<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:47:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:47:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین نے روس کو اسلحہ فراہم کرنے کے یوکرینی الزامات کی سختی سے تردید کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30462579/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کی وزارت خارجہ نے یوکرین کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات کی ’سختی سے تردید‘ کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ چین روس کو مہلک ہتھیار، خصوصی کیمیائی اشیاء، گن پاؤڈر اور دفاعی صنعت کے اجزاء فراہم کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وضاحت چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے 27 مئی کو ایک پریس کانفرنس کے دوران دی، جہاں انہوں نے یوکرینی انٹیلی جنس کے سربراہ اولیگ اِیواشچینکو کے حالیہ بیان کا جواب دیا۔ ایواشچینکو نے دعویٰ کیا تھا کہ بیجنگ روس کی کم از کم 20 دفاعی فیکٹریوں کو درکار اشیاء فراہم کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2025 کے اوائل تک روسی ڈرونز میں استعمال ہونے والے 80 فیصد اہم الیکٹرانک پرزے چینی نژاد ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی ترجمان ماؤ نِنگ نے ان الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی مفروضوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا، ’چین کی پوزیشن یوکرین جنگ کے حوالے سے ہمیشہ سے واضح اور مستقل رہی ہے۔ ہم جنگ بندی کے قیام اور امن مذاکرات کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ چین نے کبھی کسی فریق کو مہلک ہتھیار فراہم نہیں کیے اور دوہرے استعمال کی اشیاء پر سخت کنٹرول رکھا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30436337/"&gt;چینی اور روسی صدور کو ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات بحال ہونے کی امید&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کو اس حقیقت کا بخوبی علم ہے، اور چین سیاسی چالاکیوں اور بے بنیاد الزامات کی سخت مخالفت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرینی میڈیا کا کہنا پہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب چین اور روس کے باہمی تعلقات مزید گہرے ہو چکے ہیں۔ چین روس کو دوہرے استعمال کی اشیاء (dual-use goods) فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے، جن کا استعمال دفاعی صنعت میں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ چین خود کو اس جنگ میں ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، مگر اس نے امریکا اور اس کے اتحادیوں پر یوکرین کو اسلحہ فراہم کر کے جنگ کو مزید بھڑکانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ نیٹو نے چین کو روسی جارحیت کا ’فیصلہ کن معاون‘ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30461125/"&gt;فلسطینیوں کی زمین غصب کرنے کے یہودی منصوبے کے بعد چین کا واضح موقف سامنے آگیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی نے 17 اپریل کو یہ دعویٰ کیا تھا کہ چین براہِ راست روسی فوج کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے، جو کہ پہلی بار یوکرین کی طرف سے اس نوعیت کا کھلا الزام تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے صدر شی جن پنگ کے حالیہ دورۂ ماسکو کے دوران دونوں ممالک نے امریکا کی ’دوہری مزاحمت‘ کی پالیسی کے خلاف باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کی وزارت خارجہ نے یوکرین کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات کی ’سختی سے تردید‘ کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ چین روس کو مہلک ہتھیار، خصوصی کیمیائی اشیاء، گن پاؤڈر اور دفاعی صنعت کے اجزاء فراہم کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>یہ وضاحت چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے 27 مئی کو ایک پریس کانفرنس کے دوران دی، جہاں انہوں نے یوکرینی انٹیلی جنس کے سربراہ اولیگ اِیواشچینکو کے حالیہ بیان کا جواب دیا۔ ایواشچینکو نے دعویٰ کیا تھا کہ بیجنگ روس کی کم از کم 20 دفاعی فیکٹریوں کو درکار اشیاء فراہم کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2025 کے اوائل تک روسی ڈرونز میں استعمال ہونے والے 80 فیصد اہم الیکٹرانک پرزے چینی نژاد ہوں گے۔</p>
<p>چینی ترجمان ماؤ نِنگ نے ان الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی مفروضوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا، ’چین کی پوزیشن یوکرین جنگ کے حوالے سے ہمیشہ سے واضح اور مستقل رہی ہے۔ ہم جنگ بندی کے قیام اور امن مذاکرات کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ چین نے کبھی کسی فریق کو مہلک ہتھیار فراہم نہیں کیے اور دوہرے استعمال کی اشیاء پر سخت کنٹرول رکھا ہے۔‘</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30436337/">چینی اور روسی صدور کو ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات بحال ہونے کی امید</a></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کو اس حقیقت کا بخوبی علم ہے، اور چین سیاسی چالاکیوں اور بے بنیاد الزامات کی سخت مخالفت کرتا ہے۔</p>
<p>یوکرینی میڈیا کا کہنا پہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب چین اور روس کے باہمی تعلقات مزید گہرے ہو چکے ہیں۔ چین روس کو دوہرے استعمال کی اشیاء (dual-use goods) فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے، جن کا استعمال دفاعی صنعت میں ہوتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ چین خود کو اس جنگ میں ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، مگر اس نے امریکا اور اس کے اتحادیوں پر یوکرین کو اسلحہ فراہم کر کے جنگ کو مزید بھڑکانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ نیٹو نے چین کو روسی جارحیت کا ’فیصلہ کن معاون‘ قرار دیا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30461125/">فلسطینیوں کی زمین غصب کرنے کے یہودی منصوبے کے بعد چین کا واضح موقف سامنے آگیا</a></p>
<p>واضح رہے کہ یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی نے 17 اپریل کو یہ دعویٰ کیا تھا کہ چین براہِ راست روسی فوج کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے، جو کہ پہلی بار یوکرین کی طرف سے اس نوعیت کا کھلا الزام تھا۔</p>
<p>چین کے صدر شی جن پنگ کے حالیہ دورۂ ماسکو کے دوران دونوں ممالک نے امریکا کی ’دوہری مزاحمت‘ کی پالیسی کے خلاف باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30462579</guid>
      <pubDate>Wed, 28 May 2025 10:26:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/28102646087039c.webp?r=102652" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/28102646087039c.webp?r=102652"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
