<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Quirky</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 16 May 2026 14:42:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 16 May 2026 14:42:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گہری قبروں اور تابوتوں کی ضرورت ختم، برطانوی خاتون نے ’ماحول دوست کفن‘ بنا ڈالا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30429098/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماحولیاتی تبدیلی اور اس کے تباہ کُن اثرات سے فکر مند برطانوی خاتون نے ایک ماحول دوست کفن تیار کیا ہے، خاتون کا دعویٰ ہے کہ یہ کفن تابوت کی ضرورت کو ختم کردے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں مغربی یارک شائر کاؤنٹی کی رہائشی ریچل کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتیں زمین پر ان کا آخری عمل آلودگی پھیلانے والا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30428454/"&gt;موت کے قریب شخص میں ظاہر ہونے والی خوفناک نشانیاں کیا ہیں؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مغربی ممالک میں روایتی طریقے سے لاشوں کی تدفین بھی آلودگی کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/12/18100702735953f.webp'  alt=' رہائشی ریچل (تصویر بشکریہ بی بی سی/لزی اسٹیل) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;رہائشی ریچل (تصویر بشکریہ بی بی سی/لزی اسٹیل)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق تدفین کیلئے استعمال ہونے والے تابوت اکثر نقصان دہ کیمیکلز سے بنائے جاتے ہیں جبکہ لاشوں کو سڑنے سے بچانے کے لیے فارمل ڈی ہائیڈ استعمال کیا جاتا ہے، یہ ایک زہریلا مادہ ہے جو زمین میں سرائیت کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30427613"&gt;گردن کا مساج کروانے والی گلوکارہ موت کے منہ میں چلی گئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریچل نے بطور فنکار مقامی طور پر حاصل شدہ اون اور بید کے علاوہ برمبل اور آئیوی نامی پودوں سے اپنی ایک سہیلی کے لیے ’ماحول دوست کفن‘ تیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/12/181005210db1f60.jpg'  alt=' ریچل کا تیار کردہ بائیو ڈی گریڈ ایبل کفن (تصویر بشکریہ بی بی سی/لزی اسٹیل) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ریچل کا تیار کردہ بائیو ڈی گریڈ ایبل کفن (تصویر بشکریہ بی بی سی/لزی اسٹیل)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کفن لاش کو دفنانے کے لیے تابوت کی ضرورت بھی ختم کردیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریچل کے لیے یہ کفن ایک فن پارے سے بڑھ کر ہے اور انہوں نے اپنے لیے بھی ایسا ہی کفن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون کا کہنا ہے کہ 6 فٹ گہری قبر میں لاش دفنانے سے اس کے مکمل طور پر ڈی کمپوز ہونے میں 100 سال تک لگ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/12/181004338b7547c.jpg'  alt=' (تصویر بشکریہ بی بی سی) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(تصویر بشکریہ بی بی سی)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وجہ سے انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں ان کی وفات کے بعد انہیں بایو ڈی گریڈ ایبل کفن میں کم گہری قبر میں دفنایا جائے کیونکہ زمین کی اوپری سطح کی مٹی میں لاش جلدی ڈی کمپوز ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریچل کے مطابق چھ فٹ گہری قبریں کھودنے کا رواج 16ویں صدی میں شروع ہوا تھا، اس وقت یہ خیال کیا جاتا تھا کہ طاعون کی بیماری پھیلنے سے روکنے کیلئے گہری قبریں کھودنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30426143"&gt;موت کا وقت بتانے کیلئے مصنوعی ذہانت سے لیس گھڑی تیار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں ہر سال وفات پانے والے افراد میں سے تقریباً 80 فیصد افراد کی لاشیں جلادی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماحولیات کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق ایک لاش کو جلانے کے نتیجے میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس لندن سے پیرس کی ریٹرن فلائٹ کے دوران پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماحولیاتی تبدیلی اور اس کے تباہ کُن اثرات سے فکر مند برطانوی خاتون نے ایک ماحول دوست کفن تیار کیا ہے، خاتون کا دعویٰ ہے کہ یہ کفن تابوت کی ضرورت کو ختم کردے گا۔</strong></p>
