<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 13:20:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 13:20:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جسٹس منصور علی شاہ کا اے ڈی آر کی اہمیت سے متعلق تحریری فیصلہ جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30432065/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کا اے ڈی آر کی اہمیت سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا، جس میں انہوں نے ثالثی کے ذریعے تنازعات کے حل پر معاشی فواد کی اہمیت اجاگر کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے میں کہا کہ ثالثی کے ذریعے تنازعات کے حل کے معاشی فوائد نہایت اہم ہیں، ثالثی ایک کم خرچ، مؤثر اور خفیہ طریقہ کار کے طور پر نہ صرف ملکی عدالتوں کا بوجھ کم کرتی ہے بلکہ کاروباری پیداواری صلاحیت بھی بڑھاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج نے لکھا کہ ثالثی کے ذریعے تنازعات کے جلد حل کا موقع ملتا ہے جس سے کاروبار میں تعطل کم ہوتا ہے، بین الاقوامی ثالثی کے فیصلوں کے نفاذ کی صلاحیت تجارت اور کاروبار کو مضبوط بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے کہا کہ ثالثی کا مستحکم اور قابل پیش گوئی تنازعات کے حل کا نظام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دیتا ہے،  ثالثی سے ملک بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں لکھا کہ عدالت کو بتایا گیا قانون اور انصاف کمیشن کی جانب سے تیار کردہ ایک نئے ثالثی ایکٹ کے مسودے کو 2 مئی 2024 کو وزارت قانون و انصاف کے ذریعے وفاقی حکومت کو پیش کیا گیا،  یہ مسودہ 1940 سے غیر تبدیل شدہ ثالثی کے پرانے نظام کو جدید بنانے کی کوشش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30431028"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں مزید کہا گیا کہ  ہمیں توقع ہے کہ وفاقی حکومت قوم کے وسیع تراقتصادی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد نئے ثالثی قانون کے نفاذ کو یقینی بنائے گی تاکہ عوام کو ایک مؤثر اور جدید تنازعات کے حل کا نظام فراہم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے میں دفتر کو ہدایت کی کہ اس فیصلے کی ایک نقل اٹارنی جنرل کو بھیج دی جائے، تاکہ متعلقہ وزارت کے ساتھ خط و کتابت اور یاد دہانی کے طور پر کام آئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کا اے ڈی آر کی اہمیت سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا، جس میں انہوں نے ثالثی کے ذریعے تنازعات کے حل پر معاشی فواد کی اہمیت اجاگر کی ہے۔</strong></p>
<p>جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے میں کہا کہ ثالثی کے ذریعے تنازعات کے حل کے معاشی فوائد نہایت اہم ہیں، ثالثی ایک کم خرچ، مؤثر اور خفیہ طریقہ کار کے طور پر نہ صرف ملکی عدالتوں کا بوجھ کم کرتی ہے بلکہ کاروباری پیداواری صلاحیت بھی بڑھاتی ہے۔</p>
<p>سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج نے لکھا کہ ثالثی کے ذریعے تنازعات کے جلد حل کا موقع ملتا ہے جس سے کاروبار میں تعطل کم ہوتا ہے، بین الاقوامی ثالثی کے فیصلوں کے نفاذ کی صلاحیت تجارت اور کاروبار کو مضبوط بناتی ہے۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے کہا کہ ثالثی کا مستحکم اور قابل پیش گوئی تنازعات کے حل کا نظام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دیتا ہے،  ثالثی سے ملک بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام بن جاتا ہے۔</p>
<p>فیصلے میں لکھا کہ عدالت کو بتایا گیا قانون اور انصاف کمیشن کی جانب سے تیار کردہ ایک نئے ثالثی ایکٹ کے مسودے کو 2 مئی 2024 کو وزارت قانون و انصاف کے ذریعے وفاقی حکومت کو پیش کیا گیا،  یہ مسودہ 1940 سے غیر تبدیل شدہ ثالثی کے پرانے نظام کو جدید بنانے کی کوشش کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30431028"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فیصلے میں مزید کہا گیا کہ  ہمیں توقع ہے کہ وفاقی حکومت قوم کے وسیع تراقتصادی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد نئے ثالثی قانون کے نفاذ کو یقینی بنائے گی تاکہ عوام کو ایک مؤثر اور جدید تنازعات کے حل کا نظام فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p>جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے میں دفتر کو ہدایت کی کہ اس فیصلے کی ایک نقل اٹارنی جنرل کو بھیج دی جائے، تاکہ متعلقہ وزارت کے ساتھ خط و کتابت اور یاد دہانی کے طور پر کام آئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30432065</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jan 2025 19:21:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/01/021919512591796.jpg?r=192005" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/01/021919512591796.jpg?r=192005"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
