<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 02:42:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 02:42:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی کے بعد حکومت نے بھی مذاکرات ختم کر دیے، عرفان صدیقی کی تصدیق</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30438230/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پی ٹی آئی کے بعد حکومت نے بھی مذاکراتی عمل ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے مذاکرات کے خاتمے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اپنے قیدیوں کی رہائی چاہتی ہے تو واحد راستہ یہ ہے کہ وزیراعظم اور صدر سے سزائیں معاف کرنے کی سفارش کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں کئی ایسے مطالبات تھے جن کی بنیاد پر اعتماد سازی ہو سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے مطالبے پر حکومت نے سرخ لکیر (ریڈ کراس) نہیں کھینچی تھی۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک منفرد عجوبہ ہے، جس کے ڈی این اے اور خمیر میں مذاکرات شامل ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیکا ایکٹ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم سے بات کی ہے کہ صحافیوں کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون میں ضروری ترامیم کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے پر کام کر رہی ہے اور صحافیوں کی آواز کو سنا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پیکا-قانون-متنازع-ہوگیا-مشورہ-لینا-چاہیے-تھا-عرفان-صدیقی" href="#پیکا-قانون-متنازع-ہوگیا-مشورہ-لینا-چاہیے-تھا-عرفان-صدیقی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پیکا قانون متنازع ہوگیا، مشورہ لینا چاہیے تھا، عرفان صدیقی&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینیٹرعرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ مانتاہوں پیکاقانون سازی میں حکومت نے جلدبازی کی، پیکا قانون متنازع ہوگیا مشورہ لینا چاہیے تھا، پیکامعاملہ ایسانہیں جس کی اصلاح نہ ہوسکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی ٹی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی والے23جنوری کوفیصلہ کرچکےتھے، پی ٹی آئی نے اپنی ڈیڈلائن کا انتظارنہیں کیا، وہ فیصلہ کیے بیٹھےتھےمذاکرات کوآگےلےکرنہیں جانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرفان صدیقی نے کہا کہ اسی لیے پی ٹی آئی بغیربتائےمذاکرات سےنکل گئی، وہ حرف آخرلے کرآئے کہ یہ مطالبات ہیں، ہم نے اس حوالے سے بڑی لچک رکھی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30438204"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے کہا کہ وہ مذاکرات میں غلطی سےآئے، یہ ان کاایریاآف ایکسپرٹیزہےہی نہیں، وہ اب اپنی اسپیشلائزیشن کی جگہ پرچلے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرفان صدیقی نے کہا کہ ان کی اسپیشلائیزیشن حملے کرنا، دھرنےدینااورپٹرول بم لاناہے، وہ حملےکریں، ریاست اپنےشہریوں اور وقارکادفاع کرےگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متنازع پیکا قانون کے حوالے سے انھوں نےکہا کہ مانتاہوں پیکاقانون سازی میں حکومت نےجلدبازی کی، پیکاقانون متنازع ہوگیا مشورہ لیناچاہیےتھا، پیکامعاملہ ایسانہیں جس کی اصلاح نہ ہوسکے۔ قائمہ کمیٹی داخلہ میں کہا تھا کہ جلدی نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر10،15 دن کی تاخیرہوجاتی تو قیامت نہیں آجاتی، مشاورت ہوتی تو بہت سے نکات واضح ہوجاتے، صحافیوں کے تحفظات بھی دورکیے جاسکتے تھے۔ لیکن سیرحاصل مشاورت نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما مسلم لیگ ن نے مزید کہا کہ اب بھی وقت ہے صحافی تنظیموں کے ساتھ بیٹھا جاسکتا ہے، پیکا قانون میں ابھی بھی ترمیم ہوسکتی ہے۔ کامران مرتضی کے علاوہ کسی نے مخالفت میں آوازنہیں اٹھائی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پی ٹی آئی کے بعد حکومت نے بھی مذاکراتی عمل ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے مذاکرات کے خاتمے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اپنے قیدیوں کی رہائی چاہتی ہے تو واحد راستہ یہ ہے کہ وزیراعظم اور صدر سے سزائیں معاف کرنے کی سفارش کریں۔</strong></p>
