<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 01:16:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 01:16:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کے 6th جنریشن لڑاکا طیارے جے 50 ’’خدائی سایہ‘‘ کی دھوم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30452476/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین نے فضائی جنگ میں امریکہ پر برتری کے لیے انتہائی جدید لڑاکا طیارے جے 50 شینیانگ ’‘ خدائی سایہ’’ پر کام شروع کر دیا ہے جس کی جھلک کی رونمائی کر دی گئی ہے، طیارے کو 2030 تک آپریشنل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے-50 شینیانگ 6th جنریشن کا لڑاکا طیارہ ہے جس کی پہلی واضح جھلک دنیا کو دکھائی گئی ہے اور اسے آسمان کا ناقابل دید شکاری کہا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی  میڈیا رپورٹس کے مطابق سیٹیلائٹ تصاویر کے تجزیے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ چین اب کھلے عام امریکی فضائی برتری کو چیلنج کرنے کی تیاری کررہا ہے اور طیارے کو بھارت کیلئے بھی خطرہ قرار دیا جارہا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق، جے-50 ایک ایسا لڑاکا طیارہ ہے جسے صرف اسٹیلتھ، اے آئی سے لیس، تیز رفتار نیٹ ورکڈ وارفیئر کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک جنگی طیارے کے طور پر کام نہیں کرے گا بلکہ ہوا میں ایک اڑنے والے جنگی کمانڈ سینٹر کے طور پر کام کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/pVJGbWt-tAw?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا خیال ہے کہ چین کے 6th جنریشن کے اس طیارے کا منصوبہ 2030 تک آپریشنل مرحلے تک پہنچ سکتا ہے لیکن موجودہ پیشرفت سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ چین اس طیارے کو جلد از جلد اپنے فضائی بیڑے میں شامل کرنا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نام جے-50 شینیانگ ہے جس کا مطلب ہے ’خدائی سایہ‘۔ یہ نام اس لڑاکا طیارے کے پیچھے موجود تزویراتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کا مطلب ایک ناقابل دید سایہ ہے جو دشمن کے علاقے میں گھس کر تباہی مچا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے-50 لڑاکا طیارے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا مکمل اسپیکٹرم اسٹیلتھ ڈیزائن ہے جو اسے نہ صرف ریڈار سے بلکہ انفراریڈ، الیکٹرانک سائن اور یہاں تک کہ کچھ اے آئی ڈیٹیکشن سسٹم سے بھی چھپنے کے قابل بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی ایروڈائنامک ساخت ایف-22 ریپٹر اور بی-21 رائڈر کی ٹیکنالوجی سے متاثر دکھائی دیتی ہے۔ مزید برآں یہ لڑاکا طیارہ اے آئی سے چلنے والے سوارم ڈرون کمانڈ کے ساتھ آتا ہے، جے-50 نہ صرف تنہا لڑ سکتا ہے بلکہ درجنوں اے آئی ڈرونز کی رہنمائی بھی کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا قیاس ہے کہ اس طیارے میں ڈی ایف-زیڈ ایف ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل یا کے ڈی-21 جیسے میزائل سسٹم نصب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس لڑاکا طیارے کو کوانٹم ریڈار اور ڈائریکٹڈ انرجی ہتھیاروں کو ضم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ اس طیارے کو چین کے انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ سسٹم میں مکمل طور پر پلگ ان کیا جا سکتا ہے جس سے یہ میدان جنگ میں ایک فضائی دماغ بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کا جے-50 اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ خاص طور پر امریکا کے ایف-22 اور مستقبل کے این جی اے ڈی سکستھ جنریشن کے لڑاکا طیارے پروگرام کو چیلنج کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یادر ہے کہ امریکا نے گزشتہ ماہ ہی این جی اے ڈی لڑاکا طیارہ پروگرام