<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 10:59:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 10:59:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کی نجکاری کا عمل ، حکومت نے اشتہار جاری کر دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30456515/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنزکی نجکاری کے لیے باضابطہ اشتہار جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت دلچسپی رکھنے والی قومی و بین الاقوامی کمپنیز کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ تین جون تک اپنی بولیاں جمع کرائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن کے مطابق بولی جمع کرانے کے خواہشمند خریداروں کو چودہ لاکھ روپے کی ناقابل واپسی فیس بھی ادا کرنا ہوگی۔ یہ دوسرا موقع ہے جب موجودہ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے اظہار دلچسپی کی درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30454920/"&gt;پی آئی اے کی نجکاری میں اہم پیشرفت، پری کوالیفکیشن معیارات کی منظوری دیدی گئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اس عمل کے ذریعے قومی ایئرلائن میں اپنے حصص فروخت کرنے کی پیشکش کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی فروخت کا عمل رواں سال جولائی تک مکمل کیا جانا تھا، تاہم اب دسمبر کی نئی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30419637/"&gt;85 ارب مالیت والی پی آئی اے کیلئے لگائی گئی صرف 10 ارب کی بولی مسترد &lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت پی آئی اے ہفتہ وار دو سو اڑسٹھ پروازیں چلا رہی ہے، تاہم ادارے کو مالی بحران اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث نجکاری کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پی آئی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانے، مالی بوجھ کم کرنے اور قومی خزانے پر انحصار کم کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنزکی نجکاری کے لیے باضابطہ اشتہار جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت دلچسپی رکھنے والی قومی و بین الاقوامی کمپنیز کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ تین جون تک اپنی بولیاں جمع کرائیں۔</strong></p>
<p>نجکاری کمیشن کے مطابق بولی جمع کرانے کے خواہشمند خریداروں کو چودہ لاکھ روپے کی ناقابل واپسی فیس بھی ادا کرنا ہوگی۔ یہ دوسرا موقع ہے جب موجودہ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے اظہار دلچسپی کی درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30454920/">پی آئی اے کی نجکاری میں اہم پیشرفت، پری کوالیفکیشن معیارات کی منظوری دیدی گئی</a></strong></p>
<p>حکومت اس عمل کے ذریعے قومی ایئرلائن میں اپنے حصص فروخت کرنے کی پیشکش کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی فروخت کا عمل رواں سال جولائی تک مکمل کیا جانا تھا، تاہم اب دسمبر کی نئی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30419637/">85 ارب مالیت والی پی آئی اے کیلئے لگائی گئی صرف 10 ارب کی بولی مسترد </a></strong></p>
<p>اس وقت پی آئی اے ہفتہ وار دو سو اڑسٹھ پروازیں چلا رہی ہے، تاہم ادارے کو مالی بحران اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث نجکاری کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پی آئی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانے، مالی بوجھ کم کرنے اور قومی خزانے پر انحصار کم کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30456515</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Apr 2025 11:24:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طارق چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/04/241121406addd8d.webp?r=112449" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/04/241121406addd8d.webp?r=112449"/>
        <media:title>فائل فوتیج
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