<p>سعودی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں کئی ایسے مطالبات تھے جن کی بنیاد پر اعتماد سازی ہو سکتی تھی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے مطالبے پر حکومت نے سرخ لکیر (ریڈ کراس) نہیں کھینچی تھی۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک منفرد عجوبہ ہے، جس کے ڈی این اے اور خمیر میں مذاکرات شامل ہی نہیں۔</p>
<p>پیکا ایکٹ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم سے بات کی ہے کہ صحافیوں کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون میں ضروری ترامیم کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے پر کام کر رہی ہے اور صحافیوں کی آواز کو سنا جائے گا۔</p>
<h3><a id="پیکا-قانون-متنازع-ہوگیا-مشورہ-لینا-چاہیے-تھا-عرفان-صدیقی" href="#پیکا-قانون-متنازع-ہوگیا-مشورہ-لینا-چاہیے-تھا-عرفان-صدیقی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پیکا قانون متنازع ہوگیا، مشورہ لینا چاہیے تھا، عرفان صدیقی</strong></h3>
<p><strong>سینیٹرعرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ مانتاہوں پیکاقانون سازی میں حکومت نے جلدبازی کی، پیکا قانون متنازع ہوگیا مشورہ لینا چاہیے تھا، پیکامعاملہ ایسانہیں جس کی اصلاح نہ ہوسکے۔</strong></p>
<p>نجی ٹی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی والے23جنوری کوفیصلہ کرچکےتھے، پی ٹی آئی نے اپنی ڈیڈلائن کا انتظارنہیں کیا، وہ فیصلہ کیے بیٹھےتھےمذاکرات کوآگےلےکرنہیں جانا۔</p>
<p>عرفان صدیقی نے کہا کہ اسی لیے پی ٹی آئی بغیربتائےمذاکرات سےنکل گئی، وہ حرف آخرلے کرآئے کہ یہ مطالبات ہیں، ہم نے اس حوالے سے بڑی لچک رکھی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30438204"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انھوں نے کہا کہ وہ مذاکرات میں غلطی سےآئے، یہ ان کاایریاآف ایکسپرٹیزہےہی نہیں، وہ اب اپنی اسپیشلائزیشن کی جگہ پرچلے گئے۔</p>
<p>عرفان صدیقی نے کہا کہ ان کی اسپیشلائیزیشن حملے کرنا، دھرنےدینااورپٹرول بم لاناہے، وہ حملےکریں، ریاست اپنےشہریوں اور وقارکادفاع کرےگی۔</p>
<p>متنازع پیکا قانون کے حوالے سے انھوں نےکہا کہ مانتاہوں پیکاقانون سازی میں حکومت نےجلدبازی کی، پیکاقانون متنازع ہوگیا مشورہ لیناچاہیےتھا، پیکامعاملہ ایسانہیں جس کی اصلاح نہ ہوسکے۔ قائمہ کمیٹی داخلہ میں کہا تھا کہ جلدی نہ کریں۔</p>
<p>عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر10،15 دن کی تاخیرہوجاتی تو قیامت نہیں آجاتی، مشاورت ہوتی تو بہت سے نکات واضح ہوجاتے، صحافیوں کے تحفظات بھی دورکیے جاسکتے تھے۔ لیکن سیرحاصل مشاورت نہیں ہوئی۔</p>
<p>رہنما مسلم لیگ ن نے مزید کہا کہ اب بھی وقت ہے صحافی تنظیموں کے ساتھ بیٹھا جاسکتا ہے، پیکا قانون میں ابھی بھی ترمیم ہوسکتی ہے۔ کامران مرتضی کے علاوہ کسی نے مخالفت میں آوازنہیں اٹھائی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30438230</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Feb 2025 09:07:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/01/31205246f4b5d7c.webp?r=205609" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/01/31205246f4b5d7c.webp?r=205609"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
