<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:37:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:37:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تبوک میں چٹان کے درمیان شگاف کی کہانی کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30427305/</link>
      <description>&lt;p&gt;** سعودی عرب کے شمالی صوبے تبوک میں ایک حیران کن چٹان پائی جاتی ہے۔ یہ تیما کمشنری کے جنوبی علاقے جبل النصلۃ میں واقع ہے-**&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو چٹانیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں لیکن دونوں کے درمیان ایک شگاف ہے۔ چھوٹی چٹان بائیں جانب اور بڑی چٹان دائیں جانب ہے۔ چٹان پر ثمودی دور کے تاریخی نقوش ہیں جو لگ بھگ تین ہزار برس پرانے ہیں۔ ان پر جانوروں، پرندوں اور مختلف شکل و صورت کے رینگنے والے جانوروں کی تصاویر نقش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30392752/"&gt;خطرہ ٹل گیا؟ ماہرین نے کہہ دیا 2029 میں خلائی چٹان زمین سے نہیں ٹکرائے گی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں چٹانوں کے درمیان شگاف کے بارے میں مقامی سطح پر بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں چٹانیں پہلے ایک ہی تھیں۔ آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے شگاف پڑنے پر دو بن گئیں۔ جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چٹانوں کے درمیان شگاف ان میں معدنیات کی وجہ سے پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30258976/"&gt;ویڈیو: آسمانی بجلی گرنے سے پہاڑ میں دراڑ، چٹانوں کے کئی ٹکڑے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30317731/living-stones-of-romania"&gt;ہلتی بڑھتی انوکھی ’زندہ چٹانیں‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا دعویٰ بڑا انوکھا ہے، جس کے مطابق یہی وہ چٹان ہے، جس سے حضرت صالح کی اونٹنی برآمد ہوئی تھی۔ تیما کے باشندے اسے ’حصاۃ النصلۃ‘ کہتے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ دونوں چٹانیں چھوٹے حجم کے پتھریلے اسٹینڈ پر کھڑی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک چٹان چکنی ہے جبکہ دوسری ٹیڑھی میڑھی ہے۔ جس پر آسانی سے چڑھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30413178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اثار قدیمہ کے مطابق  چٹان پر ثمودی دور کے تاریخی نقوش ہیں جو لگ بھگ تین ہزار برس پرانے ہیں۔ ان پر جانوروں، پرندوں اور مختلف شکل و صورت کے رینگنے والے جانوروں کی تصاویر نقش ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>** سعودی عرب کے شمالی صوبے تبوک میں ایک حیران کن چٹان پائی جاتی ہے۔ یہ تیما کمشنری کے جنوبی علاقے جبل النصلۃ میں واقع ہے-**</p>
<p>دو چٹانیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں لیکن دونوں کے درمیان ایک شگاف ہے۔ چھوٹی چٹان بائیں جانب اور بڑی چٹان دائیں جانب ہے۔ چٹان پر ثمودی دور کے تاریخی نقوش ہیں جو لگ بھگ تین ہزار برس پرانے ہیں۔ ان پر جانوروں، پرندوں اور مختلف شکل و صورت کے رینگنے والے جانوروں کی تصاویر نقش ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30392752/">خطرہ ٹل گیا؟ ماہرین نے کہہ دیا 2029 میں خلائی چٹان زمین سے نہیں ٹکرائے گی</a></strong></p>
<p>دونوں چٹانوں کے درمیان شگاف کے بارے میں مقامی سطح پر بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں چٹانیں پہلے ایک ہی تھیں۔ آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے شگاف پڑنے پر دو بن گئیں۔ جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چٹانوں کے درمیان شگاف ان میں معدنیات کی وجہ سے پڑا ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30258976/">ویڈیو: آسمانی بجلی گرنے سے پہاڑ میں دراڑ، چٹانوں کے کئی ٹکڑے</a></strong></p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30317731/living-stones-of-romania">ہلتی بڑھتی انوکھی ’زندہ چٹانیں‘</a></strong></p>
<p>تیسرا دعویٰ بڑا انوکھا ہے، جس کے مطابق یہی وہ چٹان ہے، جس سے حضرت صالح کی اونٹنی برآمد ہوئی تھی۔ تیما کے باشندے اسے ’حصاۃ النصلۃ‘ کہتے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ دونوں چٹانیں چھوٹے حجم کے پتھریلے اسٹینڈ پر کھڑی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک چٹان چکنی ہے جبکہ دوسری ٹیڑھی میڑھی ہے۔ جس پر آسانی سے چڑھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30413178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین اثار قدیمہ کے مطابق  چٹان پر ثمودی دور کے تاریخی نقوش ہیں جو لگ بھگ تین ہزار برس پرانے ہیں۔ ان پر جانوروں، پرندوں اور مختلف شکل و صورت کے رینگنے والے جانوروں کی تصاویر نقش ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30427305</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Dec 2024 19:05:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/12/08185554479fccc.webp?r=185935" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/12/08185554479fccc.webp?r=185935"/>
        <media:title>فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
