<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 09:55:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 09:55:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش کے سابق فوجیوں کی بھارت پر حملوں کی دھمکیاں، ویڈیوز وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30427586/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان بنگلہ دیش کے سابق فوجیوں کی بھارت پر حملوں کی دھمکیاں دینی شروع کردی ہیں، ریٹائرڈ بنگلہ دیشی فوجی جوانوں کے ہندوستان مخالف بیانات کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں بنگلہ دیشی فوج کے سابق اہلکار  دعوے کرتے نظر آئے کہ کس طرح مغربی بنگال، آسام میں کلکتہ پر ”چار دن کے اندر“ قبضہ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ویڈیو میں، مبینہ ریٹائرڈ فوجی نے دعویٰ کیا کہ اگر 30 لاکھ بنگلہ دیشی ان کے مشن میں شامل ہو جائیں تو کس طرح 5,100 فوجی اہلکاروں کا ایک بنیادی گروپ کولکتہ اور دیگر اہم ہندوستانی علاقوں پر چند دنوں میں قبضہ کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30427379/"&gt;بھارتی دارالحکومت کے اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی، بدلے میں کیا مانگا گیا؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور کلپ میں، ایک سابق افسر کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے سنا گیا کہ کس طرح بنگلہ دیشی فوج ”بہترین تربیت یافتہ“ ہے، اور اپنی قوم کے دفاع اور ہندوستان کو ”سبق“ سکھانے کے لیے ”جنگ کے لیے تیار“ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/VHindus71/status/1865413038402371859"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TuhinhasanT/status/1865376786034344308"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا نے بنگلہ دیش کے سابق فوجیوں کے ان  تبصروں کو تضحیک آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان بیانات سے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بگڑتے تعلقات کھل کر سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30427516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30427400/"&gt;خفیہ اقلیتی فرقہ جس نے شام پر 50 سال حکمرانی کی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بنگلہ دیشی سابق فوجیوں کی طرف سے کیے گئے تبصرے ذاتی نوعیت کے لگتے ہیں اور بنگلہ دیشی حکومت یا اس کی مسلح افواج کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے، اس کے باوجود بھارت میں اس حوالے سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ بنگلہ دیش اور اس کے شہریوں لا حالیہ دنوں میں ہندوستان کے بارے میں نظریہ کتنا بدل گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولکتہ میں ہزاروں ہندوستانیوں کا کاروبار بھارت میں ویزا رجسٹریشن روکنے اور بنگلہ دیش کے شہریوں سے کاروبار پر ٌابندی کے باعث ٹھپ پڑ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی تاجروں کو خدشہ ہے کہ بنگلہ دیش میں مبینہ طور پر جاری ”ایمرجنسی“ سے ان کے بہت سے کاروبار بند ہوجائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولکتہ اور ڈھاکہ کے درمیان اب بہت کم پروازیں چلتی ہیں اور بس آپریٹرز نے بھی اپنی خدمات کم کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بھارتی ٹرانسپورٹ آپریٹر نے بتایا کہ وہ مسافروں کی تعداد میں تیزی سے کمی کی وجہ سے سرحد کے دونوں طرف اپنے عملے کو پوری تنخواہ نہیں دے پا رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان بنگلہ دیش کے سابق فوجیوں کی بھارت پر حملوں کی دھمکیاں دینی شروع کردی ہیں، ریٹائرڈ بنگلہ دیشی فوجی جوانوں کے ہندوستان مخالف بیانات کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں بنگلہ دیشی فوج کے سابق اہلکار  دعوے کرتے نظر آئے کہ کس طرح مغربی بنگال، آسام میں کلکتہ پر ”چار دن کے اندر“ قبضہ کیا جا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ایک ویڈیو میں، مبینہ ریٹائرڈ فوجی نے دعویٰ کیا کہ اگر 30 لاکھ بنگلہ دیشی ان کے مشن میں شامل ہو جائیں تو کس طرح 5,100 فوجی اہلکاروں کا ایک بنیادی گروپ کولکتہ اور دیگر اہم ہندوستانی علاقوں پر چند دنوں میں قبضہ کر سکتا ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30427379/">بھارتی دارالحکومت کے اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی، بدلے میں کیا مانگا گیا؟</a></strong></p>
<p>ایک اور کلپ میں، ایک سابق افسر کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے سنا گیا کہ کس طرح بنگلہ دیشی فوج ”بہترین تربیت یافتہ“ ہے، اور اپنی قوم کے دفاع اور ہندوستان کو ”سبق“ سکھانے کے لیے ”جنگ کے لیے تیار“ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/VHindus71/status/1865413038402371859"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TuhinhasanT/status/1865376786034344308"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی میڈیا نے بنگلہ دیش کے سابق فوجیوں کے ان  تبصروں کو تضحیک آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان بیانات سے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بگڑتے تعلقات کھل کر سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30427516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30427400/">خفیہ اقلیتی فرقہ جس نے شام پر 50 سال حکمرانی کی</a></strong></p>
<p>اگرچہ بنگلہ دیشی سابق فوجیوں کی طرف سے کیے گئے تبصرے ذاتی نوعیت کے لگتے ہیں اور بنگلہ دیشی حکومت یا اس کی مسلح افواج کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے، اس کے باوجود بھارت میں اس حوالے سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ بنگلہ دیش اور اس کے شہریوں لا حالیہ دنوں میں ہندوستان کے بارے میں نظریہ کتنا بدل گیا ہے۔</p>
<p>کولکتہ میں ہزاروں ہندوستانیوں کا کاروبار بھارت میں ویزا رجسٹریشن روکنے اور بنگلہ دیش کے شہریوں سے کاروبار پر ٌابندی کے باعث ٹھپ پڑ گیا ہے۔</p>
<p>بھارتی تاجروں کو خدشہ ہے کہ بنگلہ دیش میں مبینہ طور پر جاری ”ایمرجنسی“ سے ان کے بہت سے کاروبار بند ہوجائیں گے۔</p>
<p>کولکتہ اور ڈھاکہ کے درمیان اب بہت کم پروازیں چلتی ہیں اور بس آپریٹرز نے بھی اپنی خدمات کم کر دی ہیں۔</p>
<p>ایک بھارتی ٹرانسپورٹ آپریٹر نے بتایا کہ وہ مسافروں کی تعداد میں تیزی سے کمی کی وجہ سے سرحد کے دونوں طرف اپنے عملے کو پوری تنخواہ نہیں دے پا رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30427586</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Dec 2024 10:07:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/12/1009561176a3068.webp?r=095640" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/12/1009561176a3068.webp?r=095640"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
