<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 15:32:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Apr 2026 15:32:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان آئی ایم ایف سے نیا قرض پروگرام لینے کے لیے تیار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30441435/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان نئے قرض پروگرام پر مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان آئی ایم ایف کے 26ویں پروگرام کے لیے بات چیت کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے موسمیاتی لچک فنڈ پر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر دی ہے، اور اس حوالے سے 24 فروری کو آئی ایم ایف کا نیا وفد پاکستان پہنچے گا۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو موسمیاتی لچک فنڈ سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم حاصل ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کا یہ وفد پاکستان میں ایک ہفتہ قیام کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30441349/"&gt;آئی ایم ایف کا وفد ضروری ملاقاتوں اور اہم امور پر بریفنگ کے بعد واپس روانہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا پہلا موسمیاتی پروگرام ہوگا، جس کے تحت قدرتی آفات سے نمٹنے اور معیشت کو موسمیاتی اثرات سے بچانے کے لیے مالی مدد دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، پاکستان کے جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے لیے آئی ایم ایف کا ایک الگ مشن بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30441347/"&gt;وزیراعظم کی انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے سربراہ سے ملاقات، مزید 20 ارب ڈالر ملنے کی امید&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق، آئی ایم ایف کا دوسرا وفد 4 مارچ کو پاکستان پہنچنے کا امکان ہے، جو 4 سے 14 مارچ تک ای ایف ایف پروگرام پر مذاکرات کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان نئے قرض پروگرام پر مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان آئی ایم ایف کے 26ویں پروگرام کے لیے بات چیت کرے گا۔</strong></p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے موسمیاتی لچک فنڈ پر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر دی ہے، اور اس حوالے سے 24 فروری کو آئی ایم ایف کا نیا وفد پاکستان پہنچے گا۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو موسمیاتی لچک فنڈ سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم حاصل ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کا یہ وفد پاکستان میں ایک ہفتہ قیام کرے گا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30441349/">آئی ایم ایف کا وفد ضروری ملاقاتوں اور اہم امور پر بریفنگ کے بعد واپس روانہ</a></strong></p>
<p>یہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا پہلا موسمیاتی پروگرام ہوگا، جس کے تحت قدرتی آفات سے نمٹنے اور معیشت کو موسمیاتی اثرات سے بچانے کے لیے مالی مدد دی جائے گی۔</p>
<p>اس کے علاوہ، پاکستان کے جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے لیے آئی ایم ایف کا ایک الگ مشن بھی متوقع ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30441347/">وزیراعظم کی انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے سربراہ سے ملاقات، مزید 20 ارب ڈالر ملنے کی امید</a></strong></p>
<p>ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق، آئی ایم ایف کا دوسرا وفد 4 مارچ کو پاکستان پہنچنے کا امکان ہے، جو 4 سے 14 مارچ تک ای ایف ایف پروگرام پر مذاکرات کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30441435</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Feb 2025 14:27:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/02/15142443c639c86.webp?r=142536" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/02/15142443c639c86.webp?r=142536"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
