<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 18:10:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 14 Apr 2026 18:10:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر آصف زرداری کیخلاف نازیبا پوسٹ کرنا پولیس افسر کو مہنگا پڑگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30451872/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر مملکت آصف زرداری سے متعلق سوشل میڈیا پر نازیبا پوسٹ کرنے والے پولیس افسر کو گرفتار کرکے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر پاکستان آصف زرداری کے خلاف نازیبا پوسٹ کرنا پولیس افسر کو مہنگا پڑگیا، ایس آئی او ابراہیم حیدری کراچی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے سکھن پولیس نے اسٹیشن انویسٹگیشن افسر ابرار شاہ کو گرفتارکرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی افسر ابرار شاہ نے فیس بک پر 2 اپریل کو پوسٹ کی تھی، جس میں صدر پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف نازیبا الفاظ لکھے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمہ سکھن تھانے کے ڈیوٹی افسر یعقوب کی مدعیت میں درج ہوا، مدعی مقدمے کے مطابق میں اپنے موبائل فون پر لوگوں کے کمنٹس پڑھ رہا تھا کہ رات 8 بج کر 40 منٹ پر ابرار شاہ نے انگریزی میں کمنٹ لکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں کہا گیا کہ ابرار شاہ نے اہم عہدے پر براجمان شخصیت کی طرف اشارہ کیا اور نازیبا تحریر درج کی جس سے مجھ سمیت دیگر شہریوں کی دل آزاری ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے کے متن میں کہنا تھا کہ یہ فعل پیکا ایکٹ کی دفعہ 504 پی پی سی 21 کی حد کو پہنچتا ہے تاہم ابرار شاہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش تفتیشی افسر کو متنقل کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں تفتیشی افسر کی گرفتاری کے معاملے پر سکھن پولیس نے بتایا کہ قانون کے تحت گرفتارابرار شاہ کو عدالت میں پیش کیا تاہم مقامی عدالت نے ایس آئی او کو ضمانت پر رہا کردیا، جس کے بعد تفتیشی افسر کی جانب سے کیس پر مزید کام کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر مملکت آصف زرداری سے متعلق سوشل میڈیا پر نازیبا پوسٹ کرنے والے پولیس افسر کو گرفتار کرکے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔</strong></p>
<p>صدر پاکستان آصف زرداری کے خلاف نازیبا پوسٹ کرنا پولیس افسر کو مہنگا پڑگیا، ایس آئی او ابراہیم حیدری کراچی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے سکھن پولیس نے اسٹیشن انویسٹگیشن افسر ابرار شاہ کو گرفتارکرلیا۔</p>
<p>تفتیشی افسر ابرار شاہ نے فیس بک پر 2 اپریل کو پوسٹ کی تھی، جس میں صدر پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف نازیبا الفاظ لکھے گئے تھے۔</p>
<p>مقدمہ سکھن تھانے کے ڈیوٹی افسر یعقوب کی مدعیت میں درج ہوا، مدعی مقدمے کے مطابق میں اپنے موبائل فون پر لوگوں کے کمنٹس پڑھ رہا تھا کہ رات 8 بج کر 40 منٹ پر ابرار شاہ نے انگریزی میں کمنٹ لکھا۔</p>
<p>مقدمے میں کہا گیا کہ ابرار شاہ نے اہم عہدے پر براجمان شخصیت کی طرف اشارہ کیا اور نازیبا تحریر درج کی جس سے مجھ سمیت دیگر شہریوں کی دل آزاری ہوئی۔</p>
<p>مقدمے کے متن میں کہنا تھا کہ یہ فعل پیکا ایکٹ کی دفعہ 504 پی پی سی 21 کی حد کو پہنچتا ہے تاہم ابرار شاہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش تفتیشی افسر کو متنقل کی جارہی ہے۔</p>
<p>پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں تفتیشی افسر کی گرفتاری کے معاملے پر سکھن پولیس نے بتایا کہ قانون کے تحت گرفتارابرار شاہ کو عدالت میں پیش کیا تاہم مقامی عدالت نے ایس آئی او کو ضمانت پر رہا کردیا، جس کے بعد تفتیشی افسر کی جانب سے کیس پر مزید کام کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30451872</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Apr 2025 12:58:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صولت جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/04/04125828d900a3e.jpg?r=125835" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/04/04125828d900a3e.jpg?r=125835"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
