<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 07:31:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 07:31:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا کے پھیلاؤ کی شروعات کہاں سے ہوئی؟ امریکی خفیہ ایجنسی نے اپنا مؤقف بدل لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30436995/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کورونا وبا کے پھیلاؤ سے متعلق امریکی سینٹرل انٹیلی جنس (سی آئی اے) نے اپنا مؤقف بدل لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کورونا وائرس نے سال 2020 میں دنیا بھر میں تباہی مچائی تھی جسے عالمی وبا قرار دیا گیا تھا۔ کئی ممالک اس مرض کے پھیلنے کی وجہ چین کو قرار دیتے ہیں جن میں امریکا سرفہرست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی کی جانب سے اس حوالے سے اپنا مؤقف بدلتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 کسی قدرتی یا جانور کے بجائے کسی لیبارٹری سے پھیلا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایک طویل عرصے سے سی آئی اے یہ انکشاف کرنے میں ناکام رہی کہ آیا کورونا وبا کسی مقام سے پھیلی۔ لیکن حال ہی میں سابق سی آئی اے ڈائریکٹر نے اپنی ٹیم کو حتمی فیصلہ کرنے اور اس بات کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا کہ وبائی بیماری کیسے پھیلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کا خیال ہے کہ اس بات کا تھوڑا زیادہ امکان ہے کہ کورونا وائرس کسی لیب سے آیا، لیکن انہیں اب بھی اس حوالے سے یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ مذکورہ وائرس کا پھیلاؤ اب بھی دونوں صورتوں میں ممکن ہے کہ یا تو یہ لیبارٹری سے پھیلا ہے یا پھر قدرت کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30435305"&gt;امریکی سی آئی اے اہلکار کا ایران پر اسرائیلی حملے کی خفیہ دستاویزات لیک کرنے کا اعتراف&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی خفیہ ایجنسی کے اس مؤقف پر واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ آیا سی آئی اے کو اس بارے میں کوئی نئی ​​معلومات ملی ہیں کہ یا اس نے نتیجے تک پہنچنے کے لیے کوئی نیا ثبوت استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30427632"&gt;ایک اور عالمی وبا اور تباہ کن جنگ، نوسٹراڈیمس کی 2025 کیلئے خوفناک پیشگوئیاں&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یہ جاننے کے لیے تحقیق کی حمایت کرتی ہے کہ COVID-19 کہاں سے آیا اور اس نے ان کوششوں میں حصہ لیا۔ تاہم چین امریکہ پر یہ الزام بھی لگاتا ہے کہ وہ اس معاملے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے، خاص طور پر جب سے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تحقیقات کا عمل شروع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان دعووں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ وبائی بیماری لیبارٹری میں ایک حادثے سے شروع ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی اولین ترجیحات میں سے ایک یہ ہے کہ ہماری خفیہ ایجنسی یہ سامنے لے کر آئے کہ کورونا وبائی بیماری کہاں سے پھیلی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کورونا وبا کے پھیلاؤ سے متعلق امریکی سینٹرل انٹیلی جنس (سی آئی اے) نے اپنا مؤقف بدل لیا۔</strong></p>
<p>واضح رہے کہ کورونا وائرس نے سال 2020 میں دنیا بھر میں تباہی مچائی تھی جسے عالمی وبا قرار دیا گیا تھا۔ کئی ممالک اس مرض کے پھیلنے کی وجہ چین کو قرار دیتے ہیں جن میں امریکا سرفہرست ہے۔</p>
<p>رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی کی جانب سے اس حوالے سے اپنا مؤقف بدلتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 کسی قدرتی یا جانور کے بجائے کسی لیبارٹری سے پھیلا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایک طویل عرصے سے سی آئی اے یہ انکشاف کرنے میں ناکام رہی کہ آیا کورونا وبا کسی مقام سے پھیلی۔ لیکن حال ہی میں سابق سی آئی اے ڈائریکٹر نے اپنی ٹیم کو حتمی فیصلہ کرنے اور اس بات کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا کہ وبائی بیماری کیسے پھیلی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کا خیال ہے کہ اس بات کا تھوڑا زیادہ امکان ہے کہ کورونا وائرس کسی لیب سے آیا، لیکن انہیں اب بھی اس حوالے سے یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ مذکورہ وائرس کا پھیلاؤ اب بھی دونوں صورتوں میں ممکن ہے کہ یا تو یہ لیبارٹری سے پھیلا ہے یا پھر قدرت کا نتیجہ ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30435305">امریکی سی آئی اے اہلکار کا ایران پر اسرائیلی حملے کی خفیہ دستاویزات لیک کرنے کا اعتراف</a></p>
<p>امریکی خفیہ ایجنسی کے اس مؤقف پر واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔</p>
<p>یہ واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ آیا سی آئی اے کو اس بارے میں کوئی نئی ​​معلومات ملی ہیں کہ یا اس نے نتیجے تک پہنچنے کے لیے کوئی نیا ثبوت استعمال کیا۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30427632">ایک اور عالمی وبا اور تباہ کن جنگ، نوسٹراڈیمس کی 2025 کیلئے خوفناک پیشگوئیاں</a></p>
<p>چین کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یہ جاننے کے لیے تحقیق کی حمایت کرتی ہے کہ COVID-19 کہاں سے آیا اور اس نے ان کوششوں میں حصہ لیا۔ تاہم چین امریکہ پر یہ الزام بھی لگاتا ہے کہ وہ اس معاملے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے، خاص طور پر جب سے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تحقیقات کا عمل شروع کیا۔</p>
<p>چین کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان دعووں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ وبائی بیماری لیبارٹری میں ایک حادثے سے شروع ہوئی تھی۔</p>
<p>سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی اولین ترجیحات میں سے ایک یہ ہے کہ ہماری خفیہ ایجنسی یہ سامنے لے کر آئے کہ کورونا وبائی بیماری کہاں سے پھیلی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30436995</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Jan 2025 11:42:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/01/26113805ee26cd7.png?r=113830" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/01/26113805ee26cd7.png?r=113830"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
