<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan - Education</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 21:14:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 21:14:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بائیولوجی کی کتاب میں اصلی کی جگہ ’لیگو خوردبین‘ چھاپنے پر سندھ بورڈ تنقید کی زد میں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30458715/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حیاتیات کی درسی کتاب کی میں خوردبین (مایکروسکوپ) کی جگہ ”لیگو“ (LEGO) سے بنے ماڈل کی تصویر چھاپنے پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ریڈٹ“ پر جاری ہونے کے بعد یہ تصویر دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور سوشل میڈیا پر صارفین نے سندھ بورڈ کی عدم توجہی پر شدید غم و غصہ اور طنزیہ تبصرے شروع کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی صارفین نے بورڈ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ”بس اتنا ہی بجٹ ہے ہماری قوم کے خزانے میں“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور نے کہا، ”یہ سندھ بورڈ ہے، اور کیا امید رکھ سکتے ہو؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کہ تیسرے صارف نے مایوسی کے ساتھ لکھا، ”جب بھی سندھ بورڈ کا ذکر آتا ہے، کچھ نیا اور شرمناک ہی سننے کو ملتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/031228329a68847.webp'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین تعلیم، طلبہ اور والدین کی جانب سے اس واقعے کو ادارہ جاتی نااہلی کی ایک اور واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اتنی بڑی اور واضح غلطی نظر انداز کیسے ہو گئی اور بغیر کسی جانچ پڑتال کے یہ کتاب طلبہ تک کیسے پہنچ گئی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ سندھ بورڈ کی ادارتی صلاحیتوں اور معیار پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں تعلیمی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حیاتیات کی درسی کتاب کی میں خوردبین (مایکروسکوپ) کی جگہ ”لیگو“ (LEGO) سے بنے ماڈل کی تصویر چھاپنے پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔</strong></p>
<p>”ریڈٹ“ پر جاری ہونے کے بعد یہ تصویر دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور سوشل میڈیا پر صارفین نے سندھ بورڈ کی عدم توجہی پر شدید غم و غصہ اور طنزیہ تبصرے شروع کر دیے۔</p>
<p>کئی صارفین نے بورڈ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ”بس اتنا ہی بجٹ ہے ہماری قوم کے خزانے میں“۔</p>
<p>ایک اور نے کہا، ”یہ سندھ بورڈ ہے، اور کیا امید رکھ سکتے ہو؟“</p>
<p>جب کہ تیسرے صارف نے مایوسی کے ساتھ لکھا، ”جب بھی سندھ بورڈ کا ذکر آتا ہے، کچھ نیا اور شرمناک ہی سننے کو ملتا ہے۔“</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/031228329a68847.webp'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین تعلیم، طلبہ اور والدین کی جانب سے اس واقعے کو ادارہ جاتی نااہلی کی ایک اور واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اتنی بڑی اور واضح غلطی نظر انداز کیسے ہو گئی اور بغیر کسی جانچ پڑتال کے یہ کتاب طلبہ تک کیسے پہنچ گئی؟</p>
<p>یہ واقعہ سندھ بورڈ کی ادارتی صلاحیتوں اور معیار پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں تعلیمی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30458715</guid>
      <pubDate>Sat, 03 May 2025 12:30:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/03122803b30c06f.webp?r=123009" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/03122803b30c06f.webp?r=123009"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
