<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:33:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:33:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی بوکھلاہٹ، ہیلتھ ورکر کو پاکستان کیلئے جاسوسی کا الزام لگاکر پکڑ لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30462118/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے گجرات سے ایک ہیلتھ ورکر کو پاکستان کیلئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیا ٹوڈے کے مطابق گجرات کے اینٹی ٹیرارزم اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے رن آف کچھ میں ہیلتھ ورکر کی خدمات ادا کرنے والے رضاکار 28 سالہ سہا دیو سنگھ گوہل کو گرفتار کرکے تفتیش کے لیے احمد آباد منتقل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرفتار کیے گئے طبی رضاکار سے تحویل میں لیے گئے فون کو فرانزک تفتیش کے لیے بھیج دیا گیا۔
بھارتی حکام نے الزام لگایا کہ ملزم نے پاکستان کے لیے جاسوسی کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے پاکستان کو بھارت کی حساس تنصیبات کی معلومات فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سہا دیو سنگھ  پر الزام ہے کہ اس نے واٹس ایپ کے ذریعے ریاست گجرات میں بھارتی ایئرفورس سمیت دیگر فوجی تنصیبات کی معلومات اور تصاویر کو پاکستانیوں کے ساتھ شیئر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے خفیہ ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے لیے جاسوسی کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے دعویٰ کیا کہ ساہ دیو سنگھ گوہل نے بتایا کہ 2023 میں ادیتی بھردواج نامی خاتون نے ان سے واٹس ایپ پر رابطہ کیا اور بعد ازاں معلوم ہوا کہ ان سے رابطہ کرنے والی پاکستانی ایجنٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ٹی ایس افسر کے مطابق خاتون کا واٹس ایپ جس نمبر پر تھا، اس کا سم کارڈ بھی گوہل نے اپنے شناخت پر نکلوایا تھا، گوہل کا موبائل فون فارنزک کےلیے بھیج دیا گیا ہے جبکہ اس کے خلاف درج مقدمے میں بھارتی فوجداری قوانین کی دفعات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ طبی رضاکار کی گرفتاری سے قبل گزشتہ ہفتے بھارتی پولیس نے پنجابی خاتون یوٹیوبر کو بھی پاکستان کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی پولیس نے حالیہ دو ہفتوں کے دوران ملک کے مختلف شہروں سے یوٹیوبرز، طبی رضاکاروں اور عام افراد سمیت مختلف شعبہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے ایک درجن کے قریب افراد کو پاکستان کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے گجرات سے ایک ہیلتھ ورکر کو پاکستان کیلئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔</strong></p>
<p>انڈیا ٹوڈے کے مطابق گجرات کے اینٹی ٹیرارزم اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے رن آف کچھ میں ہیلتھ ورکر کی خدمات ادا کرنے والے رضاکار 28 سالہ سہا دیو سنگھ گوہل کو گرفتار کرکے تفتیش کے لیے احمد آباد منتقل کردیا۔</p>
<p>گرفتار کیے گئے طبی رضاکار سے تحویل میں لیے گئے فون کو فرانزک تفتیش کے لیے بھیج دیا گیا۔
بھارتی حکام نے الزام لگایا کہ ملزم نے پاکستان کے لیے جاسوسی کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے پاکستان کو بھارت کی حساس تنصیبات کی معلومات فراہم کی۔</p>
<p>سہا دیو سنگھ  پر الزام ہے کہ اس نے واٹس ایپ کے ذریعے ریاست گجرات میں بھارتی ایئرفورس سمیت دیگر فوجی تنصیبات کی معلومات اور تصاویر کو پاکستانیوں کے ساتھ شیئر کیا۔</p>
<p>ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے خفیہ ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے لیے جاسوسی کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>پولیس نے دعویٰ کیا کہ ساہ دیو سنگھ گوہل نے بتایا کہ 2023 میں ادیتی بھردواج نامی خاتون نے ان سے واٹس ایپ پر رابطہ کیا اور بعد ازاں معلوم ہوا کہ ان سے رابطہ کرنے والی پاکستانی ایجنٹ ہے۔</p>
<p>اے ٹی ایس افسر کے مطابق خاتون کا واٹس ایپ جس نمبر پر تھا، اس کا سم کارڈ بھی گوہل نے اپنے شناخت پر نکلوایا تھا، گوہل کا موبائل فون فارنزک کےلیے بھیج دیا گیا ہے جبکہ اس کے خلاف درج مقدمے میں بھارتی فوجداری قوانین کی دفعات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ طبی رضاکار کی گرفتاری سے قبل گزشتہ ہفتے بھارتی پولیس نے پنجابی خاتون یوٹیوبر کو بھی پاکستان کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔</p>
<p>بھارتی پولیس نے حالیہ دو ہفتوں کے دوران ملک کے مختلف شہروں سے یوٹیوبرز، طبی رضاکاروں اور عام افراد سمیت مختلف شعبہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے ایک درجن کے قریب افراد کو پاکستان کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30462118</guid>
      <pubDate>Sat, 24 May 2025 22:03:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/241954360e02191.webp?r=195756" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/241954360e02191.webp?r=195756"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
