<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 22:48:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 25 Apr 2026 22:48:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چاند پر پراسرار اشیا کے ٹکراؤ اور پھوٹنے والی روشنی نے دنیا بھر کے ماہرین فلکیات کو الرٹ کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30429176/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپان کے ایک ماہر فلکیات کی جانب سے چاند پر پراسرار شے کے ٹکرانے کا منظر ریکارڈ کئے جانے کے بعد دنیا بھر کے سائنسدان الرٹ ہوگئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان میں مقیم ایک ماہر فلکیات اور ہیراتسوکا سٹی میوزیم کے کیوریٹر ڈائچی فیوجی نے اس لمحے کو اپنے لینس سے دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دیکھا کہ کوئی پراسرار چیز چاند کی سطح کے اوپری دائیں حصے پر ٹکرائی جس سے روشنی کا ایک جھماکا سا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30402404"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30423584"&gt;چاند کی پوشیدہ سمت میں کیا تھا؟ راز سے پردہ اٹھالیا گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں ہے جب فیوجی نے چاند پر کسی چیز کو ٹکراتے ہوئے دیکھا ہو، انہوں نے گزشتہ چند راتوں میں چاند پر کئی پراسرار ٹکراؤ ریکارڈ کئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیوجی نے ایکس پر اپنی فوٹیج شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’آج رات ایک اور لیونر امپیکٹ  فلیش دیکھا گیا۔ میں نے اسے 8 دسمبر 2024 کو 22:34:35 پر اپنے گھر سے 360fps پر فلمایا اور متعدد دوربینوں سے اس کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30398123"&gt;چاند پر غار دریافت، انسانوں کو اس سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ ’روشن شہاب ثاقب اور آگ کے گولے ہر روز نمودار ہو رہے ہیں، لیکن چاند سے ٹکراؤ کی چمک بھی ایک کے بعد ایک ریکارڈ کی گئی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایف سائنس کی رپورٹوں کے مطابق، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فیوجی نے جو شے ٹکراتی دیکھی وہ ایک شہاب ثاقب تھا، جو ممکنہ طور پر ”Geminids“ سے آیا تھا، جیمینائیڈز سالانہ شہاب ثاقب کے شاور کی ایک عجیب قسم ہے جو ایک چھوٹۓ سیارچے سے آتی ہے اور دُم دار ستارے کی طرح دکھائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناسا نے وضاحت کی ہے کہ یہ جیمینائیڈز ”3200 Phaethon“ کے نام سے مشہور سیارچے سے آتے ہیں، جو سالانہ میٹیور شاور کے لیے ذمہ دار ہے۔ 2024 میں یہ شاور 4 سے 20 دسمبر تک فعال ہے، جو دسمبر 13 سے 14 کے درمیان چوٹی پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30426202"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ہر کوئی یہ نہیں مانتا ہے کہ روشن چمک کے پیچھے جیمینائیڈز کا ہاتھ ہے۔ امریکن میٹیور سوسائٹی کے رابرٹ لنسفورڈ کو شبہ ہے کہ یہ کچھ ”اکا دکا شہاب ثاقب“ ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30401395/"&gt;سائنسدان چاند پر کشتی کیوں بنانا چاہتے ہیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مختلف ایکس پوسٹ میں، فیوجی نے تصدیق کی کہ انہوں نے 6 دسمبر کو شام 5 بج کر 30 منٹ پر  اور دوبارہ 7 دسمبر کو شام 6 بجے کے بعد چاند پر دیگر امپیکٹس کو دیکھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپان کے ایک ماہر فلکیات کی جانب سے چاند پر پراسرار شے کے ٹکرانے کا منظر ریکارڈ کئے جانے کے بعد دنیا بھر کے سائنسدان الرٹ ہوگئے ہیں۔</strong></p>
<p>جاپان میں مقیم ایک ماہر فلکیات اور ہیراتسوکا سٹی میوزیم کے کیوریٹر ڈائچی فیوجی نے اس لمحے کو اپنے لینس سے دیکھا۔</p>
<p>انہوں نے دیکھا کہ کوئی پراسرار چیز چاند کی سطح کے اوپری دائیں حصے پر ٹکرائی جس سے روشنی کا ایک جھماکا سا ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30402404"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30423584">چاند کی پوشیدہ سمت میں کیا تھا؟ راز سے پردہ اٹھالیا گیا</a></strong></p>
<p>یہ پہلا موقع نہیں ہے جب فیوجی نے چاند پر کسی چیز کو ٹکراتے ہوئے دیکھا ہو، انہوں نے گزشتہ چند راتوں میں چاند پر کئی پراسرار ٹکراؤ ریکارڈ کئے۔</p>
<p>فیوجی نے ایکس پر اپنی فوٹیج شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’آج رات ایک اور لیونر امپیکٹ  فلیش دیکھا گیا۔ میں نے اسے 8 دسمبر 2024 کو 22:34:35 پر اپنے گھر سے 360fps پر فلمایا اور متعدد دوربینوں سے اس کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہا‘۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30398123">چاند پر غار دریافت، انسانوں کو اس سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟</a></strong></p>
<p>انہوں نے لکھا کہ ’روشن شہاب ثاقب اور آگ کے گولے ہر روز نمودار ہو رہے ہیں، لیکن چاند سے ٹکراؤ کی چمک بھی ایک کے بعد ایک ریکارڈ کی گئی ہے۔‘</p>
<p>آئی ایف سائنس کی رپورٹوں کے مطابق، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فیوجی نے جو شے ٹکراتی دیکھی وہ ایک شہاب ثاقب تھا، جو ممکنہ طور پر ”Geminids“ سے آیا تھا، جیمینائیڈز سالانہ شہاب ثاقب کے شاور کی ایک عجیب قسم ہے جو ایک چھوٹۓ سیارچے سے آتی ہے اور دُم دار ستارے کی طرح دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p>ناسا نے وضاحت کی ہے کہ یہ جیمینائیڈز ”3200 Phaethon“ کے نام سے مشہور سیارچے سے آتے ہیں، جو سالانہ میٹیور شاور کے لیے ذمہ دار ہے۔ 2024 میں یہ شاور 4 سے 20 دسمبر تک فعال ہے، جو دسمبر 13 سے 14 کے درمیان چوٹی پر ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30426202"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم، ہر کوئی یہ نہیں مانتا ہے کہ روشن چمک کے پیچھے جیمینائیڈز کا ہاتھ ہے۔ امریکن میٹیور سوسائٹی کے رابرٹ لنسفورڈ کو شبہ ہے کہ یہ کچھ ”اکا دکا شہاب ثاقب“ ہو سکتے ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30401395/">سائنسدان چاند پر کشتی کیوں بنانا چاہتے ہیں</a></strong></p>
<p>ایک مختلف ایکس پوسٹ میں، فیوجی نے تصدیق کی کہ انہوں نے 6 دسمبر کو شام 5 بج کر 30 منٹ پر  اور دوبارہ 7 دسمبر کو شام 6 بجے کے بعد چاند پر دیگر امپیکٹس کو دیکھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30429176</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Dec 2024 15:18:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/12/181509550158ee3.webp?r=151104" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/12/181509550158ee3.webp?r=151104"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
