<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 13:18:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 13:18:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آفیشل سیکریٹ، آرمی ایکٹ میں ترامیم سے متعلق عمران خان کی درخواست پر عائد اعتراضات ختم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30439643/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں 2023 میں کی گئی ترامیم سے متعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی درخواست پر عائد اعتراضات ختم کردیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کے معاملے پر عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت آئینی بینچ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر عائد اعتراضات ختم کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کو آئینی درخواست کو باضابطہ نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے ترامیم کے خلاف پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟ جس پر وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترامیم سے لوگوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30338315"&gt;ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی سرگرمیوں پر پانچ سالہ پابندی، آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل سینیٹ سے منظور&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 184/3 میں قوانین کے خلاف درخواستیں مرضی سے ہی سنتی رہی ہے، جو کیس دل کیا سن لیا جو نہ دل کیا کہہ دیا پہلے ہائی کورٹ جائیں، براہ راست درخواستیں سنتے رہے تو آرٹیکل 199 غیر مؤثر ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30339183"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ یہ فیصلہ رجسٹرار نہیں عدالت کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئینی بینچ نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل بھی طلب کر لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اگست 2023 میں آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، تاہم اس وقت صدر مملکت عارف علوی نے کہا تھا کہ انہوں نے تو ان بلوں پر دستخط ہی نہیں کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرعارف علوی کے مطابق میرا خدا میرا گواہ ہے، میں نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرعارف علوی نے کہا تھا کہ میں نے کئی بار عملے سے تصدیق کی کہ آیا انہوں نے بل واپس کر دیا ہے۔ تاہم مجھے اب پتا چلا ہے کہ میرے عملے نے میری مرضی اور حکم کونہیں مانا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں 2023 میں کی گئی ترامیم سے متعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی درخواست پر عائد اعتراضات ختم کردیے۔</strong></p>
<p>جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کے معاملے پر عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔</p>
<p>دوران سماعت آئینی بینچ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر عائد اعتراضات ختم کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کو آئینی درخواست کو باضابطہ نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت کر دی۔</p>
<p>عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے ترامیم کے خلاف پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟ جس پر وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترامیم سے لوگوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30338315">ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی سرگرمیوں پر پانچ سالہ پابندی، آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل سینیٹ سے منظور</a></p>
<p>جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 184/3 میں قوانین کے خلاف درخواستیں مرضی سے ہی سنتی رہی ہے، جو کیس دل کیا سن لیا جو نہ دل کیا کہہ دیا پہلے ہائی کورٹ جائیں، براہ راست درخواستیں سنتے رہے تو آرٹیکل 199 غیر مؤثر ہو جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30339183"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ یہ فیصلہ رجسٹرار نہیں عدالت کر سکتی ہے۔</p>
<p>آئینی بینچ نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل بھی طلب کر لیے۔</p>
<p>واضح رہے کہ اگست 2023 میں آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، تاہم اس وقت صدر مملکت عارف علوی نے کہا تھا کہ انہوں نے تو ان بلوں پر دستخط ہی نہیں کیے۔</p>
<p>ڈاکٹرعارف علوی کے مطابق میرا خدا میرا گواہ ہے، میں نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔</p>
<p>ڈاکٹرعارف علوی نے کہا تھا کہ میں نے کئی بار عملے سے تصدیق کی کہ آیا انہوں نے بل واپس کر دیا ہے۔ تاہم مجھے اب پتا چلا ہے کہ میرے عملے نے میری مرضی اور حکم کونہیں مانا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30439643</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Feb 2025 11:30:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/02/07110053135ab4f.png?r=110138" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/02/07110053135ab4f.png?r=110138"/>
        <media:title>فوٹو۔۔۔۔۔ فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
