<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 18:09:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 18:09:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صنعتی و ٹیکنالوجی زونز کی مراعات مرحلہ وار ختم کی جائیں، آئی ایم ایف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30464200/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان سے جاری مذاکرات میں زور دیا ہے کہ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اور صنعتی زونز کو دی گئی مراعات کو مرحلہ وار ختم کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف حکام کے مطابق پاکستان کو 2035 تک تمام مراعات کے خاتمے کا ایک جامع پلان تیار کرنا ہوگا، جو رواں سال کے آخرتک مکمل کرکے پیش کیا جانا لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہ پلان پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ جاری معاہدے کے تحت مرتب کرنا ہوگا، تاکہ مالیاتی نظم و ضبط اور محصولات میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30463993/"&gt;آئی ایم ایف کا بجٹ پر دباؤ، اسٹاف لیول معاہدے کے تحت منظور کرانے کی شرط&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے تحت ترتیب دیا جا رہا ہے، جس کے باعث حکومت کو تمام مالیاتی اہداف ہر صورت حاصل کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30464080/"&gt;نئے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 17,500 ارب روپے مقرر کیے جانے کا تخمینہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئندہ بجٹ میں کسی بڑے ترقیاتی منصوبے کو شامل کرنا اور اس کی تکمیل یقینی بنانا ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ بجٹ خسارے اور مالیاتی پابندیوں کے باعث حکومت کو کفایت شعاری کی پالیسی اپنانا پڑے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان سے جاری مذاکرات میں زور دیا ہے کہ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اور صنعتی زونز کو دی گئی مراعات کو مرحلہ وار ختم کیا جائے۔</strong></p>
<p>آئی ایم ایف حکام کے مطابق پاکستان کو 2035 تک تمام مراعات کے خاتمے کا ایک جامع پلان تیار کرنا ہوگا، جو رواں سال کے آخرتک مکمل کرکے پیش کیا جانا لازمی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق یہ پلان پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ جاری معاہدے کے تحت مرتب کرنا ہوگا، تاکہ مالیاتی نظم و ضبط اور محصولات میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30463993/">آئی ایم ایف کا بجٹ پر دباؤ، اسٹاف لیول معاہدے کے تحت منظور کرانے کی شرط</a></strong></p>
<p>وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے تحت ترتیب دیا جا رہا ہے، جس کے باعث حکومت کو تمام مالیاتی اہداف ہر صورت حاصل کرنا ہوں گے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30464080/">نئے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 17,500 ارب روپے مقرر کیے جانے کا تخمینہ</a></strong></p>
<p>ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئندہ بجٹ میں کسی بڑے ترقیاتی منصوبے کو شامل کرنا اور اس کی تکمیل یقینی بنانا ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ بجٹ خسارے اور مالیاتی پابندیوں کے باعث حکومت کو کفایت شعاری کی پالیسی اپنانا پڑے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30464200</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Jun 2025 11:00:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/06/05105837f4f5607.jpg?r=110041" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/06/05105837f4f5607.jpg?r=110041"/>
        <media:title>فائل فوٹیج
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
