<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 07:54:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 30 Jun 2026 07:54:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت، پارلیمانی کمیٹی بنانے کی پیشکش</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30437940/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی پیشکش کردی اور کہا کہ کہا ہے کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات پر تیار ہیں، آئیں پارلیمانی کمیٹی بنائیں اور معاملات کو آگے بڑھائیں، ہم نے پی ٹی آئی سے نیک نیتی سے مذاکرات کیے مگر 28 تاریخ کے اجلاس سے پہلے ہی تحریک انصاف مذاکرات سے بھاگ گئی، پی ٹی آئی کا انتخابات پر جوڈیشل کمیٹی کا مطالبہ غیر ضروری ہے، الیکشن 2018 کے لیے جو کمیٹی بنی تھی وہ بھی اپنا کام کرے اور فروری 2024 کے الیکشن کے لیے بھی کمیٹی بنے اور حقائق سامنے لائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکرات کی پیشکش کو ہم نے کھلے دل سے قبول کیا، ایک کمیٹی بنائی گئی اور پھر مذاکرات شروع ہوئے، کمیٹی نے پی ٹی آئی سے کہا کہ اپنے مطالبات لکھ کر دیں جس پر پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات پیش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی نے بھی پی ٹی آئی سے کہا کہ ہم بھی لکھ کر جواب دیں گے، 28 جنوری کو میٹنگ ہونا تھا لیکن اس سے پہلے پی ٹی آئی نے انکار کردیا، پی ٹی آئی مذاکرات سے بھاگ رہی ہے، ہاؤس کمیٹی بنانے کے لیے تیار ہیں، ملک کسی انتشار سے مزید نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا، ہاؤس کمیٹی 2014 کے دھرنے کا بھی احاطہ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے مزید کہا کہ کیا یہ درست نہیں کہ 2018 کے الیکشن کے بعد جب میں کالی پٹیاں باندھ کر اسمبلی میں آیا تو عمران خان نے مجھے کہا کہ ہم ہاؤس کمیٹی بنارہے ہیں جو اس کی ساری تحقیقات کرے گی، کمیٹی کے لیے آپ بھی اپنے ممبرز نامزد ردیں، میں نے عمران خان سے کہا کہ آپ اس کا اعلان کردیں جس پر انہوں نے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا، یہ کمیٹی ضرور بنی اور اس کمیٹی کے صرف ایک، دو بار ہی اجلاس ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے اپنے گریبان میں جھانکیں، 2018 میں ہاؤس کمیٹی بنی تھی، کوئی جوڈیشل کمیشن نہیں بنا تھا، ہم چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور مذاکرات کرے، ہم ہاؤس کمیٹی کے لیے تیار ہیں، 2018 کی کمیٹی بھی اپنا کام مکمل کرے اور 2024 کے الیکشن کی تحقیقات کے لیے بھی کمیٹی بنے اور حقائق سامنے لے کر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مزید کہا کہ اگر 26 نومبر کے دھرنے کی بات کی جارہی ہے تو کمیٹی 2014 کے دھرنے کا بھی احاطہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں صدق دل اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہوں تاکہ ملک آگے چلے نہ کہ ان کے انتشار کی وجہ سے ملک کو نقصان اٹھانا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کررہی ہیں، ابھی ہم نے میجر حمزہ اسرار شہید کی نماز جنازہ ادا کی، انہوں نے دلیری کے ساتھ خوارج کا مقابلہ کیا، میجر حمزہ اسرار اور سپاہی محمد نعیم نے جام شہادت نوش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دلیری اور قربانیوں کی داستانیں ہر روز سننے کو ملتی ہیں،  قربانیوں کی تکریم اور توقیر ہم سب کا فرض ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی پیشکش کردی اور کہا کہ کہا ہے کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات پر تیار ہیں، آئیں پارلیمانی کمیٹی بنائیں اور معاملات کو آگے بڑھائیں، ہم نے پی ٹی آئی سے نیک نیتی سے مذاکرات کیے مگر 28 تاریخ کے اجلاس سے پہلے ہی تحریک انصاف مذاکرات سے بھاگ گئی، پی ٹی آئی کا انتخابات پر جوڈیشل کمیٹی کا مطالبہ غیر ضروری ہے، الیکشن 2018 کے لیے جو کمیٹی بنی تھی وہ بھی اپنا کام کرے اور فروری 2024 کے الیکشن کے لیے بھی کمیٹی بنے اور حقائق سامنے لائیں۔</strong></p>
<p>وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکرات کی پیشکش کو ہم نے کھلے دل سے قبول کیا، ایک کمیٹی بنائی گئی اور پھر مذاکرات شروع ہوئے، کمیٹی نے پی ٹی آئی سے کہا کہ اپنے مطالبات لکھ کر دیں جس پر پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات پیش کیے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی نے بھی پی ٹی آئی سے کہا کہ ہم بھی لکھ کر جواب دیں گے، 28 جنوری کو میٹنگ ہونا تھا لیکن اس سے پہلے پی ٹی آئی نے انکار کردیا، پی ٹی آئی مذاکرات سے بھاگ رہی ہے، ہاؤس کمیٹی بنانے کے لیے تیار ہیں، ملک کسی انتشار سے مزید نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا، ہاؤس کمیٹی 2014 کے دھرنے کا بھی احاطہ کرے گی۔</p>
<p>شہباز شریف نے مزید کہا کہ کیا یہ درست نہیں کہ 2018 کے الیکشن کے بعد جب میں کالی پٹیاں باندھ کر اسمبلی میں آیا تو عمران خان نے مجھے کہا کہ ہم ہاؤس کمیٹی بنارہے ہیں جو اس کی ساری تحقیقات کرے گی، کمیٹی کے لیے آپ بھی اپنے ممبرز نامزد ردیں، میں نے عمران خان سے کہا کہ آپ اس کا اعلان کردیں جس پر انہوں نے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا، یہ کمیٹی ضرور بنی اور اس کمیٹی کے صرف ایک، دو بار ہی اجلاس ہوا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے اپنے گریبان میں جھانکیں، 2018 میں ہاؤس کمیٹی بنی تھی، کوئی جوڈیشل کمیشن نہیں بنا تھا، ہم چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور مذاکرات کرے، ہم ہاؤس کمیٹی کے لیے تیار ہیں، 2018 کی کمیٹی بھی اپنا کام مکمل کرے اور 2024 کے الیکشن کی تحقیقات کے لیے بھی کمیٹی بنے اور حقائق سامنے لے کر آئے۔</p>
<p>وزیراعظم نے مزید کہا کہ اگر 26 نومبر کے دھرنے کی بات کی جارہی ہے تو کمیٹی 2014 کے دھرنے کا بھی احاطہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں صدق دل اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہوں تاکہ ملک آگے چلے نہ کہ ان کے انتشار کی وجہ سے ملک کو نقصان اٹھانا پڑے۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کررہی ہیں، ابھی ہم نے میجر حمزہ اسرار شہید کی نماز جنازہ ادا کی، انہوں نے دلیری کے ساتھ خوارج کا مقابلہ کیا، میجر حمزہ اسرار اور سپاہی محمد نعیم نے جام شہادت نوش کیا۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دلیری اور قربانیوں کی داستانیں ہر روز سننے کو ملتی ہیں،  قربانیوں کی تکریم اور توقیر ہم سب کا فرض ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30437940</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jan 2025 14:55:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/01/30142822147f429.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/01/30142822147f429.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
