<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 08:28:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 08:28:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انتہا پسندوں کے دباؤ پر دی ہندو نے بھارتی طیارہ مار گرائے جانے کی خبر ہٹا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30459693/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی جانب سے &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30459566/"&gt;بھارتی فضائیہ کے پانچ طیارے مار گرانے&lt;/a&gt; کے بعد بھارتی اخبار ”دی ہندو“ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے تصدیق کی کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارتی پنجاب کے ضلع بھٹنڈہ کے گاؤں اکلِیاں کلاں میں ایک نامعلوم طیارہ گر کر تباہ ہوا۔ لیکن بعد میں انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے دباؤ میں آکر خبر ہٹا دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ واقعہ رات کو پیش آیا اور اس کی اطلاع معروف بھارتی صحافی وکاس واسودیو نے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ بھارت نے ابھی تک اپنے کسی بھی طیارے کے مار گرائے جانے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے، تاہم ”دی ہندو“ کی خبر نے پاکستانی مؤقف کو تقویت دے دی ہے۔ جبکہ &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30459665/"&gt;برطانوی خبر رساں ادارے نے تین بھارتی طیاروں کی تباہی کی تصدیق کردی&lt;/a&gt; ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”دی ہندو“ کے سوشل میڈیا پر اس خبر کی اشاعت کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر بھارتی صارفین میں شدید غصہ بھڑک اُٹھا، اور انہوں نے اخبار ”دی ہندو“ کو غلیظ گالیوں اور دھمکیوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30459679/"&gt;بھارتی طیارے گرائے جانے کے بعد جے 10 سی طیارے بنانے والی چینی کمپنی کے شیئرز میں نمایاں اضافہ &lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹر پر ایک صارف ”نکھل گلاوانی“ نے ”دی ہندو“ کو گالیوں سے نواز دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور صارف ”آشیش پٹیال“ نے دھمکی آمیز انداز میں کہا: ”Delete this, as well fire the correspondent or face the rage!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(یعنی: یہ پوسٹ ہٹاؤ، رپورٹر کو بھی نکالو ورنہ عوامی غصے کا سامنا کرو!)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/07123725351c80c.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان نے آج دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے ہیں، جو بھارتی حدود میں جا کر گرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انتہا پسندوں کے دباؤ پر ”دی ہندو“ نے بھارتی طیارہ مار گرائے جانے کی خبر ہٹا دی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں بھارتی اخبار “ دی ہندو“ نے  اپنے پلیٹ فارمز سے اس پوسٹ کو حذف کر دیا جس میں بھارتی طیاروں کے ”آپریشن سندور“ میں مبینہ طور پر شامل ہونے کا ذکر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/08113307a1278b5.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی ہندو کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس خبر میں دی گئی معلومات کی بنیاد کسی باضابطہ سرکاری ریکارڈ یا بھارتی حکومت کے تصدیق شدہ ذرائع پر نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اس پوسٹ کو ہٹا دیا جائے۔ ہمیں افسوس ہے کہ اس خبر سے ہمارے قارئین میں غلط فہمی پیدا ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی جانب سے <a href="https://www.aaj.tv/news/30459566/">بھارتی فضائیہ کے پانچ طیارے مار گرانے</a> کے بعد بھارتی اخبار ”دی ہندو“ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے تصدیق کی کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارتی پنجاب کے ضلع بھٹنڈہ کے گاؤں اکلِیاں کلاں میں ایک نامعلوم طیارہ گر کر تباہ ہوا۔ لیکن بعد میں انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے دباؤ میں آکر خبر ہٹا دی۔</strong></p>
<p>اخبار نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ واقعہ رات کو پیش آیا اور اس کی اطلاع معروف بھارتی صحافی وکاس واسودیو نے دی۔</p>
<p>خیال رہے کہ بھارت نے ابھی تک اپنے کسی بھی طیارے کے مار گرائے جانے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے، تاہم ”دی ہندو“ کی خبر نے پاکستانی مؤقف کو تقویت دے دی ہے۔ جبکہ <a href="https://www.aaj.tv/news/30459665/">برطانوی خبر رساں ادارے نے تین بھارتی طیاروں کی تباہی کی تصدیق کردی</a> ہے۔</p>
<p>”دی ہندو“ کے سوشل میڈیا پر اس خبر کی اشاعت کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر بھارتی صارفین میں شدید غصہ بھڑک اُٹھا، اور انہوں نے اخبار ”دی ہندو“ کو غلیظ گالیوں اور دھمکیوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30459679/">بھارتی طیارے گرائے جانے کے بعد جے 10 سی طیارے بنانے والی چینی کمپنی کے شیئرز میں نمایاں اضافہ </a></strong></p>
<p>ٹوئٹر پر ایک صارف ”نکھل گلاوانی“ نے ”دی ہندو“ کو گالیوں سے نواز دیا۔</p>
<p>ایک اور صارف ”آشیش پٹیال“ نے دھمکی آمیز انداز میں کہا: ”Delete this, as well fire the correspondent or face the rage!“</p>
<p>(یعنی: یہ پوسٹ ہٹاؤ، رپورٹر کو بھی نکالو ورنہ عوامی غصے کا سامنا کرو!)</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/07123725351c80c.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان نے آج دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے ہیں، جو بھارتی حدود میں جا کر گرے۔</p>
<p><strong>انتہا پسندوں کے دباؤ پر ”دی ہندو“ نے بھارتی طیارہ مار گرائے جانے کی خبر ہٹا دی</strong></p>
<p>بعد ازاں بھارتی اخبار “ دی ہندو“ نے  اپنے پلیٹ فارمز سے اس پوسٹ کو حذف کر دیا جس میں بھارتی طیاروں کے ”آپریشن سندور“ میں مبینہ طور پر شامل ہونے کا ذکر تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/08113307a1278b5.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>دی ہندو کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس خبر میں دی گئی معلومات کی بنیاد کسی باضابطہ سرکاری ریکارڈ یا بھارتی حکومت کے تصدیق شدہ ذرائع پر نہیں تھی۔</p>
<p>اس لیے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اس پوسٹ کو ہٹا دیا جائے۔ ہمیں افسوس ہے کہ اس خبر سے ہمارے قارئین میں غلط فہمی پیدا ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30459693</guid>
      <pubDate>Thu, 08 May 2025 11:34:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/0712393140a5b97.webp?r=124020" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/0712393140a5b97.webp?r=124020"/>
        <media:title>علامتی تصویر: اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
