<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 03:50:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 03:50:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ ہائیکورٹ میں پیکا قانون کے خلاف آئینی درخواست دائر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30442410/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ ہائیکورٹ میں پیکا قانون کے خلاف آئینی درخواست دائر کر دی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ قانون آزادی اظہار اور آزادی رائے پر حملہ ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ پیکا قانون کے تحت صحافیوں کو اپنے خبر کے ذرائع بتانے ہوں گے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ پیکا قانون آئین کے آرٹیکل 8، 9، 10 اے، 18، 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی ہے، جبکہ اسلامی قوانین اور عالمی قانون آئی سی سی پی آر کے آرٹیکل 19 کے بھی منافی ہے، جو صحافیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار نے مؤقف دیا کہ پاکستان نے کائرو ڈیلگیشن ہیومن رائٹس پر بھی دستخط کر رکھے ہیں، جو آزادی اظہار کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مزید کہا گیا کہ پیکا قانون کے تحت بننے والے ٹربیونل کا چیئرمین اور ممبران انتظامیہ کے زیرِ کنٹرول ہوں گے، جس کے باعث اس کے فیصلے جانبدارانہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پیکا قانون کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ ہائیکورٹ میں پیکا قانون کے خلاف آئینی درخواست دائر کر دی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ قانون آزادی اظہار اور آزادی رائے پر حملہ ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ پیکا قانون کے تحت صحافیوں کو اپنے خبر کے ذرائع بتانے ہوں گے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔</strong></p>
<p>درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ پیکا قانون آئین کے آرٹیکل 8، 9، 10 اے، 18، 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی ہے، جبکہ اسلامی قوانین اور عالمی قانون آئی سی سی پی آر کے آرٹیکل 19 کے بھی منافی ہے، جو صحافیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>درخواست گزار نے مؤقف دیا کہ پاکستان نے کائرو ڈیلگیشن ہیومن رائٹس پر بھی دستخط کر رکھے ہیں، جو آزادی اظہار کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>درخواست میں مزید کہا گیا کہ پیکا قانون کے تحت بننے والے ٹربیونل کا چیئرمین اور ممبران انتظامیہ کے زیرِ کنٹرول ہوں گے، جس کے باعث اس کے فیصلے جانبدارانہ ہوں گے۔</p>
<p>درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پیکا قانون کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30442410</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Feb 2025 10:36:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شمیل احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/02/20103437d481d2c.webp?r=103613" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/02/20103437d481d2c.webp?r=103613"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
