<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:07:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:07:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جسم میں موجود خفیہ چربی موت کا امکان بڑھانے لگی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30438555/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے جسم میں ایک ایسی چربی بھی ہو سکتی ہے جو دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے، لیکن عام طور پر ہم اس پر دھیان نہیں دیتے؟ یہ چربی ہمارے پٹھوں کے اندر اور ان کے آس پاس جمع ہو سکتی ہے، اور ایک نئی تحقیق کے مطابق، یہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’چھپی ہوئی چربی‘ ایک نظر انداز شدہ خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپی ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے کیا پتا چلا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، جن افراد کے پٹھوں میں زیادہ چربی ہوتی ہے، ان میں دل کی بیماری، ہارٹ اٹیک اور یہاں تک کہ موت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ خطرہ صرف موٹے افراد تک محدود نہیں بلکہ ان لوگوں میں بھی پایا گیا جن کا باڈی ماس انڈیکس نارمل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30351077/"&gt;وزن کم کرنا ہے تو کھیرے کو ایسے کھائیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی ایم آئی کیوں کافی نہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر لوگ موٹاپے کا اندازہ لگانے کے لیے باڈی ماس انڈیکس (body mass index) کا استعمال کرتے ہیں، لیکن یہ پیمانہ ہر کسی کے لیے درست ثابت نہیں ہوتا۔ کچھ افراد کا ’بی ایم آئی‘  تو نارمل ہوتا ہے، لیکن ان کے جسم میں چھپی ہوئی چربی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے، جو ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ چربی کیسے نقصان پہنچاتی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ’انٹرمسکلر‘ چربی جسم کے مختلف پٹھوں میں موجود ہو سکتی ہے اور خون کی باریک نالیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دل کی چھوٹی رگیں ٹھیک سے کام نہیں کر پاتیں، جو دل کی بیماری، ہارٹ فیل ہونے اور دیگر مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30425891"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تحقیق کیسے کی گئی؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق میں 669 افراد کو شامل کیا گیا، جنہیں سینے میں درد یا سانس لینے میں تکلیف کی شکایت تھی، لیکن ان میں دل کی رگوں کی کوئی بڑی رکاوٹ نہیں پائی گئی۔ ان افراد کی اوسط عمر 63 سال تھی، اور ان میں 70 فیصد خواتین شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اب کیا کیا جائے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ عام پیمانے (جیسے BMI) ہمیشہ درست معلومات فراہم نہیں کرتے، اس لیے صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ہمیں مزید تحقیق اور بہتر طریقوں کی ضرورت ہے۔ فی الحال، متوازن غذا، ورزش اور جسمانی سرگرمیاں اپنا کر ہم خود کو بہتر صحت کی طرف لے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30350449/"&gt;وزن کم کرنے کے لیے صرف 2 اجزاء والا جادوئی مشروب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ دل کی صحت کا خیال رکھنا چاہتے ہیں تو صرف وزن یا ’بی ایم آئی‘  پر نہ جائیں، بلکہ اپنے جسم میں چربی کی تقسیم پر بھی غور کریں۔ چھپی ہوئی چربی کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اپنا طرزِزندگی سادہ اور صحت مند اپنانا ہوگا جس میں سادی غذائیں، سبزیاں، پھل، پانی کی مناسب مقدار اور ورزش کےساتھ نیند اور اپنے آرام کے اوقات پر بھی توجہہ دینی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رکھیں مناسب اور صحت بخش طرزِ زندگی آپ کو بہت سی مشکلات سے بچا سکتا ہے اور آپ صحتمند، چاق و چوبند رہ سکتے ہیں-&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے جسم میں ایک ایسی چربی بھی ہو سکتی ہے جو دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے، لیکن عام طور پر ہم اس پر دھیان نہیں دیتے؟ یہ چربی ہمارے پٹھوں کے اندر اور ان کے آس پاس جمع ہو سکتی ہے، اور ایک نئی تحقیق کے مطابق، یہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p>’چھپی ہوئی چربی‘ ایک نظر انداز شدہ خطرہ ہے۔</p>
<p><strong>یورپی ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے کیا پتا چلا؟</strong></p>
<p>یورپی ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، جن افراد کے پٹھوں میں زیادہ چربی ہوتی ہے، ان میں دل کی بیماری، ہارٹ اٹیک اور یہاں تک کہ موت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ خطرہ صرف موٹے افراد تک محدود نہیں بلکہ ان لوگوں میں بھی پایا گیا جن کا باڈی ماس انڈیکس نارمل تھا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30351077/">وزن کم کرنا ہے تو کھیرے کو ایسے کھائیں</a></strong></p>
<p><strong>بی ایم آئی کیوں کافی نہیں؟</strong></p>
<p>زیادہ تر لوگ موٹاپے کا اندازہ لگانے کے لیے باڈی ماس انڈیکس (body mass index) کا استعمال کرتے ہیں، لیکن یہ پیمانہ ہر کسی کے لیے درست ثابت نہیں ہوتا۔ کچھ افراد کا ’بی ایم آئی‘  تو نارمل ہوتا ہے، لیکن ان کے جسم میں چھپی ہوئی چربی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے، جو ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p><strong>یہ چربی کیسے نقصان پہنچاتی ہے؟</strong></p>
<p>یہ ’انٹرمسکلر‘ چربی جسم کے مختلف پٹھوں میں موجود ہو سکتی ہے اور خون کی باریک نالیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دل کی چھوٹی رگیں ٹھیک سے کام نہیں کر پاتیں، جو دل کی بیماری، ہارٹ فیل ہونے اور دیگر مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30425891"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong>تحقیق کیسے کی گئی؟</strong></p>
<p>اس تحقیق میں 669 افراد کو شامل کیا گیا، جنہیں سینے میں درد یا سانس لینے میں تکلیف کی شکایت تھی، لیکن ان میں دل کی رگوں کی کوئی بڑی رکاوٹ نہیں پائی گئی۔ ان افراد کی اوسط عمر 63 سال تھی، اور ان میں 70 فیصد خواتین شامل تھیں۔</p>
<p><strong>اب کیا کیا جائے؟</strong></p>
<p>چونکہ عام پیمانے (جیسے BMI) ہمیشہ درست معلومات فراہم نہیں کرتے، اس لیے صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ہمیں مزید تحقیق اور بہتر طریقوں کی ضرورت ہے۔ فی الحال، متوازن غذا، ورزش اور جسمانی سرگرمیاں اپنا کر ہم خود کو بہتر صحت کی طرف لے جا سکتے ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30350449/">وزن کم کرنے کے لیے صرف 2 اجزاء والا جادوئی مشروب</a></strong></p>
<p>اگر آپ دل کی صحت کا خیال رکھنا چاہتے ہیں تو صرف وزن یا ’بی ایم آئی‘  پر نہ جائیں، بلکہ اپنے جسم میں چربی کی تقسیم پر بھی غور کریں۔ چھپی ہوئی چربی کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اپنا طرزِزندگی سادہ اور صحت مند اپنانا ہوگا جس میں سادی غذائیں، سبزیاں، پھل، پانی کی مناسب مقدار اور ورزش کےساتھ نیند اور اپنے آرام کے اوقات پر بھی توجہہ دینی ہوگی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رکھیں مناسب اور صحت بخش طرزِ زندگی آپ کو بہت سی مشکلات سے بچا سکتا ہے اور آپ صحتمند، چاق و چوبند رہ سکتے ہیں-</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30438555</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Feb 2025 14:15:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/02/021416439fa9c04.webp?r=141652" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/02/021416439fa9c04.webp?r=141652"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
