<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 01:33:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 01:33:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>26 نومبر احتجاج: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانتیں منظور کرلیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30461725/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے گزشتہ برس 26 نومبر احتجاج کے دوران گرفتار پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10،10 ہزار کے ضمانتی مچلکوں پررہا کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پی ٹی آئی کے کارکنان کی ضمانت بعد گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے علی بخاری، سردار مصروف، زاہد بشیر ڈار سمیت دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمان کی ضمانتیں منظور کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی بخاری ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ کارکنان کے ضمانتی مچلکے کم مالیت کے رکھے جائیں تاہم عدالت نے پی ٹی آئی کارکنان کے ضمانتی مچلکوں کی رقم کم کرنے کی استدعا بھی منظور کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانتیں 10، 10 ہزار مچلکوں کی عوض منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزمان دیگر مقدمات میں مطلوب نہ ہوں تو ضمانت کے بعد انہیں رہا کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی سربراہی میں خیبرپختونخوا سے آنے والے احتجاجی مارچ نے اسلام آباد میں بیلاروس کے صدر کی موجودگی میں توڑ پھوڑ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں 2 رینجرز اہلکار جاں بحق جب کہ درجنوں پولیس اہلکاز زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے بھی اپنے کارکنوں کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اس حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی احتجاج چھوڑ کر چلے گئے تھے، جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے روز ہی بڑے پیمانے پر کیے گئے کریک ڈاؤن میں پولیس نے تحریک انصاف کے سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے گزشتہ برس 26 نومبر احتجاج کے دوران گرفتار پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10،10 ہزار کے ضمانتی مچلکوں پررہا کرنے کا حکم دے دیا۔</strong></p>
<p>اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پی ٹی آئی کے کارکنان کی ضمانت بعد گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کی۔</p>
<p>پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے علی بخاری، سردار مصروف، زاہد بشیر ڈار سمیت دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمان کی ضمانتیں منظور کیں۔</p>
<p>علی بخاری ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ کارکنان کے ضمانتی مچلکے کم مالیت کے رکھے جائیں تاہم عدالت نے پی ٹی آئی کارکنان کے ضمانتی مچلکوں کی رقم کم کرنے کی استدعا بھی منظور کرلی۔</p>
<p>اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانتیں 10، 10 ہزار مچلکوں کی عوض منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزمان دیگر مقدمات میں مطلوب نہ ہوں تو ضمانت کے بعد انہیں رہا کر دیا جائے۔</p>
<p>یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی سربراہی میں خیبرپختونخوا سے آنے والے احتجاجی مارچ نے اسلام آباد میں بیلاروس کے صدر کی موجودگی میں توڑ پھوڑ کی تھی۔</p>
<p>اس دوران فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں 2 رینجرز اہلکار جاں بحق جب کہ درجنوں پولیس اہلکاز زخمی ہوگئے تھے۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے بھی اپنے کارکنوں کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اس حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے تھے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی احتجاج چھوڑ کر چلے گئے تھے، جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>اگلے روز ہی بڑے پیمانے پر کیے گئے کریک ڈاؤن میں پولیس نے تحریک انصاف کے سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30461725</guid>
      <pubDate>Thu, 22 May 2025 18:15:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف نوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/2218134472b1d87.jpg?r=181534" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/2218134472b1d87.jpg?r=181534"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
