<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 05:37:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 05:37:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی مظالم کیخلاف احتجاج: ترک کنگ فو چیمپئن نے طلائی تمغہ دریائے نیل میں پھینک دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30463016/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترکی کے معروف کنگ فو چیمپئن نجم الدین اربکان آکیوز نے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری حملوں اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاجاً اپنا طلائی تمغہ دریائے نیل میں پھینک دیا ہے۔ یہ تمغہ انہوں نے 2023 کی یورپی کنگ فو چیمپئن شپ میں جیتا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نجم الدین اربکان آکیوز نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ان کی کوئی بھی کامیابی مظلوم فلسطینیوں کے خون کے ایک قطرے سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی چیمپئن شپ کی جانب سے فلسطینی کاز کی حمایت کے بجائے اسرائیلی مظالم پر خاموشی اختیار کی گئی، جس کے خلاف وہ مزید خاموش نہیں رہ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ چیمپئن شپ میں جیت کے فوراً بعد جب انہوں نے تقریب میں فلسطین کا پرچم بلند کیا اور فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا تو ٹورنامنٹ منتظمین نے اسے ناپسند کیا۔ ان کے خلاف باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئیں اور ان کا ٹائٹل بھی معطل کر دیا گیا، تاہم وہ اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجم الدین نے 26 مئی کو جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں اعلان کیا کہ وہ کسی ایسی کامیابی کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے جسے وہ اخلاقی طور پر درست نہ سمجھیں۔ اس کے بعد انہوں نے مصر میں دریائے نیل کے کنارے کھڑے ہو کر اپنا طلائی تمغہ پانی میں پھینک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/springnm1/status/1928150104839422042"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بیان میں انہوں نے اسرائیل اور اس کے حامی عالمی طاقتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے میدان میں بھی یہودی لابی اپنے مفادات کے لیے کام کرتی ہے اور دوسروں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق یورپی چیمپئن شپ کے منتظمین نے ان کے ساتھ متعصبانہ سلوک کیا اور انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ حق اور سچ کا ساتھ دیتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجم الدین نے کہا کہ جب تک ہم زندہ ہیں، یہ زمینیں تمہارے کسی کام نہیں آئیں گی، اور ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
ان کے اس اقدام کو سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر وسیع پذیرائی مل رہی ہے اور اسے فلسطین سے یکجہتی کے ایک باوقار اور جرات مندانہ اظہار کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترکی کے معروف کنگ فو چیمپئن نجم الدین اربکان آکیوز نے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری حملوں اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاجاً اپنا طلائی تمغہ دریائے نیل میں پھینک دیا ہے۔ یہ تمغہ انہوں نے 2023 کی یورپی کنگ فو چیمپئن شپ میں جیتا تھا۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نجم الدین اربکان آکیوز نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ان کی کوئی بھی کامیابی مظلوم فلسطینیوں کے خون کے ایک قطرے سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی چیمپئن شپ کی جانب سے فلسطینی کاز کی حمایت کے بجائے اسرائیلی مظالم پر خاموشی اختیار کی گئی، جس کے خلاف وہ مزید خاموش نہیں رہ سکتے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ چیمپئن شپ میں جیت کے فوراً بعد جب انہوں نے تقریب میں فلسطین کا پرچم بلند کیا اور فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا تو ٹورنامنٹ منتظمین نے اسے ناپسند کیا۔ ان کے خلاف باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئیں اور ان کا ٹائٹل بھی معطل کر دیا گیا، تاہم وہ اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔</p>
<p>نجم الدین نے 26 مئی کو جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں اعلان کیا کہ وہ کسی ایسی کامیابی کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے جسے وہ اخلاقی طور پر درست نہ سمجھیں۔ اس کے بعد انہوں نے مصر میں دریائے نیل کے کنارے کھڑے ہو کر اپنا طلائی تمغہ پانی میں پھینک دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/springnm1/status/1928150104839422042"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اپنے بیان میں انہوں نے اسرائیل اور اس کے حامی عالمی طاقتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے میدان میں بھی یہودی لابی اپنے مفادات کے لیے کام کرتی ہے اور دوسروں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق یورپی چیمپئن شپ کے منتظمین نے ان کے ساتھ متعصبانہ سلوک کیا اور انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ حق اور سچ کا ساتھ دیتے رہیں گے۔</p>
<p>نجم الدین نے کہا کہ جب تک ہم زندہ ہیں، یہ زمینیں تمہارے کسی کام نہیں آئیں گی، اور ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
ان کے اس اقدام کو سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر وسیع پذیرائی مل رہی ہے اور اسے فلسطین سے یکجہتی کے ایک باوقار اور جرات مندانہ اظہار کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30463016</guid>
      <pubDate>Fri, 30 May 2025 10:57:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/30104833aa862a3.webp?r=104839" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/30104833aa862a3.webp?r=104839"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
