<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 15:29:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 15:29:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک اور انسٹا گرام کو اے آئی کریکٹرز سے بھرنے کا فیصلہ کر لیا گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30431646/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میٹا نے فیس بک اور انسٹا گرام کو آرٹی فیشل انٹیلی جنس کریکٹرز سے بھرنے کا فیصلہ کر لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق میٹا کی جانب سے اے آئی کریکٹرز کو اس خیال سے فیس بک اور انسٹا گرام کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ انگیج منٹ بڑھ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین اے آئی کردار میٹا کے اے آئی اسٹوڈیو میں جاکر تیار کرسکیں گے تاکہ آپ ان سے اسی طرح رابطہ کرسکیں جیسے حقیقی انسانوں سے ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کے جنریٹیو اے آئی شعبے کے نائب صدر کونر ہیزکا کہنا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ یہ اے آئی کریکٹرز وقت کے ساتھ ہمارے پلیٹ فارمز پر موجود ہوں گے، بالکل اسی طرح جیسے ابھی صارفین کے اکاؤنٹس موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ان اے آئی کریکٹرز کی اپنی پروفائل پکچرز ہوں گی جبکہ وہ اے آئی پر مبنی مواد تیار کرکے شیئر کرسکیں گے، اے آئی کریکٹرز کوئی نیا فیچر نہیں بلکہ اے آئی اسٹوڈیو میں جاکر انہیں تیار کرنے کا آپشن موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونر ہیز کے مطابق اب تک اے آئی اسٹوڈیو کے ذریعے لاکھوں اے آئی کریکٹرز تیار کیے جاچکے ہیں، مگر میٹا کا ماننا ہے کہ ابھی تو آغاز ہے کیونکہ اے آئی اسٹوڈیو کو امریکا سے باہر دیگر ممالک میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی کی ترجیح ہے کہ اگلے 2 سال میں اے آئی ٹیکنالوجی کو زیادہ سوشل بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرضی کرداروں کے ساتھ ساتھ اے آئی اسٹوڈیو میں فیس بک اور انسٹا گرام صارفین کو اپنی ذات کے اے آئی ورژن تیارکرنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس سے ان کے فالوورز بات کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اے آئی کرداروں سے صارفین کی پرائیویسی کو خطرات لاحق ہیں یا نہیں، ابھی یہ کہنا مشکل اور قبل ازوقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا ٹیم کی سابق سربراہ بیکی اون نے کہا کہ ٹھوس حفاظتی اقدامات کے بغیر اے آئی اکاؤنٹس سے گمراہ کن مواد پھیلنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ اس سے صارفین کو فائدہ نہ ہو بلکہ یہ اے آئی کریکٹرز صارفین کی ساکھ کو تباہ کردیں، انسانی صارفین کے برعکس اے آئی کرداروں کو زندگی کے تجربات یا جذبات کا علم نہیں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میٹا نے فیس بک اور انسٹا گرام کو آرٹی فیشل انٹیلی جنس کریکٹرز سے بھرنے کا فیصلہ کر لیا۔</strong></p>
<p>عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق میٹا کی جانب سے اے آئی کریکٹرز کو اس خیال سے فیس بک اور انسٹا گرام کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ انگیج منٹ بڑھ سکے۔</p>
<p>صارفین اے آئی کردار میٹا کے اے آئی اسٹوڈیو میں جاکر تیار کرسکیں گے تاکہ آپ ان سے اسی طرح رابطہ کرسکیں جیسے حقیقی انسانوں سے ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں کرتے ہیں۔</p>
<p>میٹا کے جنریٹیو اے آئی شعبے کے نائب صدر کونر ہیزکا کہنا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ یہ اے آئی کریکٹرز وقت کے ساتھ ہمارے پلیٹ فارمز پر موجود ہوں گے، بالکل اسی طرح جیسے ابھی صارفین کے اکاؤنٹس موجود ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ان اے آئی کریکٹرز کی اپنی پروفائل پکچرز ہوں گی جبکہ وہ اے آئی پر مبنی مواد تیار کرکے شیئر کرسکیں گے، اے آئی کریکٹرز کوئی نیا فیچر نہیں بلکہ اے آئی اسٹوڈیو میں جاکر انہیں تیار کرنے کا آپشن موجود ہے۔</p>
<p>کونر ہیز کے مطابق اب تک اے آئی اسٹوڈیو کے ذریعے لاکھوں اے آئی کریکٹرز تیار کیے جاچکے ہیں، مگر میٹا کا ماننا ہے کہ ابھی تو آغاز ہے کیونکہ اے آئی اسٹوڈیو کو امریکا سے باہر دیگر ممالک میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی کی ترجیح ہے کہ اگلے 2 سال میں اے آئی ٹیکنالوجی کو زیادہ سوشل بنایا جائے۔</p>
<p>فرضی کرداروں کے ساتھ ساتھ اے آئی اسٹوڈیو میں فیس بک اور انسٹا گرام صارفین کو اپنی ذات کے اے آئی ورژن تیارکرنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس سے ان کے فالوورز بات کرسکتے ہیں۔</p>
<p>ان اے آئی کرداروں سے صارفین کی پرائیویسی کو خطرات لاحق ہیں یا نہیں، ابھی یہ کہنا مشکل اور قبل ازوقت ہے۔</p>
<p>میٹا ٹیم کی سابق سربراہ بیکی اون نے کہا کہ ٹھوس حفاظتی اقدامات کے بغیر اے آئی اکاؤنٹس سے گمراہ کن مواد پھیلنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ اس سے صارفین کو فائدہ نہ ہو بلکہ یہ اے آئی کریکٹرز صارفین کی ساکھ کو تباہ کردیں، انسانی صارفین کے برعکس اے آئی کرداروں کو زندگی کے تجربات یا جذبات کا علم نہیں ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30431646</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Dec 2024 21:13:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/12/31211316e869134.png?r=211337" type="image/png" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/12/31211316e869134.png?r=211337"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
