<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Quirky</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 07:32:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 07:32:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’تاج محل‘ کا اصل نام جان کر آپ حیران رہ جائیں گے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30443401/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تاج محل فن تعمیر کی دنیا میں سات عجائبات میں سے ایک ہے۔ تاج محل کو دیکھنے دنیا بھر سے لاکھوں افراد ہندوستان آتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا پرانا نام کیا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاج محل نہ صرف محبت کی ایک عظیم یادگار ہے بلکہ مغل دور کے فنِ تعمیر کی معراج بھی سمجھی جاتی ہے۔ 1983ء میں اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا، اور آج بھی یہ دنیا کے سات عجائبات میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاج محل کی تعمیر 1632ء میں مغل بادشاہ شاہ جہاں کے حکم پر شروع ہوئی اور تقریباً 20 سال میں مکمل ہوئی۔ اسے شاہ جہاں نے اپنی محبوب بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا، جو 1631ء میں اپنے چودھویں بچے کی پیدائش کے دوران وفات پا گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30386721/"&gt;آگرہ میں ایک نہیں دو تاج محل ہیں ، تصاویر وائرل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ مشہور یادگار کا ماضی میں کیا نام تھا؟ تاج محل کا اصل نام ”روضۂ منورہ“ تھا، جو فارسی میں ”یونیق عمارت“ کے طور پر ترجمہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ہاں، تاج محل کو ابتدائی طور پر ”روضۂ منورہ“ کے طور پر جانا جاتا تھا، جس کا مطلب تھا ”منور مقبرہ“۔ یہ نام اس کی تعمیر کے آغاز میں 1600 کی دہائی کے اوائل میں استعمال کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاج محل آگرہ میں واقع ہے، دنیا کے سب سے مشہور یادگاروں میں سے ایک ہے۔ مغل بادشاہ شاہ جہان نے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں یہ خوبصورت یادگار تعمیر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30426420/"&gt;تاج محل کو بم سے اڑانے کی دھمکی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30411113"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفید سنگ مرمر سے بنا یہ مقبرہ اپنی پیچیدہ نقاشیوں، خطاطی اور متوازن باغات کے لیے مشہور ہے۔ یہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے اور اسے محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاج محل  فن تعمیر کا شاہکار ہے، جو فارسی، عثمانی، ہندوستانی اور اسلامی طرزوں کا امتزاج ہے، اور اسے دنیا کے سات عجائب میں شمار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاج محل کو پاک و ہند  اسلامی فن تعمیر میں سب سے عظیم فن تعمیراتی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ 1983 میں، تاج محل کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا گیا اور اسے ”ہندوستان میں مسلم فن کا گوہر اور دنیا کے ورثے کے سب سے زیادہ تعریف شدہ شاہکاروں میں سے ایک“ قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تاج محل فن تعمیر کی دنیا میں سات عجائبات میں سے ایک ہے۔ تاج محل کو دیکھنے دنیا بھر سے لاکھوں افراد ہندوستان آتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا پرانا نام کیا ہے؟</strong></p>
<p>تاج محل نہ صرف محبت کی ایک عظیم یادگار ہے بلکہ مغل دور کے فنِ تعمیر کی معراج بھی سمجھی جاتی ہے۔ 1983ء میں اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا، اور آج بھی یہ دنیا کے سات عجائبات میں شامل ہے۔</p>
<p>تاج محل کی تعمیر 1632ء میں مغل بادشاہ شاہ جہاں کے حکم پر شروع ہوئی اور تقریباً 20 سال میں مکمل ہوئی۔ اسے شاہ جہاں نے اپنی محبوب بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا، جو 1631ء میں اپنے چودھویں بچے کی پیدائش کے دوران وفات پا گئی تھیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30386721/">آگرہ میں ایک نہیں دو تاج محل ہیں ، تصاویر وائرل</a></strong></p>
<p>لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ مشہور یادگار کا ماضی میں کیا نام تھا؟ تاج محل کا اصل نام ”روضۂ منورہ“ تھا، جو فارسی میں ”یونیق عمارت“ کے طور پر ترجمہ ہوتا ہے۔</p>
<p>جی ہاں، تاج محل کو ابتدائی طور پر ”روضۂ منورہ“ کے طور پر جانا جاتا تھا، جس کا مطلب تھا ”منور مقبرہ“۔ یہ نام اس کی تعمیر کے آغاز میں 1600 کی دہائی کے اوائل میں استعمال کیا گیا تھا۔</p>
<p>تاج محل آگرہ میں واقع ہے، دنیا کے سب سے مشہور یادگاروں میں سے ایک ہے۔ مغل بادشاہ شاہ جہان نے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں یہ خوبصورت یادگار تعمیر کی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30426420/">تاج محل کو بم سے اڑانے کی دھمکی</a></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30411113"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سفید سنگ مرمر سے بنا یہ مقبرہ اپنی پیچیدہ نقاشیوں، خطاطی اور متوازن باغات کے لیے مشہور ہے۔ یہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے اور اسے محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>تاج محل  فن تعمیر کا شاہکار ہے، جو فارسی، عثمانی، ہندوستانی اور اسلامی طرزوں کا امتزاج ہے، اور اسے دنیا کے سات عجائب میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>تاج محل کو پاک و ہند  اسلامی فن تعمیر میں سب سے عظیم فن تعمیراتی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ 1983 میں، تاج محل کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا گیا اور اسے ”ہندوستان میں مسلم فن کا گوہر اور دنیا کے ورثے کے سب سے زیادہ تعریف شدہ شاہکاروں میں سے ایک“ قرار دیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30443401</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Feb 2025 13:55:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/02/24214935ffe4191.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/02/24214935ffe4191.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