کا اعلان کیا تھا اور بوئنگ کو اس لڑاکا طیارے کی تیاری کی ذمہ داری سونپی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین اس طیارے کو بحیرہ جنوبی چین، آبنائے تائیوان اور بحر ہند کے خطے میں برتری قائم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، یہ بھارت اور امریکا دونوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، بھارت کے لیے، اس لڑاکا طیارے سے سب سے بڑا خطرہ اروناچل پردیش اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے ایس یو-30 ایم کے آئی اور رافیل لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں، چینی جے-50 طیارہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے نمایاں طور پر زیادہ جدید ہوگا۔ اس کے علاوہ، جے-50 طیارے کی رینج اور اسٹیلتھ صلاحیتیں امریکی انڈو-پیسیفک اڈوں اور کیریئر اسٹرائیک گروپس کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ یہ چین کے ʼاینٹی-ایکسس/ایریا ڈینائل (اے 2/اے ڈی) نظریے کو مزید مضبوط کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق چین اس وقت ایک انٹیگریٹڈ ڈیٹرنس حکمت عملی پر کام کر رہا ہے جو میدان جنگ میں دشمنوں کو شدید شکست دینے کے لیے اقتصادی، فوجی اور سائبر طاقت کو یکجا کرتی ہے۔جے-50 لڑاکا طیارہ اس حکمت عملی کا حصہ ہے، یہ طیارہ یہ پیغام دیتا ہے کہ چین اب صرف ایک دفاعی ملک نہیں رہا بلکہ ایک ایسا ملک بن گیا ہے جو طاقت کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ جے-50کی جانچ کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا ہے اور اس کی فوٹیج اور سیٹلائٹ مناظر کا اچانک لیک ہونا چین کی نفسیاتی جنگ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا خیال ہے کہ جے-50 لڑاکا طیارے کی تصاویر کا لیک ہونا نہ صرف ایک تکنیکی کامیابی بلکہ ایک جغرافیائی سیاسی انتباہ بھی ہے، چین اب ہوا، سمندر اور سائبر کے شعبوں میں برتری کی طرف بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین نے فضائی جنگ میں امریکہ پر برتری کے لیے انتہائی جدید لڑاکا طیارے جے 50 شینیانگ ’‘ خدائی سایہ’’ پر کام شروع کر دیا ہے جس کی جھلک کی رونمائی کر دی گئی ہے، طیارے کو 2030 تک آپریشنل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔</strong></p>
<p>جے-50 شینیانگ 6th جنریشن کا لڑاکا طیارہ ہے جس کی پہلی واضح جھلک دنیا کو دکھائی گئی ہے اور اسے آسمان کا ناقابل دید شکاری کہا جا رہا ہے۔</p>
<p>عالمی  میڈیا رپورٹس کے مطابق سیٹیلائٹ تصاویر کے تجزیے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ چین اب کھلے عام امریکی فضائی برتری کو چیلنج کرنے کی تیاری کررہا ہے اور طیارے کو بھارت کیلئے بھی خطرہ قرار دیا جارہا ہے ۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق، جے-50 ایک ایسا لڑاکا طیارہ ہے جسے صرف اسٹیلتھ، اے آئی سے لیس، تیز رفتار نیٹ ورکڈ وارفیئر کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک جنگی طیارے کے طور پر کام نہیں کرے گا بلکہ ہوا میں ایک اڑنے والے جنگی کمانڈ سینٹر کے طور پر کام کرے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/pVJGbWt-tAw?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین کا خیال ہے کہ چین کے 6th جنریشن کے اس طیارے کا منصوبہ 2030 تک آپریشنل مرحلے تک پہنچ سکتا ہے لیکن موجودہ پیشرفت سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ چین اس طیارے کو جلد از جلد اپنے فضائی بیڑے میں شامل کرنا چاہتا ہے۔</p>
<p>اس کا نام جے-50 شینیانگ ہے جس کا مطلب ہے ’خدائی سایہ‘۔ یہ نام اس لڑاکا طیارے کے پیچھے موجود تزویراتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کا مطلب ایک ناقابل دید سایہ ہے جو دشمن کے علاقے میں گھس کر تباہی مچا سکتا ہے۔</p>
