<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 17:50:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 17:50:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ کا کراچی لیاری سانحے پر اظہار افسوس، ریسکیو آپریشن میں مشکلات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30470311/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے لیاری، بغدادی میں جمعہ کے روز گرنے والی رہائشی عمارت کے ملبے تلے سے اب تک 27 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور ملبے تلے اب بھی 10 سے 12 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ لیاری واقعے میں المناک جانی نقصان پر گہرا دکھ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے مکمل ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہادر ریسکیو ورکرز کے ساتھ کھڑی ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں انتھک محنت سے امدادی کارروائیاں انجام دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/07/0612031027b663b.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ریسکیو انچارج حمیر واحد کے مطابق، ریسکیو ٹیموں کو آپریشن کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موبائل سگنلز کی عدم دستیابی اور جگہ جگہ رکاوٹوں کی وجہ سے ہیوی مشینری بروقت موقع پر نہیں پہنچ پا رہی۔ تنگ گلیوں اور ہجوم کے باعث ریسکیو کا عمل مزید پیچیدہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انچارج حمیر واحد نے بتایا کہ ’آخری بچے زید کی لاش نکالنے میں دو گھنٹے سے زائد کا وقت لگا، جبکہ اب بھی ملبے تلے ایک رکشہ ڈرائیور کے دبے ہونے کا خدشہ ہے جس کی تلاش کے لیے آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حمیر کے مطابق، اب تک 95 فیصد ریسکیو آپریشن مکمل کیا جا چکا ہے، تاہم باقی رہ جانے والے افراد کی تلاش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے لیاری، بغدادی میں جمعہ کے روز گرنے والی رہائشی عمارت کے ملبے تلے سے اب تک 27 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور ملبے تلے اب بھی 10 سے 12 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ لیاری واقعے میں المناک جانی نقصان پر گہرا دکھ ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے مکمل ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہادر ریسکیو ورکرز کے ساتھ کھڑی ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں انتھک محنت سے امدادی کارروائیاں انجام دیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/07/0612031027b663b.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جانب ریسکیو انچارج حمیر واحد کے مطابق، ریسکیو ٹیموں کو آپریشن کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موبائل سگنلز کی عدم دستیابی اور جگہ جگہ رکاوٹوں کی وجہ سے ہیوی مشینری بروقت موقع پر نہیں پہنچ پا رہی۔ تنگ گلیوں اور ہجوم کے باعث ریسکیو کا عمل مزید پیچیدہ ہے۔</p>
<p>انچارج حمیر واحد نے بتایا کہ ’آخری بچے زید کی لاش نکالنے میں دو گھنٹے سے زائد کا وقت لگا، جبکہ اب بھی ملبے تلے ایک رکشہ ڈرائیور کے دبے ہونے کا خدشہ ہے جس کی تلاش کے لیے آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا۔‘</p>
<p>حمیر کے مطابق، اب تک 95 فیصد ریسکیو آپریشن مکمل کیا جا چکا ہے، تاہم باقی رہ جانے والے افراد کی تلاش جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30470311</guid>
      <pubDate>Sun, 06 Jul 2025 12:03:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/07/06120226d2650af.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/07/06120226d2650af.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
