<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:24:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:24:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لڑکی کے ساتھ تصویر کا تنازعہ، شامی باغی رہنما نے خاموشی توڑ دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30429761/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لڑکی کے ساتھ تصویرکے تنازعہ پر شامی باغی رہنما نے اپنی خاموشی توڑ دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام کے باغی رہنما احمد الشارع نے لڑکی کے ساتھ تصویر بنوانے پر تنقید اور کسی قسم کے تنازعہ کو مسترد کر دیا ہے جس میں  وہ ایک نوجوان خاتون  کے ساتھ  گزشتہ ہفتے تصویر بنوانے سے قبل اسے اپنے بال ڈھانپنے کا اشارہ کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باغیوں کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کے مستقبل کی سمت کے بارے میں شدید قیاس آرائیوں کے درمیان اس واقعہ پر روشن خیالوں(لبرل) اور قدامت پسندوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30429673/"&gt;شامی حکومت کا تختہ الٹنے والے باغی فورسز کے رہنما کیلئے سفارتی سطح پر ایک اور فتح&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبرلز نے سنی اسلام پسند گروپ حیات تحریر الشام کے سربراہ کی درخواست کو اس بات کی علامت کے طور پر دیکھا کہ وہ  بشار الاسد کا تختہ الٹنے کے بعد شام میں شاید اسلامی نظام نافذ کرسکتے ہیں، جبکہ سخت گیر قدامت پسندوں نے عورت کے ساتھ تصویر بنوانے پر احمد الشارع پرتنقید کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے مذکورہ خاتون لیہ خیر اللہ نے کہا ہے کہ میں نے احمد الشارع (ابو محمد الجولانی) نے اسے ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ میں خود بھی چاہوں گی کہ تصاویر ایسی ہوں جو میرے لیے بھی قابل قبول ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30429591"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوجوان خاتون نے کہا ہے کہ وہ باغی رہنما کی  درخواست سے پریشان نہیں تھیں، میں نے ان کی اس بات کو ”نرم دل باپ کے سمجھانے کے انداز“ کی طرح لیا، ”ہر رہنما کو حق ہے کہ وہ جس طرح مناسب سمجھے اسے اس طرح پیش کیا جائے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعہ نے ظاہر کیا کہ شام کے مستقبل کے کسی بھی رہنما کو مذہبی طور پر متحد کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ شام میں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے، جبکہ باقی ملک عیسائیوں، علویوں، دروز اور اسماعیلیوں میں تقسیم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30428665/"&gt;شامی باغی رہنما کے ساتھ خوبصورت لڑکی کی تصاویر وائرل، یہ کون ہے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام میں مختلف سیاسی اور مسلح گروہوں کے درمیان بھی وسیع پیمانے پر نظریات موجود ہیں جو اسد کے مخالف تھے، جن میں سے کچھ سیکولر جمہوریت کے خواہاں ہیں اور کچھ اسلامی قانون کے مطابق حکومت کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ احمد الشارع (ابو محمد الجولانی) القاعدہ کے سابق رہنما ہیں، انہوں نے 2017 میں جب باغیوں کے سابق گڑھ صوبہ ادلب پر قبضہ کیا توابتدائی طور پر سخت رویے اور لباس کے ضابطے نافذ کیے تھے۔ تاہم عوامی تنقید کے بعد انہوں نے حالیہ برسوں میں سخت قوانین کوختم کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لڑکی کے ساتھ تصویرکے تنازعہ پر شامی باغی رہنما نے اپنی خاموشی توڑ دی۔</strong></p>
<p>شام کے باغی رہنما احمد الشارع نے لڑکی کے ساتھ تصویر بنوانے پر تنقید اور کسی قسم کے تنازعہ کو مسترد کر دیا ہے جس میں  وہ ایک نوجوان خاتون  کے ساتھ  گزشتہ ہفتے تصویر بنوانے سے قبل اسے اپنے بال ڈھانپنے کا اشارہ کررہے ہیں۔</p>
<p>باغیوں کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کے مستقبل کی سمت کے بارے میں شدید قیاس آرائیوں کے درمیان اس واقعہ پر روشن خیالوں(لبرل) اور قدامت پسندوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30429673/">شامی حکومت کا تختہ الٹنے والے باغی فورسز کے رہنما کیلئے سفارتی سطح پر ایک اور فتح</a></strong></p>
<p>لبرلز نے سنی اسلام پسند گروپ حیات تحریر الشام کے سربراہ کی درخواست کو اس بات کی علامت کے طور پر دیکھا کہ وہ  بشار الاسد کا تختہ الٹنے کے بعد شام میں شاید اسلامی نظام نافذ کرسکتے ہیں، جبکہ سخت گیر قدامت پسندوں نے عورت کے ساتھ تصویر بنوانے پر احمد الشارع پرتنقید کی تھی۔</p>
<p>اس حوالے سے مذکورہ خاتون لیہ خیر اللہ نے کہا ہے کہ میں نے احمد الشارع (ابو محمد الجولانی) نے اسے ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ میں خود بھی چاہوں گی کہ تصاویر ایسی ہوں جو میرے لیے بھی قابل قبول ہوں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30429591"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نوجوان خاتون نے کہا ہے کہ وہ باغی رہنما کی  درخواست سے پریشان نہیں تھیں، میں نے ان کی اس بات کو ”نرم دل باپ کے سمجھانے کے انداز“ کی طرح لیا، ”ہر رہنما کو حق ہے کہ وہ جس طرح مناسب سمجھے اسے اس طرح پیش کیا جائے“۔</p>
<p>اس واقعہ نے ظاہر کیا کہ شام کے مستقبل کے کسی بھی رہنما کو مذہبی طور پر متحد کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ شام میں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے، جبکہ باقی ملک عیسائیوں، علویوں، دروز اور اسماعیلیوں میں تقسیم ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30428665/">شامی باغی رہنما کے ساتھ خوبصورت لڑکی کی تصاویر وائرل، یہ کون ہے</a></strong></p>
<p>شام میں مختلف سیاسی اور مسلح گروہوں کے درمیان بھی وسیع پیمانے پر نظریات موجود ہیں جو اسد کے مخالف تھے، جن میں سے کچھ سیکولر جمہوریت کے خواہاں ہیں اور کچھ اسلامی قانون کے مطابق حکومت کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ احمد الشارع (ابو محمد الجولانی) القاعدہ کے سابق رہنما ہیں، انہوں نے 2017 میں جب باغیوں کے سابق گڑھ صوبہ ادلب پر قبضہ کیا توابتدائی طور پر سخت رویے اور لباس کے ضابطے نافذ کیے تھے۔ تاہم عوامی تنقید کے بعد انہوں نے حالیہ برسوں میں سخت قوانین کوختم کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30429761</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Dec 2024 17:09:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/12/21170108f56176a.webp?r=170305" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/12/21170108f56176a.webp?r=170305"/>
        <media:title>بشکریہ عالمی میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
