<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 11:30:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Apr 2026 11:30:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پشاور ہائیکورٹ: ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی رہائی کیلئے دائر درخواستیں خارج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30460719/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی سزا مکمل ہونے پر 382 بی کا فائدہ دے کر رہا کرنے کی دائر درخواستیں خارج کردیں جبکہ عدالت نے 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کا سزا مکمل ہونے پر رہائی کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں پر عدالت نے 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے ملزمان کی جانب سے 382 بی کا فائدہ دینے کے لئے دائر درخواستیں خارج کردی۔  فیصلے کے مطابق ملزموں کو آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں دی گئیں، آرمی ایکٹ اسپیشل لا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ملزمان کو سیکشن 382 بی کا فائدہ دیا جا چکا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ملزمان کو اسپیشل لا کے تحت سزائیں دی گئی ہے، عام قانون پر اس کو فوقیت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460541"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق سزا مکمل ہونے کے باوجود ملزمان جیل میں ہیں، سزا مکمل ہونے کے باوجود رہائی نہ ہونا آئین کے آرٹیکل 9، 13، 14، 25 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ملٹری کورٹ سزا اس وقت سے شروع ہوگی جس دن کارروائی مکمل ہوکر دستخط ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان کو 382 (بی) کو فائدہ دیا گیا ہے لہٰذا ملزمان کی درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ملٹری کورٹ نے ایک مجرم کو عمرقید، دوسرےکو 20 سال اور تیسرےکو 16 سال قید کی سزا سنائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے 7 مئی کو سیویلینز کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کا فیصلہ سناتے ہوئے آرمی ایکٹ کو اس کی اصل شکل میں بحال کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی سزا مکمل ہونے پر 382 بی کا فائدہ دے کر رہا کرنے کی دائر درخواستیں خارج کردیں جبکہ عدالت نے 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کا سزا مکمل ہونے پر رہائی کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں پر عدالت نے 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔</p>
<p>عدالت نے ملزمان کی جانب سے 382 بی کا فائدہ دینے کے لئے دائر درخواستیں خارج کردی۔  فیصلے کے مطابق ملزموں کو آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں دی گئیں، آرمی ایکٹ اسپیشل لا ہے۔</p>
<p>ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ملزمان کو سیکشن 382 بی کا فائدہ دیا جا چکا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ملزمان کو اسپیشل لا کے تحت سزائیں دی گئی ہے، عام قانون پر اس کو فوقیت حاصل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460541"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق سزا مکمل ہونے کے باوجود ملزمان جیل میں ہیں، سزا مکمل ہونے کے باوجود رہائی نہ ہونا آئین کے آرٹیکل 9، 13، 14، 25 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ملٹری کورٹ سزا اس وقت سے شروع ہوگی جس دن کارروائی مکمل ہوکر دستخط ہوتے ہیں۔</p>
<p>عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان کو 382 (بی) کو فائدہ دیا گیا ہے لہٰذا ملزمان کی درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ ملٹری کورٹ نے ایک مجرم کو عمرقید، دوسرےکو 20 سال اور تیسرےکو 16 سال قید کی سزا سنائی تھی۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے 7 مئی کو سیویلینز کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کا فیصلہ سناتے ہوئے آرمی ایکٹ کو اس کی اصل شکل میں بحال کردیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30460719</guid>
      <pubDate>Fri, 16 May 2025 12:50:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائبہ حُسن)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/161229028bda3d0.jpg?r=122928" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/161229028bda3d0.jpg?r=122928"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
