی وجہ سے کسی دوسری وزارت کے تحت کرنے کا مطالبہ کر دے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30427124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ ملک کا نظام مروجہ اصولوں اور ضوابط کے ماتحت ہوتا ہے نہ کہ خواہشات پر مبنی، وزارت تعلیم اور ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم رجسٹریشن کے عمل کو مدارس کے لئے آسان اور سہل بنا چکے ہیں، ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم میں مدارس کی رجسٹریشن کا انتہائی آسان ون ونڈو آپریشن موجود ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30427157</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Dec 2024 19:58:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/12/07195711574b582.webp?r=195733" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/12/07195711574b582.webp?r=195733"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
