<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Living</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 14:23:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 14:23:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر ملکی تعلیم کے خواب خطرے میں، بیرون ملک نوکریاں ملنی بند</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30461208/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے گڑگاؤں کے معروف کاروباری شخصیت راجیش ساونی نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھنے والے بھارتی طلباء اور ان کے والدین کو ایک سخت وارننگ دی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں بین الاقوامی طلباء کے لیے ملازمت کے مواقع تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں اور ان ممالک کے امیگریشن قوانین اب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجیش ساونی جو جی ایس ایف ایکسیلیریٹر کے بانی اور سی ای او ہیں، خود ہارورڈ بزنس اسکول اور لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں لکھا: امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں بین الاقوامی طلباء کے لیے نوکریاں نہیں ہیں۔ ہنی مون ختم ہو چکا ہے، والدین کو مہنگی تعلیم پر کروڑوں خرچ کرنے سے پہلے دو بار سوچنا چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خاص طور پر انجینئرنگ کے طلباء، خاص کر آئی آئی ٹی سے فارغ التحصیل طلباء کے بارے میں کہا کہ پہلے ان کے لیے ایک ”آسان ہیک“ تھا امریکہ جا کر ماسٹرز کرنا اور فوری طور پر 2 لاکھ ڈالر کی نوکری حاصل کرنا لیکن اب یہ طریقہ کار مزید کارگر نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/rajeshsawhney/status/1924090684631322695?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1924090684631322695%7Ctwgr%5Eb6ee51539eba22151902c6052dc5127aa1051d6e%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.timesnownews.com%2Fviral%2Fno-jobs-abroad-gurugram-entrepreneur-warns-indian-parents-against-costly-foreign-degrees-article-151671763"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا اور صارفین کی بڑی تعداد نے اس پر تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا: ”سچ ہے! میں 2017 میں وہاں تھا، لوگ تعلیم کے پہلے کوارٹر میں ہی ڈیدھ لاکھ ڈالر کی آفر حاصل کر رہے تھے۔ اب وہی شخص گوگل میں ہے اور خوفزدہ ہے کہ کہیں نوکری نہ چلی جائے!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/20125829e06d6a8.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور صارف نے اُمید افزا رویہ اپناتے ہوئے کہا: ”میں ان انجینئرز کے لیے زیادہ پر امید ہوں جو واپس بھارت آئیں گے اور اربوں ڈالر کی اسٹارٹ اپ کمپنیاں بنائیں گے۔ سوچیں ان تمام YC اسٹارٹ اپس کا جو بھارتی ہیں اور بھارت سے دنیا کے لیے بنا رہے ہیں یہ واقعی لیجنڈری ہو گا!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/20125835fa01fef.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے گڑگاؤں کے معروف کاروباری شخصیت راجیش ساونی نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھنے والے بھارتی طلباء اور ان کے والدین کو ایک سخت وارننگ دی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں بین الاقوامی طلباء کے لیے ملازمت کے مواقع تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں اور ان ممالک کے امیگریشن قوانین اب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو چکے ہیں۔</strong></p>
<p>راجیش ساونی جو جی ایس ایف ایکسیلیریٹر کے بانی اور سی ای او ہیں، خود ہارورڈ بزنس اسکول اور لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں لکھا: امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں بین الاقوامی طلباء کے لیے نوکریاں نہیں ہیں۔ ہنی مون ختم ہو چکا ہے، والدین کو مہنگی تعلیم پر کروڑوں خرچ کرنے سے پہلے دو بار سوچنا چاہیے۔“</p>
<p>انہوں نے خاص طور پر انجینئرنگ کے طلباء، خاص کر آئی آئی ٹی سے فارغ التحصیل طلباء کے بارے میں کہا کہ پہلے ان کے لیے ایک ”آسان ہیک“ تھا امریکہ جا کر ماسٹرز کرنا اور فوری طور پر 2 لاکھ ڈالر کی نوکری حاصل کرنا لیکن اب یہ طریقہ کار مزید کارگر نہیں رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/rajeshsawhney/status/1924090684631322695?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1924090684631322695%7Ctwgr%5Eb6ee51539eba22151902c6052dc5127aa1051d6e%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.timesnownews.com%2Fviral%2Fno-jobs-abroad-gurugram-entrepreneur-warns-indian-parents-against-costly-foreign-degrees-article-151671763"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا اور صارفین کی بڑی تعداد نے اس پر تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا: ”سچ ہے! میں 2017 میں وہاں تھا، لوگ تعلیم کے پہلے کوارٹر میں ہی ڈیدھ لاکھ ڈالر کی آفر حاصل کر رہے تھے۔ اب وہی شخص گوگل میں ہے اور خوفزدہ ہے کہ کہیں نوکری نہ چلی جائے!“</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/20125829e06d6a8.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک اور صارف نے اُمید افزا رویہ اپناتے ہوئے کہا: ”میں ان انجینئرز کے لیے زیادہ پر امید ہوں جو واپس بھارت آئیں گے اور اربوں ڈالر کی اسٹارٹ اپ کمپنیاں بنائیں گے۔ سوچیں ان تمام YC اسٹارٹ اپس کا جو بھارتی ہیں اور بھارت سے دنیا کے لیے بنا رہے ہیں یہ واقعی لیجنڈری ہو گا!“</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/20125835fa01fef.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30461208</guid>
      <pubDate>Tue, 20 May 2025 13:05:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/20130029ea93922.webp?r=130530" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/20130029ea93922.webp?r=130530"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
