<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 21:34:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 21:34:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے ایف آئی سی سے کامیاب سرجری، عبداللہ اور منسا کے والد کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اظہارِ تشکر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30462681/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عبداللہ اور منسا کا علاج بھارت میں جاری تھا مگر کشیدگی کے باعث بھارتی حکومت نے دونوں بچوں کو واپس بھیج دیا۔ اس حوالے سے عبداللہ اور منسا کے والد شاہد احمد کا کہنا ہے کہ ’’عبداللہ اور منسا کے کیس کا فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فوری نوٹس لیا اور اے ایف آئی سی نے سرجری کی۔‘‘ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر نصیر احمد سومرو کا کہنا ہے کہ اے ایف آئی سی میں کارڈیالوجی کے علاج کیلئے بہترین سروسز دی جاتی ہیں، ٹیم نے ان دونوں بچوں کا علاج پلان کیا اور الحمد اللہ، اللہ نے ہمیں کامیابی دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والد شاہد احمد نے کہا کہ دونوں بچوں کی سرجری 9 سال سے نہیں ہو رہی تھی،  اے ایف آئی سی کے ڈاکٹروں نے محنت کر کے اس سرجری کو کامیابی سے سرانجام دیا، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے بچوں کی ذمہ داری لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے کہا کہ الحمد اللہ اب میرے بچے کافی بہتر ہیں، میں خود بھی مریض ہوں شاید صدمہ برداشت نہ کر پاتا، ڈاکٹروں نے بہت محنت کی جو قابل تعریف ہے، اے ایف آئی سی بہت بہترین ادارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمانڈنٹ/ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل (ر) ڈاکٹر نصیر احمد سومرو کا کہنا تھا کہ ’’اے ایف آئی سی پاکستان کا ایک پریمیئر کارڈیالوجی کا انسٹیٹیویٹ ہے‘‘ اے ایف آئی سی میں کارڈیالوجی کے علاج کیلئے بہترین سروسز دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میجر جنرل(ر) ڈاکٹر نصیر احمد سومرو نے بتایا کہ عبداللہ اور منسا دونوں بہن بھائی علاج کیلئے بھارت گئے تھے،  پاک بھارت کشیدگی کے باعث بھارت نے بچوں کا علاج کرنے سے انکار کردیا اور بچے پاکستان واپس آ گئے، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈر مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی ہدایات پر ان بچوں کو یہاں بلایا گیا، یہاں پر ان بچوں کی اسسمنٹ کے بعد ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نصیر احمد سومرو نے کہا کہ اس ٹیم نے ان دونوں بچوں کا علاج پلان کیا اور الحمد اللہ، اللہ نے ہمیں کامیابی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی کمانڈنٹ اے ایف آئی سی بریگیڈئر ڈاکٹر خرم اختر کا کہنا تھا کہ ’’عبداللہ کے حوالے سے ہم  نے ایک میڈیکل پلان مرتب کیا جو الحمدللہ ٹھیک رہا۔‘‘ ہمارے پاس الحمد اللہ قابل ٹیم ہے اور غیر ممالک سے تربیت یافتہ ہے، عبداللہ اور منسا کو دل کی نہایت پیچیدہ بیماری تھی جس کے باعث ان کی سرجری ایک مرحلے میں مکمل نہیں ہوسکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریگیڈئر ڈاکٹر خرم اختر نے بتایا کہ عبداللہ کی یہ سرجری پانچ سے چھ گھنٹے پر محیط تھی جو الحمد اللہ  کامیاب رہی، اس موقع پر کرنل ڈاکٹر داؤد کمال نے کہا کہ ہم نے ان کو وہ پلان دیا جو بھارت کے ڈاکٹرز کی جانب سے دیئے گئے پلان سے بہت بہتر تھا، الحمد اللہ دونوں بچے بہت بہتر ہیں اور گھر جانے کی پوزیشن میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنل ڈاکٹر محمد عبداللہ نے بتایا کہ یہ بچے جب بھارت سے واپس آئے تو ان کے کیسز anesthesia کے نقطہ نظر سے مشکل تھے۔ کرنل ڈاکٹر محمد عدنان اکرم نے کہا کہ بھارت سے واپس آنے والے عبداللہ کا کیس ہماری ٹیم کیلئے چیلنج تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عبداللہ اور منسا کا علاج بھارت میں جاری تھا مگر کشیدگی کے باعث بھارتی حکومت نے دونوں بچوں کو واپس بھیج دیا۔ اس حوالے سے عبداللہ اور منسا کے والد شاہد احمد کا کہنا ہے کہ ’’عبداللہ اور منسا کے کیس کا فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فوری نوٹس لیا اور اے ایف آئی سی نے سرجری کی۔‘‘ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر نصیر احمد سومرو کا کہنا ہے کہ اے ایف آئی سی میں کارڈیالوجی کے علاج کیلئے بہترین سروسز دی جاتی ہیں، ٹیم نے ان دونوں بچوں کا علاج پلان کیا اور الحمد اللہ، اللہ نے ہمیں کامیابی دی۔</strong></p>
<p>والد شاہد احمد نے کہا کہ دونوں بچوں کی سرجری 9 سال سے نہیں ہو رہی تھی،  اے ایف آئی سی کے ڈاکٹروں نے محنت کر کے اس سرجری کو کامیابی سے سرانجام دیا، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے بچوں کی ذمہ داری لی۔</p>
<p>انھوں نے کہا کہ الحمد اللہ اب میرے بچے کافی بہتر ہیں، میں خود بھی مریض ہوں شاید صدمہ برداشت نہ کر پاتا، ڈاکٹروں نے بہت محنت کی جو قابل تعریف ہے، اے ایف آئی سی بہت بہترین ادارہ ہے۔</p>
<p>کمانڈنٹ/ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل (ر) ڈاکٹر نصیر احمد سومرو کا کہنا تھا کہ ’’اے ایف آئی سی پاکستان کا ایک پریمیئر کارڈیالوجی کا انسٹیٹیویٹ ہے‘‘ اے ایف آئی سی میں کارڈیالوجی کے علاج کیلئے بہترین سروسز دی جاتی ہیں۔</p>
<p>میجر جنرل(ر) ڈاکٹر نصیر احمد سومرو نے بتایا کہ عبداللہ اور منسا دونوں بہن بھائی علاج کیلئے بھارت گئے تھے،  پاک بھارت کشیدگی کے باعث بھارت نے بچوں کا علاج کرنے سے انکار کردیا اور بچے پاکستان واپس آ گئے، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈر مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی ہدایات پر ان بچوں کو یہاں بلایا گیا، یہاں پر ان بچوں کی اسسمنٹ کے بعد ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔</p>
<p>ڈاکٹر نصیر احمد سومرو نے کہا کہ اس ٹیم نے ان دونوں بچوں کا علاج پلان کیا اور الحمد اللہ، اللہ نے ہمیں کامیابی دی۔</p>
<p>ڈپٹی کمانڈنٹ اے ایف آئی سی بریگیڈئر ڈاکٹر خرم اختر کا کہنا تھا کہ ’’عبداللہ کے حوالے سے ہم  نے ایک میڈیکل پلان مرتب کیا جو الحمدللہ ٹھیک رہا۔‘‘ ہمارے پاس الحمد اللہ قابل ٹیم ہے اور غیر ممالک سے تربیت یافتہ ہے، عبداللہ اور منسا کو دل کی نہایت پیچیدہ بیماری تھی جس کے باعث ان کی سرجری ایک مرحلے میں مکمل نہیں ہوسکتی تھی۔</p>
<p>بریگیڈئر ڈاکٹر خرم اختر نے بتایا کہ عبداللہ کی یہ سرجری پانچ سے چھ گھنٹے پر محیط تھی جو الحمد اللہ  کامیاب رہی، اس موقع پر کرنل ڈاکٹر داؤد کمال نے کہا کہ ہم نے ان کو وہ پلان دیا جو بھارت کے ڈاکٹرز کی جانب سے دیئے گئے پلان سے بہت بہتر تھا، الحمد اللہ دونوں بچے بہت بہتر ہیں اور گھر جانے کی پوزیشن میں ہیں۔</p>
<p>کرنل ڈاکٹر محمد عبداللہ نے بتایا کہ یہ بچے جب بھارت سے واپس آئے تو ان کے کیسز anesthesia کے نقطہ نظر سے مشکل تھے۔ کرنل ڈاکٹر محمد عدنان اکرم نے کہا کہ بھارت سے واپس آنے والے عبداللہ کا کیس ہماری ٹیم کیلئے چیلنج تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30462681</guid>
      <pubDate>Wed, 28 May 2025 18:52:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/281844559f8bf93.jpg?r=184847" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/281844559f8bf93.jpg?r=184847"/>
        <media:title>ویڈیو گریب تصویر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