<p>برطانیہ میں مغربی یارک شائر کاؤنٹی کی رہائشی ریچل کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتیں زمین پر ان کا آخری عمل آلودگی پھیلانے والا ہو۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30428454/">موت کے قریب شخص میں ظاہر ہونے والی خوفناک نشانیاں کیا ہیں؟</a></strong></p>
<p>میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مغربی ممالک میں روایتی طریقے سے لاشوں کی تدفین بھی آلودگی کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/12/18100702735953f.webp'  alt=' رہائشی ریچل (تصویر بشکریہ بی بی سی/لزی اسٹیل) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>رہائشی ریچل (تصویر بشکریہ بی بی سی/لزی اسٹیل)</figcaption>
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق تدفین کیلئے استعمال ہونے والے تابوت اکثر نقصان دہ کیمیکلز سے بنائے جاتے ہیں جبکہ لاشوں کو سڑنے سے بچانے کے لیے فارمل ڈی ہائیڈ استعمال کیا جاتا ہے، یہ ایک زہریلا مادہ ہے جو زمین میں سرائیت کرسکتا ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30427613">گردن کا مساج کروانے والی گلوکارہ موت کے منہ میں چلی گئی</a></strong></p>
<p>ریچل نے بطور فنکار مقامی طور پر حاصل شدہ اون اور بید کے علاوہ برمبل اور آئیوی نامی پودوں سے اپنی ایک سہیلی کے لیے ’ماحول دوست کفن‘ تیار کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/12/181005210db1f60.jpg'  alt=' ریچل کا تیار کردہ بائیو ڈی گریڈ ایبل کفن (تصویر بشکریہ بی بی سی/لزی اسٹیل) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ریچل کا تیار کردہ بائیو ڈی گریڈ ایبل کفن (تصویر بشکریہ بی بی سی/لزی اسٹیل)</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہ کفن لاش کو دفنانے کے لیے تابوت کی ضرورت بھی ختم کردیتا ہے۔</p>
<p>ریچل کے لیے یہ کفن ایک فن پارے سے بڑھ کر ہے اور انہوں نے اپنے لیے بھی ایسا ہی کفن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>خاتون کا کہنا ہے کہ 6 فٹ گہری قبر میں لاش دفنانے سے اس کے مکمل طور پر ڈی کمپوز ہونے میں 100 سال تک لگ سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/12/181004338b7547c.jpg'  alt=' (تصویر بشکریہ بی بی سی) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(تصویر بشکریہ بی بی سی)</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس وجہ سے انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں ان کی وفات کے بعد انہیں بایو ڈی گریڈ ایبل کفن میں کم گہری قبر میں دفنایا جائے کیونکہ زمین کی اوپری سطح کی مٹی میں لاش جلدی ڈی کمپوز ہوسکتی ہے۔</p>
<p>ریچل کے مطابق چھ فٹ گہری قبریں کھودنے کا رواج 16ویں صدی میں شروع ہوا تھا، اس وقت یہ خیال کیا جاتا تھا کہ طاعون کی بیماری پھیلنے سے روکنے کیلئے گہری قبریں کھودنا ضروری ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30426143">موت کا وقت بتانے کیلئے مصنوعی ذہانت سے لیس گھڑی تیار</a></strong></p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں ہر سال وفات پانے والے افراد میں سے تقریباً 80 فیصد افراد کی لاشیں جلادی جاتی ہیں۔</p>
<p>تاہم ماحولیات کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق ایک لاش کو جلانے کے نتیجے میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس لندن سے پیرس کی ریٹرن فلائٹ کے دوران پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے برابر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30429098</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Dec 2024 10:16:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/12/181009308afd929.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/12/181009308afd929.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
