<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 16:27:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 16:27:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس: مسجد میں مسلمان کو قتل کرکے فرار ہونے والا گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30457401/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانس کی ایک مسجد میں  مسلمان نمازی کو قتل کرنے کے بعد اس کی ویڈیو بنانے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس میں مسجد کے اندر ایک مسلمان شخص کو قتل کرنے والے مبینہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس نے چھرا گھونپنے کے بعد گرتے ہوئے مسلمان شخص کی ویڈیو سوشل میڈیا پرشیئر کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق حملہ آور نے عبادت کرنے والے پر چھرے سے درجنوں وار کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی فرانس کے علاقے گارڈ کے گاؤں لا گرینڈ کومبے میں نمازی پر درجنوں بار چاقو سے حملہ کیا گیا، حکام قتل کو ممکنہ اسلاموفوبیا جرم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی وزیراعظم نے واقعے کے بعد ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ ویڈیو میں اسلاموفوبک ظلم کو دیکھا جا سکتا ہے، ہم نشانہ بننے والے شخص کے رشتہ داروں اور تمام مسلمانوں کے ساتھ ہیں جو اس وقت شدید غم میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’قاتل کی گرفتاری کے لیے اور سزا کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی وسائل کو متحرک کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا اور پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے کو اسلاموفوبک کرائم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبینہ مجرم نے وہ ویڈیو جو اس نے اپنے فون سے بنائی تھی، جس میں متاثرہ شخص کو اذیت میں تڑپتے ہوئے دکھایا گیا، دوسرے شخص کو بھیجا، جس نے اسے حذف کرنے سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزم نے فرار ہونے کے بعد اپنے فون سے بنائی گئی وہ ویڈیو ایک شخص کو بھجوائی جس میں حملے کا نشانہ بننے والے شخص کو تڑپتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس نے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور بعدازاں ڈیلیٹ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں حملہ آور نے خود کو ریکارڈ نہیں کیا جبکہ مسجد میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں میں بھی حملے کے مناظر ریکارڈ ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملہ آور ان کیمروں کی طرف دیکھتے ہوئے یہ بھی کہتا ہے کہ میری گرفتاری یقینی ہے۔ حملے کے بعد ایک اور شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا  کو حملہ آور کی شناخت بتائی تھی اور کہا تھا کہ بوسنین نژاد فرانسیسی شہری ہے اور غیرمسلم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق شروع میں حملہ آور نشانہ بننے والے شخص کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے اور پھر اچانک حملہ کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراسیکیوٹر عبدالکریم گرینی کا کہنا ہے کہ مرنے والے شخص کی عمر 23 اور 24 برس کے درمیان ہے اور وہ باقاعدگی سے مسجد میں آتا تھا جبکہ حملہ آور کو اس سے قبل مسجد میں کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین کا کہنا ہے نشانہ بننے والے شخص کا تعلق مالی سے تھا اور چند برس قبل شہر میں آیا تھا اور زیادہ تر لوگ اس کو جانتے تھے اور احترام کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانس کی ایک مسجد میں  مسلمان نمازی کو قتل کرنے کے بعد اس کی ویڈیو بنانے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔</strong></p>
<p>فرانس میں مسجد کے اندر ایک مسلمان شخص کو قتل کرنے والے مبینہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس نے چھرا گھونپنے کے بعد گرتے ہوئے مسلمان شخص کی ویڈیو سوشل میڈیا پرشیئر کردی تھی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق حملہ آور نے عبادت کرنے والے پر چھرے سے درجنوں وار کیے تھے۔</p>
<p>جنوبی فرانس کے علاقے گارڈ کے گاؤں لا گرینڈ کومبے میں نمازی پر درجنوں بار چاقو سے حملہ کیا گیا، حکام قتل کو ممکنہ اسلاموفوبیا جرم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>فرانسیسی وزیراعظم نے واقعے کے بعد ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ ویڈیو میں اسلاموفوبک ظلم کو دیکھا جا سکتا ہے، ہم نشانہ بننے والے شخص کے رشتہ داروں اور تمام مسلمانوں کے ساتھ ہیں جو اس وقت شدید غم میں ہیں۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’قاتل کی گرفتاری کے لیے اور سزا کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی وسائل کو متحرک کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا اور پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے کو اسلاموفوبک کرائم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>مبینہ مجرم نے وہ ویڈیو جو اس نے اپنے فون سے بنائی تھی، جس میں متاثرہ شخص کو اذیت میں تڑپتے ہوئے دکھایا گیا، دوسرے شخص کو بھیجا، جس نے اسے حذف کرنے سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیا۔</p>
<p>ملزم نے فرار ہونے کے بعد اپنے فون سے بنائی گئی وہ ویڈیو ایک شخص کو بھجوائی جس میں حملے کا نشانہ بننے والے شخص کو تڑپتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس نے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور بعدازاں ڈیلیٹ کر دیا۔</p>
<p>ویڈیو میں حملہ آور نے خود کو ریکارڈ نہیں کیا جبکہ مسجد میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں میں بھی حملے کے مناظر ریکارڈ ہوئے ہیں۔</p>
<p>حملہ آور ان کیمروں کی طرف دیکھتے ہوئے یہ بھی کہتا ہے کہ میری گرفتاری یقینی ہے۔ حملے کے بعد ایک اور شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا  کو حملہ آور کی شناخت بتائی تھی اور کہا تھا کہ بوسنین نژاد فرانسیسی شہری ہے اور غیرمسلم ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق شروع میں حملہ آور نشانہ بننے والے شخص کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے اور پھر اچانک حملہ کر دیتا ہے۔</p>
<p>پراسیکیوٹر عبدالکریم گرینی کا کہنا ہے کہ مرنے والے شخص کی عمر 23 اور 24 برس کے درمیان ہے اور وہ باقاعدگی سے مسجد میں آتا تھا جبکہ حملہ آور کو اس سے قبل مسجد میں کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔</p>
<p>عینی شاہدین کا کہنا ہے نشانہ بننے والے شخص کا تعلق مالی سے تھا اور چند برس قبل شہر میں آیا تھا اور زیادہ تر لوگ اس کو جانتے تھے اور احترام کرتے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30457401</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Apr 2025 00:05:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/04/2723573606c926f.webp?r=000209" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/04/2723573606c926f.webp?r=000209"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
