<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 21:37:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 21:37:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معدنی ذخائر، سعودی عرب اور پاکستان ارضیاتی سروے میں شراکت داری پر متفق</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30452914/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب اور پاکستان نے ارضیاتی سروے کے شعبے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب جیولوجیکل سروے کے سربراہ انجینیئر عبد اللہ مفطر الشمرانی کا کہنا ہے کہ باہمی تعاون کو تجربے اور علم کی شراکت داری سے آگے بڑھایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اپنے ان قدرتی ذخائر سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے جن کا تخمینہ چھ ٹریلین ڈالر تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارضیاتی سرویز اور سائنسی تحقیق کی بدولت زمین کی خصوصیات کے علاوہ اس میں موجود اشیا کا تجزیہ بھی سامنے آتا ہے۔ ان کا پاکستان کے معدنی شعبے میں کلیدی کردار ہو گا جو نمک، تانبے، سونے اور کوئلے جیسے اہم ذخائر رکھنے کے باوجود صرف تین اعشاریہ دو فیصد رکھتا ہے اور عالمی معدنی برآمدات میں اس کا حصہ صفر اعشاریہ ایک فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30415872/"&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے مابین معاشی تعاون کا نیا دور شروع ہوگیا، سعودی وزیر سرمایہ کاری کا خطاب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جغرافیائی سروے معدنی ذخائر کی نشاندہی کے علاوہ ان کو تلاش کرنے، ان کا تخمینہ لگانے، ان سے فائدہ اٹھانے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو روزہ منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے سعودی جیولوجیکل سروے کے چیف ایگزیکٹیو آفسیر انجینیئر عبد اللہ مفطر الشمرانی نے بتایا کہ ’ایک روز قبل ہی سعودی اور پاکستان کے سروے ڈیپارٹمنٹس کے حکام کے درمیان ملاقات ہوئی ہے اور ہم نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس کے لیے تجربات، مشاہدات اور علوم کو شیئر کیا جائے گا جس سے دونوں ممالک کو آگے بڑھنے میں فائدہ ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30421875/"&gt;سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان معاہدوں پر ٹرانزیکشنز شروع ہوگئیں، مصدق ملک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا یہ دو اداروں کے درمیان ایک بہترین تعاون ہے اور اس کا دونوں ملکوں کو فائدہ ہو گا۔
عبد اللہ مفطر الشمرانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے منرل سمٹ میں ایک وفد بھی بھجوایا گیا ہے جن میں حکومتی حکام کے علاوہ سرمایہ کار بھی شامل ہیں اور ان کی پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ کافی مفید بات چیت بھی ہوئی ہے اور دونوں ممالک میں مزید مواقع کی تلاش جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں جبکہ جنوب مغربی بلوچستان میں ریکوڈک کی کان میں پانچ اعشاریہ نو ارب ٹن کی خام معدنیات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ذخیرے کو پسماندہ علاقے میں واقع تانبے کے بڑے ذخائر میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور توقع ظاہر کی جاتی ہے اور ان کی ترقی کے پاکستانی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب اور پاکستان نے ارضیاتی سروے کے شعبے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</strong></p>
<p>عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب جیولوجیکل سروے کے سربراہ انجینیئر عبد اللہ مفطر الشمرانی کا کہنا ہے کہ باہمی تعاون کو تجربے اور علم کی شراکت داری سے آگے بڑھایا جائے گا۔</p>
<p>اسلام آباد اپنے ان قدرتی ذخائر سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے جن کا تخمینہ چھ ٹریلین ڈالر تک ہے۔</p>
<p>ارضیاتی سرویز اور سائنسی تحقیق کی بدولت زمین کی خصوصیات کے علاوہ اس میں موجود اشیا کا تجزیہ بھی سامنے آتا ہے۔ ان کا پاکستان کے معدنی شعبے میں کلیدی کردار ہو گا جو نمک، تانبے، سونے اور کوئلے جیسے اہم ذخائر رکھنے کے باوجود صرف تین اعشاریہ دو فیصد رکھتا ہے اور عالمی معدنی برآمدات میں اس کا حصہ صفر اعشاریہ ایک فیصد ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30415872/">پاکستان اور سعودی عرب کے مابین معاشی تعاون کا نیا دور شروع ہوگیا، سعودی وزیر سرمایہ کاری کا خطاب</a></strong></p>
<p>جغرافیائی سروے معدنی ذخائر کی نشاندہی کے علاوہ ان کو تلاش کرنے، ان کا تخمینہ لگانے، ان سے فائدہ اٹھانے میں مدد دیتے ہیں۔</p>
<p>دو روزہ منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے سعودی جیولوجیکل سروے کے چیف ایگزیکٹیو آفسیر انجینیئر عبد اللہ مفطر الشمرانی نے بتایا کہ ’ایک روز قبل ہی سعودی اور پاکستان کے سروے ڈیپارٹمنٹس کے حکام کے درمیان ملاقات ہوئی ہے اور ہم نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس کے لیے تجربات، مشاہدات اور علوم کو شیئر کیا جائے گا جس سے دونوں ممالک کو آگے بڑھنے میں فائدہ ہو گا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30421875/">سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان معاہدوں پر ٹرانزیکشنز شروع ہوگئیں، مصدق ملک</a></strong></p>
<p>انہوں نے کہا یہ دو اداروں کے درمیان ایک بہترین تعاون ہے اور اس کا دونوں ملکوں کو فائدہ ہو گا۔
عبد اللہ مفطر الشمرانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے منرل سمٹ میں ایک وفد بھی بھجوایا گیا ہے جن میں حکومتی حکام کے علاوہ سرمایہ کار بھی شامل ہیں اور ان کی پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ کافی مفید بات چیت بھی ہوئی ہے اور دونوں ممالک میں مزید مواقع کی تلاش جاری رکھیں گے۔</p>
<p>پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں جبکہ جنوب مغربی بلوچستان میں ریکوڈک کی کان میں پانچ اعشاریہ نو ارب ٹن کی خام معدنیات موجود ہیں۔</p>
<p>اس ذخیرے کو پسماندہ علاقے میں واقع تانبے کے بڑے ذخائر میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور توقع ظاہر کی جاتی ہے اور ان کی ترقی کے پاکستانی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30452914</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Apr 2025 17:20:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/04/0917140837b81ff.webp?r=171440" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/04/0917140837b81ff.webp?r=171440"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
