<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 00:37:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 00:37:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گستاخانہ مواد شئیر کرنے پر گرفتار ملزم کی ضمانت مسترد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30446361/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں گرفتار ملزم بابر خورشید کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس محمد اعظم خان نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کی سیکشن 11 کے تحت گستاخانہ مواد کی تشہیر پر مقدمہ درج کیا تھا۔ پٹیشنر کے وکیل کا مؤقف تھا کہ مدعی نے ایف آئی اے حکام سے ملی بھگت کرکے مقدمہ درج کروایا اور درخواست گزار مقدمے کا نامزد ملزم نہیں تھا بلکہ دس ماہ بعد کیس میں ملوث کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ ملزم کے موبائل فون سے گستاخانہ مواد واٹس ایپ کے ذریعے بھیجا گیا، جبکہ ٹیکنیکل تجزیے کے مطابق، ملزم کے فون سے توہین رسالت، توہین اہل بیت اور توہین قرآن سے متعلق خاکے، گرافکس اور تصاویر شیئر کی گئیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق، جس موبائل فون سے یہ مواد شیئر کیا گیا وہ ملزم کے نام پر رجسٹرڈ ہے، جبکہ ٹیکنیکل اینالسز رپورٹ بظاہر ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کو ثابت کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ اس مرحلے پر ملزم ضمانت کا حقدار نہیں۔ تاہم، ضمانت کیس میں دی گئی عدالتی آبزرویشنز ٹرائل کورٹ پر اثر انداز نہیں ہوں گی اور مقدمے کی سماعت میرٹ پر کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں گرفتار ملزم بابر خورشید کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس محمد اعظم خان نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔</strong></p>
<p>فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کی سیکشن 11 کے تحت گستاخانہ مواد کی تشہیر پر مقدمہ درج کیا تھا۔ پٹیشنر کے وکیل کا مؤقف تھا کہ مدعی نے ایف آئی اے حکام سے ملی بھگت کرکے مقدمہ درج کروایا اور درخواست گزار مقدمے کا نامزد ملزم نہیں تھا بلکہ دس ماہ بعد کیس میں ملوث کیا گیا۔</p>
<p>تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ ملزم کے موبائل فون سے گستاخانہ مواد واٹس ایپ کے ذریعے بھیجا گیا، جبکہ ٹیکنیکل تجزیے کے مطابق، ملزم کے فون سے توہین رسالت، توہین اہل بیت اور توہین قرآن سے متعلق خاکے، گرافکس اور تصاویر شیئر کی گئیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق، جس موبائل فون سے یہ مواد شیئر کیا گیا وہ ملزم کے نام پر رجسٹرڈ ہے، جبکہ ٹیکنیکل اینالسز رپورٹ بظاہر ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کو ثابت کرتی ہے۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ اس مرحلے پر ملزم ضمانت کا حقدار نہیں۔ تاہم، ضمانت کیس میں دی گئی عدالتی آبزرویشنز ٹرائل کورٹ پر اثر انداز نہیں ہوں گی اور مقدمے کی سماعت میرٹ پر کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30446361</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Mar 2025 14:25:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف نوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/03/10142429e386a85.webp?r=142536" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/03/10142429e386a85.webp?r=142536"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
