<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 22:53:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 22:53:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم کورٹ کے فیصلے سے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں حکمران اتحاد کو بڑا فائدہ مل گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30468433/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے فیصلے سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں حکمران اتحاد کو بڑا فائدہ مل گیا، قومی اسمبلی میں نون لیگ کو 15، پیپلزپارٹی کو 4 اضافی سیٹیں مل گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں حکمران اتحاد کی قومی اسمبلی میں نشستوں میں اضافہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے سے قبل پارٹی پوزیشن میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کے ارکان کی مجموعی تعداد 218 تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم لیگ (ن) کے 110، پاکستان پیپلز پارٹی کے 70، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے 22 اور مسلم لیگ (ق) کے 5 ارکان ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی پوزیشن کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے مجموعی ارکان کی تعداد 100 بتائی گئی ہے جس میں سنی اتحاد کونسل کے 80، پاکستان تحریکِ انصاف کی حمایت سے کامیاب ہونے والے 8 آزاد ارکان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 8 ارکان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو 15، پاکستان پیپلز پارٹی کو 4، جے یو آئی (ف) کو 3 اضافی نشستیں ملی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 125، پیپلزپارٹی کے 74 اراکین ہوں گے جب کہ جے یو آئی کو بھی فیصلے سے فائدہ پہنچا ہے، اور ان کے ارکان کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اضافی نشستیں ملنے سے حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی ہے، 336 کے ایوان میں دو تہائی اکثریت کے لیے 224 اراکین کی ضرورت ہے، حکمران اتحاد کو 237اراکین کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 5 کے مقابلے میں 7 کی اکثریت سے مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستیں منظور کرلیں، عدالت نے مختصر فیصلے میں 12 جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ کے فیصلے سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں حکمران اتحاد کو بڑا فائدہ مل گیا، قومی اسمبلی میں نون لیگ کو 15، پیپلزپارٹی کو 4 اضافی سیٹیں مل گئیں۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں حکمران اتحاد کی قومی اسمبلی میں نشستوں میں اضافہ ہو گیا۔</p>
<p>مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے سے قبل پارٹی پوزیشن میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کے ارکان کی مجموعی تعداد 218 تھی۔</p>
<p>مسلم لیگ (ن) کے 110، پاکستان پیپلز پارٹی کے 70، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے 22 اور مسلم لیگ (ق) کے 5 ارکان ہیں۔</p>
<p>پارٹی پوزیشن کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے مجموعی ارکان کی تعداد 100 بتائی گئی ہے جس میں سنی اتحاد کونسل کے 80، پاکستان تحریکِ انصاف کی حمایت سے کامیاب ہونے والے 8 آزاد ارکان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 8 ارکان شامل ہیں۔</p>
<p>قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو 15، پاکستان پیپلز پارٹی کو 4، جے یو آئی (ف) کو 3 اضافی نشستیں ملی ہیں۔</p>
<p>اس فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 125، پیپلزپارٹی کے 74 اراکین ہوں گے جب کہ جے یو آئی کو بھی فیصلے سے فائدہ پہنچا ہے، اور ان کے ارکان کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔</p>
<p>اضافی نشستیں ملنے سے حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی ہے، 336 کے ایوان میں دو تہائی اکثریت کے لیے 224 اراکین کی ضرورت ہے، حکمران اتحاد کو 237اراکین کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 5 کے مقابلے میں 7 کی اکثریت سے مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستیں منظور کرلیں، عدالت نے مختصر فیصلے میں 12 جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30468433</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Jun 2025 21:27:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/06/27211842297c01a.jpg?r=211947" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/06/27211842297c01a.jpg?r=211947"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
