<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 00:59:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 00:59:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سورج نیلا کیوں پڑ گیا تھا؟ سائنسدانوں نے 200 سال پرانی گتھی سلجھا لی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30433867/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سائنسدانوں کی ٹیم نے اس بات کا پتہ لگایا ہے کہ تقریباً 200 سال قبل سورج کا رنگ پراسرار طور پر نیلا کیوں ہوگیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سموشیر نامی دور دراز جزیرے پر آتش فشاں ایک بڑے پیمانے پر پھٹنے کا ذریعہ تھا جس نے پورے زمین کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ جزیرہ اِس وقت روس اور جاپان کے درمیان کا متنازعہ علاقہ کہلاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق سنہ 1831 میں ایک بہت بڑا آتش فشاں پھٹنے سے سلفر ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار ہوا میں پھیل گئی تھی، جس کی وجہ سے سورج نیلا نظر آنے لگا اور دنیا میں غیر معمولی سطح پر ٹھنڈ میں اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30430228"&gt;خلا میں 140 کھرب سمندروں کے برابر تیرتا پانی مل گیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکاٹ لینڈ میں سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے محققین نے اپنی دریافت کی حمایت کے لیے آئس کور ریکارڈز کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ 1831 کے پھٹنے کا کوئی عینی شاہد نہیں ہے کیونکہ ایسا ایک دور دراز، غیر آباد جزیرے پر ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شریک مصنف ول ہچیسن نے اس لمحے کو بیان کیا جب انہوں نے لیب میں راکھ کا تجزیہ کیا اور کہا کہ یہ ایک سنسنی خیز دریافت تھی جب انہوں نے آتش فشاں سے برف کے مرکز میں پائی جانے والی راکھ کو ملایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30426167"&gt;خلا میں ٹریفک جام ہونے لگا، پریشان سائنس دانوں نے سر جوڑ لیے&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ول ہچیسن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے برف کی کیمسٹری کا باریک بینی سے جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ دھماکہ کب ہوا تھا۔ انہوں نے پایا کہ سنہ 1831 کے موسم گرما میں آتش فشاں پھٹا تھا اور یہ انتہائی طاقتور تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں نے خبردار کیا کہ اس بات کا امکان ہے اسی طرح کا ایک اور آتش فشاں دوبارہ پھٹ سکتا ہے جو نظام جو کرہ ارض پر زندگی کو درہم برہم کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سائنسدانوں کی ٹیم نے اس بات کا پتہ لگایا ہے کہ تقریباً 200 سال قبل سورج کا رنگ پراسرار طور پر نیلا کیوں ہوگیا تھا۔</strong></p>
<p>ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سموشیر نامی دور دراز جزیرے پر آتش فشاں ایک بڑے پیمانے پر پھٹنے کا ذریعہ تھا جس نے پورے زمین کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ جزیرہ اِس وقت روس اور جاپان کے درمیان کا متنازعہ علاقہ کہلاتا ہے۔</p>
<p>سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق سنہ 1831 میں ایک بہت بڑا آتش فشاں پھٹنے سے سلفر ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار ہوا میں پھیل گئی تھی، جس کی وجہ سے سورج نیلا نظر آنے لگا اور دنیا میں غیر معمولی سطح پر ٹھنڈ میں اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30430228">خلا میں 140 کھرب سمندروں کے برابر تیرتا پانی مل گیا</a></p>
<p>اسکاٹ لینڈ میں سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے محققین نے اپنی دریافت کی حمایت کے لیے آئس کور ریکارڈز کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ 1831 کے پھٹنے کا کوئی عینی شاہد نہیں ہے کیونکہ ایسا ایک دور دراز، غیر آباد جزیرے پر ہوا تھا۔</p>
<p>شریک مصنف ول ہچیسن نے اس لمحے کو بیان کیا جب انہوں نے لیب میں راکھ کا تجزیہ کیا اور کہا کہ یہ ایک سنسنی خیز دریافت تھی جب انہوں نے آتش فشاں سے برف کے مرکز میں پائی جانے والی راکھ کو ملایا۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30426167">خلا میں ٹریفک جام ہونے لگا، پریشان سائنس دانوں نے سر جوڑ لیے</a></p>
<p>ول ہچیسن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے برف کی کیمسٹری کا باریک بینی سے جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ دھماکہ کب ہوا تھا۔ انہوں نے پایا کہ سنہ 1831 کے موسم گرما میں آتش فشاں پھٹا تھا اور یہ انتہائی طاقتور تھا۔</p>
<p>سائنس دانوں نے خبردار کیا کہ اس بات کا امکان ہے اسی طرح کا ایک اور آتش فشاں دوبارہ پھٹ سکتا ہے جو نظام جو کرہ ارض پر زندگی کو درہم برہم کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30433867</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jan 2025 10:35:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/01/111033092ec65b0.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/01/111033092ec65b0.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
