<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 11:46:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 11:46:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وہ گاؤں جہاں 500 کلوگرام خلائی کچرا آگرا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30432300/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلا میں موجود کچرا بتدریج کافی بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور خلائی ٹریفک کو اس سے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلا میں موجود کچرا بتدریج کافی بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور خلائی ٹریفک کو اس سے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، مگر افریقی ملک کینیا کے ایک گاؤں  پر خلائی کچرا بارش کی طرح برس گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ہاں واقعی 30 دسمبر کو کینیا کے گاؤں مکوکو میں 500 کلوگرام خلائی کچرا آکر گرا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30426167/"&gt;خلا میں ٹریفک جام ہونے لگا، پریشان سائنس دانوں نے سر جوڑ لیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیا اسپیس ایجنسی مطبق ابتدائی تحقیقات سے عندیہ ملا ہے کہ یہ کسی راکٹ سے الگ ہونے والے رنگز کا ملبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رنگز اکثر لانچ وہیکل کے 2 مراحل کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جو مخصوص بلندی پر الگ ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیا اسپیس ایجنسی کے مطابق اس طرح کی اشیا کو اکثراس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ زمین کے کرہ ہوائی میں دوبارہ داخل ہوتے وقت جل جاتی ہیں یا وہ ویران علاقوں جیسے سمندروں میں گرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30430228/"&gt;خلا میں 140 کھرب سمندروں کے برابر تیرتا پانی مل گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ مگر یہ معاملہ الگ ہے اور ایجنسی کی جانب سے اس کی تحقیقات کی جائے گی اور بین الاقوامی خلائی قانون کو مدنظر رکھ کر فریم ورک طے کیا جائے گا۔ گاؤں پر گرنے والے سامان کی متعدد تصاویر سوشل میدیا پر بھی شیئر کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ ابھی تک یہ تعین نہیں ہوسکا کہ یہ سارا سامان کس ملک سے تعلق رکھتا ہے۔ کینیا اسپیس ایجنسی کی جانب سے عوام کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس خلائی کچرے سے لوگوں کو فوری طور پر خطرہ لاحق نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30410682/"&gt;کئی ماہ سے خلا میں پھنسی سنیتا کا ’دنیا میں پریشان‘ ہونے والوں کیلئے دلچسپ پیغام&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30431726"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی کے مطابق ماہرین ان اشیا کا تجزیہ کرکے اس کے مالک کی شناخت کریں گے اور عوام کو مستقبل میں کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 30 دسمبر کو ایکس (ٹوئٹر) پر ایک صارف نے دعویٰ کیا تھا کہ  ایک اور افریقی ملک گھانا میں ایک سیٹلائیٹ آکر گرا تھا۔ اس حوالے سے کینیا اسپیس ایجنسی کا کہنا تھا کہ دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلا میں موجود کچرا بتدریج کافی بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور خلائی ٹریفک کو اس سے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔</strong></p>
<p>خلا میں موجود کچرا بتدریج کافی بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور خلائی ٹریفک کو اس سے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، مگر افریقی ملک کینیا کے ایک گاؤں  پر خلائی کچرا بارش کی طرح برس گیا۔</p>
<p>جی ہاں واقعی 30 دسمبر کو کینیا کے گاؤں مکوکو میں 500 کلوگرام خلائی کچرا آکر گرا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30426167/">خلا میں ٹریفک جام ہونے لگا، پریشان سائنس دانوں نے سر جوڑ لیے</a></strong></p>
<p>کینیا اسپیس ایجنسی مطبق ابتدائی تحقیقات سے عندیہ ملا ہے کہ یہ کسی راکٹ سے الگ ہونے والے رنگز کا ملبہ ہے۔</p>
<p>یہ رنگز اکثر لانچ وہیکل کے 2 مراحل کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جو مخصوص بلندی پر الگ ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>کینیا اسپیس ایجنسی کے مطابق اس طرح کی اشیا کو اکثراس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ زمین کے کرہ ہوائی میں دوبارہ داخل ہوتے وقت جل جاتی ہیں یا وہ ویران علاقوں جیسے سمندروں میں گرتی ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30430228/">خلا میں 140 کھرب سمندروں کے برابر تیرتا پانی مل گیا</a></strong></p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ مگر یہ معاملہ الگ ہے اور ایجنسی کی جانب سے اس کی تحقیقات کی جائے گی اور بین الاقوامی خلائی قانون کو مدنظر رکھ کر فریم ورک طے کیا جائے گا۔ گاؤں پر گرنے والے سامان کی متعدد تصاویر سوشل میدیا پر بھی شیئر کی گئی تھیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ ابھی تک یہ تعین نہیں ہوسکا کہ یہ سارا سامان کس ملک سے تعلق رکھتا ہے۔ کینیا اسپیس ایجنسی کی جانب سے عوام کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس خلائی کچرے سے لوگوں کو فوری طور پر خطرہ لاحق نہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30410682/">کئی ماہ سے خلا میں پھنسی سنیتا کا ’دنیا میں پریشان‘ ہونے والوں کیلئے دلچسپ پیغام</a></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30431726"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایجنسی کے مطابق ماہرین ان اشیا کا تجزیہ کرکے اس کے مالک کی شناخت کریں گے اور عوام کو مستقبل میں کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔</p>
<p>اس سے قبل 30 دسمبر کو ایکس (ٹوئٹر) پر ایک صارف نے دعویٰ کیا تھا کہ  ایک اور افریقی ملک گھانا میں ایک سیٹلائیٹ آکر گرا تھا۔ اس حوالے سے کینیا اسپیس ایجنسی کا کہنا تھا کہ دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30432300</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jan 2025 22:04:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/01/03211054888d7d0.webp?r=211321" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/01/03211054888d7d0.webp?r=211321"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
