<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 20:11:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 20:11:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے 5 لاکھ تارکین وطن کی قانونی حیثیت منسوخ کر دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30449562/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے 5 لاکھ سے زائد تارکین وطن کی قانونی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے کے لئے چند 24اپریل تک کا وقت دے دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی میدیا کے مطابق امریکا نے جمعے کو کہا کہ وہ لاطینی امریکا کے لاکھوں تارکین وطن کی قانونی حیثیت منسوخ کر رہا ہے اور انہیں ملک چھوڑنے کے لیے 24 اپریل تک کا وقت دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی تاریخ کی سب بڑی ملک بدری ک مہم چلانے اور خصوصی طور پر لاطینی امریکہ کے ممالک کے افراد کی امیگریشن روکنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30437598/"&gt;امریکا میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف بڑا آپریشن، 7300 ملک بدر 2300 سے زائد گرفتار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حکم سے کیوبا، ہیٹی، نکاراگوا اور وینزویلا کے پانچ لاکھ 32 ہزار افراد متاثر ہوں گے جو 2022 میں جوبائیڈن کی طرف سے متعارف کروائی گئی ایک سکیم کے تحت امریکا آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ منگل (آج)  کو فیڈرل رجسٹر میں ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کا حکم شائع ہونے کے بعد قانونی تحفظ سے محروم ہو جائیں گے،  جس کا مطلب ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی دوسرا امیگریشن سٹیٹس نہیں ہے تو انہیں 24 اپریل تک ملک چھوڑنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان چار ممالک کے افراد کو جنوری 2023 میں اعلان کیے جانے والے ایک پروگرام (سی ایچ این وی) کے تحت امریکہ میں دو سال تک رہنے کی اجازت دی گئی تھی جہاں انسانی حقوق کی صورتحال اچھی نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30400379/"&gt;امریکا میں قانونی تارکینِ وطن کے ڈھائی لاکھ بچوں کا مستقبل غیر یقینی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30439092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو بائیڈن نے امریکا میکسیکو بارڈر پر دباؤ کو ختم کرنے کے لیے اس پروگرام کو ’محفوظ اور انسانی‘ کہا تھا۔ تاہم جمعے کو ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ اسکیم عارضی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیگریشن کے وکیل نکولیٹ گلیزر نے کہا کہ اس حکم سی ایچ این وی پروگرام کے تحت آنے والے چھ لاکھ افراد میں سے بڑی تعداد متاثر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صرف 75 ہزار افراد نے پناہ کی درخواستیں دائر کی تھیں لہذا اس پروگرام کے تحت آنے والی اکثریت کو نکالا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیگریشن حقوق کے گروپ ’جسٹس ایکشن سنٹر‘ کی ڈائریکٹر کیرن ٹملین نے کہا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ نے وفاقی حکومت کی طرف سے ہزاروں افراد کو کیے گئے وعدے کو توڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے 5 لاکھ سے زائد تارکین وطن کی قانونی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے کے لئے چند 24اپریل تک کا وقت دے دیا۔</strong></p>
<p>عالمی میدیا کے مطابق امریکا نے جمعے کو کہا کہ وہ لاطینی امریکا کے لاکھوں تارکین وطن کی قانونی حیثیت منسوخ کر رہا ہے اور انہیں ملک چھوڑنے کے لیے 24 اپریل تک کا وقت دیا گیا ہے۔</p>
<p>فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی تاریخ کی سب بڑی ملک بدری ک مہم چلانے اور خصوصی طور پر لاطینی امریکہ کے ممالک کے افراد کی امیگریشن روکنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30437598/">امریکا میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف بڑا آپریشن، 7300 ملک بدر 2300 سے زائد گرفتار</a></strong></p>
<p>اس حکم سے کیوبا، ہیٹی، نکاراگوا اور وینزویلا کے پانچ لاکھ 32 ہزار افراد متاثر ہوں گے جو 2022 میں جوبائیڈن کی طرف سے متعارف کروائی گئی ایک سکیم کے تحت امریکا آئے تھے۔</p>
<p>وہ منگل (آج)  کو فیڈرل رجسٹر میں ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کا حکم شائع ہونے کے بعد قانونی تحفظ سے محروم ہو جائیں گے،  جس کا مطلب ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی دوسرا امیگریشن سٹیٹس نہیں ہے تو انہیں 24 اپریل تک ملک چھوڑنا ہوگا۔</p>
<p>ان چار ممالک کے افراد کو جنوری 2023 میں اعلان کیے جانے والے ایک پروگرام (سی ایچ این وی) کے تحت امریکہ میں دو سال تک رہنے کی اجازت دی گئی تھی جہاں انسانی حقوق کی صورتحال اچھی نہیں تھی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30400379/">امریکا میں قانونی تارکینِ وطن کے ڈھائی لاکھ بچوں کا مستقبل غیر یقینی</a></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30439092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جو بائیڈن نے امریکا میکسیکو بارڈر پر دباؤ کو ختم کرنے کے لیے اس پروگرام کو ’محفوظ اور انسانی‘ کہا تھا۔ تاہم جمعے کو ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ اسکیم عارضی تھی۔</p>
<p>امیگریشن کے وکیل نکولیٹ گلیزر نے کہا کہ اس حکم سی ایچ این وی پروگرام کے تحت آنے والے چھ لاکھ افراد میں سے بڑی تعداد متاثر ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صرف 75 ہزار افراد نے پناہ کی درخواستیں دائر کی تھیں لہذا اس پروگرام کے تحت آنے والی اکثریت کو نکالا جا سکتا ہے۔</p>
<p>امیگریشن حقوق کے گروپ ’جسٹس ایکشن سنٹر‘ کی ڈائریکٹر کیرن ٹملین نے کہا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ نے وفاقی حکومت کی طرف سے ہزاروں افراد کو کیے گئے وعدے کو توڑ دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30449562</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Mar 2025 11:15:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/03/24105852c9cd08d.webp?r=105956" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/03/24105852c9cd08d.webp?r=105956"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
