<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 00:50:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 26 Jun 2026 00:50:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسکول کی ”فئیر ویل پارٹی“ کا نام اردو میں رکھنے پر بھارت میں ہنگامہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30445169/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست راجستھان کا ایک اسکول ”فئیر ویل پارٹی“ کا اردو نام رکھنے پر تحقیقات کی زد میں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تقریب مہاتما گاندھی گورنمنٹ اسکول شاہ آباد میں 28 فروری کو منعقد ہوئی تھی، جس کے دعوت نامے میں ”جشنِ الوداع“ کا عنوان ہندی زبان میں درج تھا۔ اس کارڈ پر دیوی سرسوتی کی تصویر بھی موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30429260"&gt;بھارتی حکومت اردو زبان کے پیچھے پڑگئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب اس دعوت نامے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو ضلعی محکمہ تعلیم نے اس معاملے کی چھان بین کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/03/05100702c249664.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ تعلیم کے جاری کردہ حکم کے مطابق، دعوت نامے پر ”جشنِ الوداع“ کا عنوان درج کرنا ’محکمہ جاتی ہدایات کے خلاف‘ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی چیف بلاک ایجوکیشن آفیسر، دیویندر سنگھ کر رہے ہیں، جبکہ دو دیگر اسکولوں کے پرنسپل بھی اس کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پرنسپل-کا-مؤقف" href="#پرنسپل-کا-مؤقف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پرنسپل کا مؤقف&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اسکول کے پرنسپل ویکیش کمار نے بتایا کہ یہ تقریب دراصل باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ افزائی اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی الوداعی تقریب کے طور پر رکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’اسکول میں کچھ مسلم طلبہ بھی زیر تعلیم ہیں، جنہوں نے تقریب کے لیے یہ نام تجویز کیا تھا۔ بعد ازاں، اسکول ڈیولپمنٹ مینجمنٹ کمیٹی (SDMC) کی میٹنگ میں والدین نے بھی اس نام پر رضامندی ظاہر کی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویکیش کمار کے مطابق، دعوت نامے چھپنے کے بعد محسوس کیا گیا کہ یہ نام ”سرکاری اصطلاحات“ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ چنانچہ ان کارڈز کو واپس لے لیا گیا، لیکن چند کارڈز طلبہ کے پاس رہ گئے، جنہوں نے انہیں وائرل کر دیا اور پھر میڈیا نے بھی اس معاملے کو اٹھا لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30302157"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف بلاک ایجوکیشن آفیسر دیویندر سنگھ نے تصدیق کی کہ تحقیقاتی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے اور جلد ہی جمع کر دی جائے گی۔ تاہم، انہوں نے نتائج پر مزید تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرنسپل کے مطابق، تحقیقاتی ٹیم نے اسکول آ کر مختلف چیزیں جمع کیں، جن میں طلبہ کی تجویز، اسٹاف میٹنگ کی تفصیلات، تقریب کی ویڈیوز، اور اخباری تراشے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست راجستھان کا ایک اسکول ”فئیر ویل پارٹی“ کا اردو نام رکھنے پر تحقیقات کی زد میں ہے۔</strong></p>
<p>یہ تقریب مہاتما گاندھی گورنمنٹ اسکول شاہ آباد میں 28 فروری کو منعقد ہوئی تھی، جس کے دعوت نامے میں ”جشنِ الوداع“ کا عنوان ہندی زبان میں درج تھا۔ اس کارڈ پر دیوی سرسوتی کی تصویر بھی موجود تھی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30429260">بھارتی حکومت اردو زبان کے پیچھے پڑگئی</a></strong></p>
<p>جب اس دعوت نامے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو ضلعی محکمہ تعلیم نے اس معاملے کی چھان بین کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/03/05100702c249664.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>محکمہ تعلیم کے جاری کردہ حکم کے مطابق، دعوت نامے پر ”جشنِ الوداع“ کا عنوان درج کرنا ’محکمہ جاتی ہدایات کے خلاف‘ تھا۔</p>
<p>تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی چیف بلاک ایجوکیشن آفیسر، دیویندر سنگھ کر رہے ہیں، جبکہ دو دیگر اسکولوں کے پرنسپل بھی اس کا حصہ ہیں۔</p>
<h3><a id="پرنسپل-کا-مؤقف" href="#پرنسپل-کا-مؤقف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پرنسپل کا مؤقف</strong></h3>
<p>اسکول کے پرنسپل ویکیش کمار نے بتایا کہ یہ تقریب دراصل باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ افزائی اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی الوداعی تقریب کے طور پر رکھی گئی تھی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’اسکول میں کچھ مسلم طلبہ بھی زیر تعلیم ہیں، جنہوں نے تقریب کے لیے یہ نام تجویز کیا تھا۔ بعد ازاں، اسکول ڈیولپمنٹ مینجمنٹ کمیٹی (SDMC) کی میٹنگ میں والدین نے بھی اس نام پر رضامندی ظاہر کی۔‘</p>
<p>ویکیش کمار کے مطابق، دعوت نامے چھپنے کے بعد محسوس کیا گیا کہ یہ نام ”سرکاری اصطلاحات“ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ چنانچہ ان کارڈز کو واپس لے لیا گیا، لیکن چند کارڈز طلبہ کے پاس رہ گئے، جنہوں نے انہیں وائرل کر دیا اور پھر میڈیا نے بھی اس معاملے کو اٹھا لیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30302157"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چیف بلاک ایجوکیشن آفیسر دیویندر سنگھ نے تصدیق کی کہ تحقیقاتی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے اور جلد ہی جمع کر دی جائے گی۔ تاہم، انہوں نے نتائج پر مزید تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<p>پرنسپل کے مطابق، تحقیقاتی ٹیم نے اسکول آ کر مختلف چیزیں جمع کیں، جن میں طلبہ کی تجویز، اسٹاف میٹنگ کی تفصیلات، تقریب کی ویڈیوز، اور اخباری تراشے شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30445169</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Mar 2025 10:12:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/03/051008069ecbd44.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/03/051008069ecbd44.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