<p>جے-50 لڑاکا طیارے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا مکمل اسپیکٹرم اسٹیلتھ ڈیزائن ہے جو اسے نہ صرف ریڈار سے بلکہ انفراریڈ، الیکٹرانک سائن اور یہاں تک کہ کچھ اے آئی ڈیٹیکشن سسٹم سے بھی چھپنے کے قابل بناتا ہے۔</p>
<p>اس کی ایروڈائنامک ساخت ایف-22 ریپٹر اور بی-21 رائڈر کی ٹیکنالوجی سے متاثر دکھائی دیتی ہے۔ مزید برآں یہ لڑاکا طیارہ اے آئی سے چلنے والے سوارم ڈرون کمانڈ کے ساتھ آتا ہے، جے-50 نہ صرف تنہا لڑ سکتا ہے بلکہ درجنوں اے آئی ڈرونز کی رہنمائی بھی کرسکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا قیاس ہے کہ اس طیارے میں ڈی ایف-زیڈ ایف ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل یا کے ڈی-21 جیسے میزائل سسٹم نصب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس لڑاکا طیارے کو کوانٹم ریڈار اور ڈائریکٹڈ انرجی ہتھیاروں کو ضم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ اس طیارے کو چین کے انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ سسٹم میں مکمل طور پر پلگ ان کیا جا سکتا ہے جس سے یہ میدان جنگ میں ایک فضائی دماغ بن جائے گا۔</p>
<p>چین کا جے-50 اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ خاص طور پر امریکا کے ایف-22 اور مستقبل کے این جی اے ڈی سکستھ جنریشن کے لڑاکا طیارے پروگرام کو چیلنج کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔</p>
<p>یادر ہے کہ امریکا نے گزشتہ ماہ ہی این جی اے ڈی لڑاکا طیارہ پروگرام کا اعلان کیا تھا اور بوئنگ کو اس لڑاکا طیارے کی تیاری کی ذمہ داری سونپی تھی۔</p>
<p>قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین اس طیارے کو بحیرہ جنوبی چین، آبنائے تائیوان اور بحر ہند کے خطے میں برتری قائم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، یہ بھارت اور امریکا دونوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، بھارت کے لیے، اس لڑاکا طیارے سے سب سے بڑا خطرہ اروناچل پردیش اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>بھارت کے ایس یو-30 ایم کے آئی اور رافیل لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں، چینی جے-50 طیارہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے نمایاں طور پر زیادہ جدید ہوگا۔ اس کے علاوہ، جے-50 طیارے کی رینج اور اسٹیلتھ صلاحیتیں امریکی انڈو-پیسیفک اڈوں اور کیریئر اسٹرائیک گروپس کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ یہ چین کے ʼاینٹی-ایکسس/ایریا ڈینائل (اے 2/اے ڈی) نظریے کو مزید مضبوط کرتا ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق چین اس وقت ایک انٹیگریٹڈ ڈیٹرنس حکمت عملی پر کام کر رہا ہے جو میدان جنگ میں دشمنوں کو شدید شکست دینے کے لیے اقتصادی، فوجی اور سائبر طاقت کو یکجا کرتی ہے۔جے-50 لڑاکا طیارہ اس حکمت عملی کا حصہ ہے، یہ طیارہ یہ پیغام دیتا ہے کہ چین اب صرف ایک دفاعی ملک نہیں رہا بلکہ ایک ایسا ملک بن گیا ہے جو طاقت کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ جے-50کی جانچ کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا ہے اور اس کی فوٹیج اور سیٹلائٹ مناظر کا اچانک لیک ہونا چین کی نفسیاتی جنگ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا خیال ہے کہ جے-50 لڑاکا طیارے کی تصاویر کا لیک ہونا نہ صرف ایک تکنیکی کامیابی بلکہ ایک جغرافیائی سیاسی انتباہ بھی ہے، چین اب ہوا، سمندر اور سائبر کے شعبوں میں برتری کی طرف بڑھ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30452476</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Apr 2025 20:20:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/04/071740224c821fc.webp?r=174032" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/04/071740224c821fc.webp?r=174032"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
